میں نے چاہا تھا ترے درد سے محظوظ رہوںدرد بھی وہ کہ جسے میرؔ نہیں کھینچ سکا
Read MoreCategory: ع
قابل اجمیری
عجیب چیز ہے خاکسترِ محبت بھی ذرا کسی نے چھوا اور آگ ابھر آئی
Read Moreقابل اجمیری
عمر بھر ہم سمجھ سکے نہ تجھے آج سمجھا رہی ہے تیری یاد
Read Moreعاکف غنی
عشق کے سیل کو روکنے کے لیے غم کی دیوار رستے میں رکھ دی گئی
Read Moreمحسن اسرار
عجب ڈر ہے تعلق ٹوٹنے کا یقیں آیا ہے تو شک میں پڑے ہیں
Read Moreعرش ملسیانی
علم کا راز عرشؔ بس یہ ہے کچھ ادھر کچھ ادھر سے پوچھ لیا
Read Moreاعجاز عبید ۔۔۔ وہ جسے سن سکے وہ صدا مانگ لوں
وہ جسے سن سکے وہ صدا مانگ لوں جاگنے کی ہے شب کچھ دعا مانگ لوں اس مرض کی تو شاید دوا ہی نہیں دے رہا ہے وہ، دل کی شفا مانگ لوں عفو ہوتے ہوں آزار سے گر گناہ میں بھی رسوائی کی کچھ جزا مانگ لوں شاید اس بار اس سے ملاقات ہو بارے اب سچے دل سے دعا مانگ لوں یہ خزانہ لٹانے کو آیا ہوں میں اس کو ڈر ہے کہ اب جانے کیا مانگ لوں اب کوئی تیر تر کش میں باقی نہیں اپنے رب…
Read Moreمرزا اسداللہ خاں غالب ۔۔۔ غزل
بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا رکھیو یارب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلا شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلا اِس تکلف سے کہ گویا بتکدے کا در کھلا گرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب آستیں میں دشنہ پنہاں ، ہاتھ میں نشتر کھلا گو نہ سمجھوں اس کی باتیں ، گونہ پاؤں اس کا بھید پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا ہے خیالِ حُسن میں حُسنِ عمل کا سا خیال خلد کا اک در ہے میری گور کے…
Read Moreاحمد کامران
عین ممکن ہے ترے ہجر سے مل جائے نجات کیا کریں یار یہ صحرا نہیں چھوڑا جاتا
Read Moreمیرزا واجد حسین یاس (یگانہ)
عشق سے دل کو ملا آئنہ خانے کا شرف جگمگا اُٹھا کنول اپنے سیہ خانے کا
Read More