سید آل احمد ۔۔۔ ہمیں پہ شہر میں اُٹھا ہے سنگ آوازہ

ہمیں پہ شہر میں اُٹھا ہے سنگ آوازہ ہمیں نے رُخ پہ ملا خونِ گرم کا غازہ اُداسیوں کی کڑی دُھوپ مجھ پہ رحم نہ کھا گئے دنوں کی وفا کا یہی ہے خمیازہ ہے تار تار کچھ اتنا لباسِ حال مرا شعورِ ذات بھی کسنے لگا ہے آوازہ مجھے بھی دے گا کوئی شہر میں کبھی ترتیب ہے کوئی آنکھ کہ بکھرا ہوا ہے شیرازہ یہ اور بات کئی حسن دلفریب ملے کھلا نہ ہم پہ کسی کی ادا کا دروازہ ہر ایک دُکھ کو بڑے صبر سے سہا…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ فاطمہ حسن

فاطمہ حسن فاطمہ حسن ۱۹۷۰ء کے عشرے میں ابھرنے والی شاعرات میں شامل ہیں۔ کراچی میں جنم لیااور یہیں مقیم ہیں البتہ کچھ عرصہ سابق مشرقی پاکستان میں بھی قیام پذیر رہیںمگر سقوطِ ڈھاکا کے بعد کراچی منتقل ہو گئیں۔فیمننزم اور تحریک نسواں اِن کی ادبی دل چسپی کے سنجیدہ موضوعات ہیں ۔ اِس سلسلے میں’’فیمینزم اور ہم‘‘ کے علاوہ ’’خاموشی کی آواز‘‘ اُن کی مرتب کردہ بہترین کتب ہیں۔ انہوں نے زاہدہ خاتون شروانیہ پر پی ایچ ڈی کی جنہوں نے ۱۹۱۵ ء میںنسائی ادب کے حوالے سے یہ…

Read More

اصغر علی بلوچ ۔۔۔ خواب گر لوگ خواب ہونے لگے

خواب گر لوگ خواب ہونے لگے اب تو موسم عذاب ہونے لگے اس کی آنکھیں تو اس کی آنکھیں ہیں اب تو پانی شراب ہونے لگے رقص کرنے لگیں جواں سوچیں اور جذبے رباب ہونے لگے حاشیے میں جو بار پاتے تھے آج وہ انتساب ہونے لگے ریگ زاروں پہ کیا عروج آیا سب کے سب آفتاب ہونے لگے راز دنیا پہ کھل گیا اصغر وہ مرا انتخاب ہونے لگے

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ افضل ہزاروی

پا لی آقا کے اگر حسنِ ادا کی خوشبو مل گئی سمجھو ہمیں قربِ خدا کی خوشبو آنے والوں کو یہ مہکا ہی کے لوٹاتی ہے سرخرو آپ سے ہے جود و سخا کی خوشبو آپ کے دم سے چھٹی حبسِ عداوت کی گھٹن ہر طرف پھیل گئی مہر و وفا کی خوشبو جس کو راس آیا گلستانِ محمد کا سفر اس کی سانسوں میں ہے گلہائے بقا کی خوشبو خاکِ پا آپ کی یوں لے کے اڑی بادِ صبا ’’ہر طرف پھیل گئی غارِ حرا کی خوشبو‘‘

Read More

طلعت شبیر ۔۔۔۔ تنہا کھڑے تھے جراتِ اِنکار ہم ہی تھے

تنہا کھڑے تھے جراتِ اِنکار ہم ہی تھے ظلمت کی شب سے برسرِ پیکار ہم ہی تھے گو اِبتدا میں نام گوارا نہ تھا انہیں پھر یوں ہوا کہ محورِ گفتار ہم ہی تھے جیسے کوئی چراغ ہوائوں کی زد پہ ہو ایسے دیے کے ساتھ ہراِک بار ہم ہی تھے اِس پار بھی گھڑے کی کہانی وفا کی تھی اُس پار بھی وفاؤں کا معیار ہم ہی تھے جرمِ وفا کے واسطے مشقِ ستم ہوئی جرمِ وفا کے آخری اوتار ہم ہی تھے ہم پر تھے حق نوائی کے…

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ نقشِ خیال دل سے مٹایا نہیں ہنوز

نقشِ خیال دل سے مٹایا نہیں ہنوز بے درد میں نے تجھ کو بھلایا نہیں ہنوز وہ سر جو تیری راہ گزر میں تھا سجدہ ریز میں نے کسی قدم پہ جھکایا نہیں ہنوز محرابِ جاں میں تو نے جلایا تھا خود جسے سینے کا وہ چراغ بجھایا نہیں ہنوز بے ہوش ہو کے جلد تجھے ہوش آ گیا میں بد نصیب ہوش میں آیا نہیں ہنوز مر کر بھی آئے گی یہ صدا قبرِ جوش سے بے درد میں نے تجھ کو بھلایا نہیں ہنوز

Read More