خالد احمد

رات نواگری بھی کی ، صُبح گداگری بھی کی خالدِ نکتہ سنج نے شہرِ ہنر شکار میں … Habeenkii wuxuu qaaday heesaha, aroortii wuxuu noqday faqeerKhaalid Nuktasanj wuxuu ugaarsaday magaalada fanka .. Aliimba nyimbo usiku, akaomba asubuhi;Khalid mwenye busara aliwinda katika mji wa sanaa. ….. እኩለ ሌሊት ዘፈኖች ዘፈነ፣ ጠዋት ጠየቀ፤ካህሊድ የጥበብ ሰው በአርት ከተማ ውስጥ ተከተለ። … Yayi waka da dare, ya roƙa da safe;Khalid mai hikima ya farauta a birnin fasaha. …. Ó kọ orin l’ọsan, ó bẹ̀bẹ̀ ní àárọ̀;Khalid olóye wẹ̀mẹ̀wẹ̀mẹ̀ ṣàwárí ní ìlú iṣẹ́ ọnà. ….…

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ فکر ہی ٹھہری تو دل کو فکر خوباں کیوں نہ ہو

فکر ہی ٹھہری تو دل کو فکرِ خوباں کیوں نہ ہو خاک ہونا ہے تو خاکِ کوئے جاناں کیوں نہ ہو دہر میں اے خواجہ ٹھہری جب اسیری ناگزیر دل اسیرِ حلقۂ گیسوئے پیچاں کیوں نہ ہو زیست ہے جب مستقل آوارہ گردی ہی کا نام عقل والو پھر طوافِ کوئے جاناں کیوں نہ ہو جب نہیں مستوریوں میں بھی گناہوں سے نجات دل کھلے بندوں غریقِ بحرِ عصیاں کیوں نہ ہو جب خوش و ناخوش کسی کے ہاتھ میں دینا ہے ہاتھ ہم نشیں پھر بیعتِ جامِ زر افشاں…

Read More

نجیب احمد

مری نمود کسی جسم کی تلاش میں ہے میں روشنی ہوں اندھیروں میں چل رہا ہوں ابھی

Read More

حماد ریاض ۔۔۔ کنایہ ہو کے رہنا ہے، اشارہ ہو کے رہنا ہے

کنایہ ہو کے رہنا ہے، اشارہ ہو کے رہنا ہے مجھے تاریک راتوں میں ستارہ ہو کے رہنا ہے تمھارے شہر کی گلیوں میں جلنا اور بجھنا ہے مجھے جگنو کی صورت اک شرارہ ہو کے رہنا ہے زمانے میں بنوں گا میں محبت کی مثال ایسی تمھیں اپنا بنانا ہے، تمھارا ہو کے رہنا ہے یہی نسبت مجھے کافی، یہی دولت مجھے کافی تُْو راوی ہے مجھے تیرا کنارا ہو کے رہنا ہے یقیں ہوتا چلا جاتا ہے مجھ کو دم بدم حمّاد کہ اک دن حسنِ زیبا کا…

Read More

نعتؐ ۔۔۔ راحت سرحدی

کریں گے جب نظر سرکار میرے تو ہو جائیں گے بیڑے پار میرے درودِ پاک کی خوش بو سے پہروں مہکتے ہیں در و دیوار میرے یہ شاخوں پر ثنا گستر پرندے دعائیں مانگتے اشجار میرے ہیں ان کے نام کی برکت سے اب تک منور گنبد و مینار میرے عطا ان کی نہیں تو اور کیا ہے جو اب تک سر پہ ہے دستار میرے اگر ان کا کرم مجھ پر نہ ہوتا تو ملنے تھے کہاں آثار میرے رضا شامل نہ ہو اُن کی جو راحت تو میں…

Read More

عمران اعوان ۔۔۔ جس جگہ آب نہیں ہوتا شجر ہوتے نہیں

جس جگہ آب نہیں ہوتا شجر ہوتے نہیں سوکھے دریا کے کناروں پہ نگر ہوتے نہیں کیسے نکلوں گا میں ان حبس بھری گلیوں سے شہرِ ہجراں کی فصیلوں میں تو در ہوتے نہیں تیرے جانے پہ حقیقت یہ کھلی ہے مجھ پر اپنے دِکھتے ہیں یہاں لوگ، مگر ہوتے نہیں یہ نہیں ہے کہ اکیلا ہی نکل جاتا ہوں شام کے وقت مرے دوست بھی گھر ہوتے نہیں زندگی کو جو سہاروں کے بِنا جیتے ہیں ان کی آنکھوں میں کبھی موت کے ڈر ہوتے نہیں اپنی دستار گرا…

Read More

نجیب احمد

کس نے وفا کے نام پہ دھوکا دیا مجھے کس سے کہوں کہ میرا گنہ گار کون ہے

Read More

آفتاب خان ۔۔۔ دو غزلیں

نہ آدمی پہ خدا کی زمین تنگ کرو اگر ہو جنگ ضروری ، ضرور جنگ کرو جمی ہوئی ہے سیاہی طویل مُدّت سے کبھی تو دِل کے مکاں پر سفید رنگ کرو حیات جس نے گزاری ہے بندگی میں سدا نہ ہمکنار اُسے دستِ تیغ و سنگ کرو ہے جس پہ عُمر بِتانی ، چُنو وہی بستر جو نیند بخشے ، وہی منتخب پلنگ کرو عقیدتوں کی بَلندی پہ لوگ رشک کریں دھمال ناز کرے ، خود کو یوں ملنگ کرو جو لوگ بابِ تحیّرکی سمت جا نہ سکے اُنھیں…

Read More

عابد معروف مغل ۔۔۔ دو غزلیں

اب حسیں سامنے سے گزرتا نہیں پھر بھی دل کیوں سنبھالے سنبھلتا نہیں خوف چھایا ہے ایسا مرے شہر میں اب گھروں سے کوئی بھی نکلتا نہیں ساتھ چھوٹا ہے جب اس حسیں شخص کا خواب آتے نہیں دل بہلتا نہیں میں نے بچپن سے ہے جو سنبھالا ہوا کھوٹا سکہ کہیں اب وہ چلتا نہیں سہمے سہمے سبھی لوگ ہیں شہر کے اب خوشی سے کوئی بھی اچھلتا نہیں یہ بڑھاپے کی ہے اک علامت کہ اب دل حسیں دیکھ کر بھی مچلتا نہیں ۔۔۔ مقتل سے دیکھنا وہی…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ سید ریاض حسین زیدی

فکروعمل کے حسن کا سامان کر دیا عزت مآب آپؐ نے انسان کر دیا یہ معجزہ آپؐ نے دشت وجود کو خوشبو سے مالا مال گلستان کر دیا اوہام کی فضا سے بشر کو نکال کر صدق و صفا کا مرکزی عنوان کر دیا غیر خدا کے آگے نہ سر کو جھکائیے واضح ترین آپؐ نے اعلان کر دیا عصیاں شعار چشمِ زدن میں تھے منقلب خود کردنی پہ ان کو پشیمان کر دیا خلقِ عظیم آپؐ کا رشک آفرین ہے کافر کو جس نے صاحب ایمان کر دیا راہیں…

Read More