اس دائرۂ روشنی و رنگ سے آگے کیا جانیے کس حال میں بستی کے مکیں ہیں خلفَ دائرةِ الضياءِ والألوانِ،لا ندري ما حالُ أهلِ المكانِ
Read Moreاکرم ناصر ۔۔۔ زین گھوڑوں پہ ہے اور زرہیں اتاری نہیں ہیں
زین گھوڑوں پہ ہے اور زرہیں اتاری نہیں ہیں ہاتھ تلوار پہ ہیں ہمتیں ہاری نہیں ہیں ہم کہ حالات کے چکر میں ہیں آئے ہوئے لوگ پیشہ ور مانگنے والے تو بھکاری نہیں ہیں ہم پہ یوں مرضی مسلط نہیں کی جا سکتی ہم ترے کھیت مزارع نہیں، ہاری نہیں ہیں آگے جنگل ہے جہاں شیر ہیں چیتے ہیں میاں لوٹ جائیں وہ یہیں سے جو شکاری نہیں ہیں حکم ربی ہے تو کر دیتے ہیں رخصت ورنہ کون سی بیٹیاں کس باپ کو پیاری نہیں ہیں تیری ہر…
Read Moreمحسن اسرار
میں اُس کے سامنے خاموش بیٹھا رہتا ہوں خبر نہیں یہ منافع ہے یا خسارا ہے
Read Moreسیّد ریاض حسین زیدی ۔۔۔ قلب و جاں پر کوئی زوال نہ ہو
قلب و جاں پر کوئی زوال نہ ہو اے خدا گھر یہ پائمال نہ ہو زندہ رہنا ہے دوریوں میں بھی مر نہ جائیں اگر وصال نہ ہو ہے یہ اچھا کہ خود پہ کھل جائیں غمِ دنیا کا احتمال نہ ہو ہے تمنا خود آگہی سے جئیں سر نگوں ہو کے کچھ سوال نہ ہو عہدِ ماضی کہ حال مستقبل بے اماں کوئی ماہ و سال نہ ہو چشمِ حیراں ہو چار سو نگراں زخم وہ جس کا اندمال نہ ہو آن قائم رہے بہر صورت جان جائے تو…
Read Moreنبیل احمد نبیل ۔۔۔ دُھندلے دُھندلے سے ہیں کیوں شمس و قمر کون کہے
دُھندلے دُھندلے سے ہیں کیوں شمس و قمر کون کہے کس نے پامال کیا حُسنِ سحر کون کہے کون سمجھے گا یہاں دل کے دھڑکنے کی صدا اُن سے احوالِ جگر ، دیدئہ تر کون کہے کون ایسا ہے جو دریا کی تہوں میں اُترے سیپ سے کس نے نکالے ہیں گہر کون کہے کس نے رکھے ہیں در و بام ، دریچے اُلٹے کس نے عجلت میں بنایا ہے یہ گھر کون کہے دیکھ سکتا ہے یہاں کون کسی کی جانب کون اس شہر میں ہے اہلِ نظر کون…
Read Moreسجاد حسین ساجد ۔۔۔ کچھ اس لیے نہ بن سکے پہچان راستے
کچھ اس لیے نہ بن سکے پہچان راستے ہم نے چنے تھے پیار کے انجان راستے منصف کو ذاتیات سے فرصت نہ مل سکی اہلِ جفا نے کر دیے ویران راستے بچھڑے تو پھر نہ مل سکے ایسے جدا ہوئے میں اور میرے شہر کے سنسان راستے رخصت کیا تو باپ نے بیٹے کو دی دعا مالک کرے سبھی ترے آسان راستے اذنِ سفر ملا تو منازل کی ٹھان لی پھر راستوں نے ہم کو کیے دان راستے اب تک ہیں مجھ کو یاد وہ گیسو، وہ سرخ لب وہ…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ زہرا نگاہ
زہرا نگاہ قیامِ پاکستان کے بعد شاعرات کی نسبتاً زیادہ تعداد سامنے آئی جنہوں نے غزل و نظم دونوں میں کمال درجے کی شاعری کی۔ایسی شاعرات میں ایک اہم نام محترمہ زہرا نگاہ کا ہے۔اُن کا شعری اختصاص یہ ہے کہ انہوں نے ایک طرف تو عورت کی زندگی کے جتنے روپ ہو سکتے ہیں اُن کو پیش کیا اور عورت کے وجود کا احساس دلایا تو دوسری طرف ہمارے سماج اور معاشرے میں اُس کے سلگتے مسائل پر بات کی۔یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ زہرا کے ہاں…
Read Moreراحت اندوری
چاند سورج مری چوکھٹ پہ کئی صدیوں سے روز لکھے ہوئے چہرے پہ سوال آتے ہیں
Read Moreادا جعفری
شاید کسی نے یاد کیا ہے ہمیں ادا کیوں ورنہ اشک مائل طوفاں ہے آج پھر
Read Moreشاہین عباس ۔۔۔ تو میرے باب میں کچھ اختصار کر کے دکھا
تو میرے باب میں کچھ اختصار کر کے دکھا شمار کی مجھے دُھن ہے، شمار کر کے دکھا میں عشق ٹھیک،بہت ٹھیک کرنا چاہتا ہوں سو میرا عشق مجھے ایک بار کر کے دکھا نہ جانے کب تجھے تنہا یہ کام کرنا پڑے تو میرے ساتھ مرا انتظار کر کے دکھا بنا تو پھرتا ہے پیراک اپنے آپ میں تُو ذرا خرابۂ دُنیا بھی پار کر کے دکھا تُو جلتا بجھتا ہوا ہی نظر میں ٹکتا ہے یہ روشنی ہی مجھے بار بار کر کے دکھا پتا چلے کہ میں…
Read More