پروین شاکر

گُل لے گئے عطّار، ثمر کھا گئے طائر سورج کی کرن باغ میں تاخیر سے آئی

Read More

پروین شاکر ۔۔۔ ٹوٹی ہے میری نیند مگر، تم کو اس سے کیا

ٹوٹی ہے میری نیند مگر، تم کو اس سے کیا بجتے رہے ہواؤں سے در، تم کو اس سے کیا تم موج موج مثلِ صبا گھومتے رہو کٹ جائیں میری سوچ کے پر، تم کو اس سے کیا اوروں کا ہاتھ تھامو، انھیں راستہ دکھاؤ میں بھول جاؤں اپنا ہی گھر، تم کو اس سے کیا ابرِ گریز پا کو برسنے سے کیا غرض سیپی میں بن نہ پائے گہر، تم کو اس سے کیا لے جائیں مجھ کو مالِ غنیمت کے ساتھ عدو تم نے تو ڈال دی ہے…

Read More

توقع ۔۔۔ پروین شاکر

توقع ۔۔۔۔ جب ہوا دھیمے لہجوں میں کچھ گنگناتی ہُوئی خواب آسا، سماعت کو چھو جائے، تو کیا تمھیں کوئی گُزری ہُوئی بات یاد آئے گی؟

Read More

احمد ندیم قاسمی

سجدہ، اظہارِ ماندگی ہی تو ہے سانس پھولی تو لَو خدا سے لگی

Read More

احمد ندیم قاسمی ۔۔۔ پھر بھیانک تیرگی میں آگئے

پھر بھیانک تیرگی میں آگئے ہم گجر بجنے سے دھوکا کھا گئے ہائے خوابوں کی خیاباں سازیاں آنکھ کیا کھولی، چمن مرجھا گئے کون تھے آخر جو منزل کے قریب آئنے کی چادریں پھیلا گئے کس تجلی کا دیا ہم کو فریب کس دھندلکے میں ہمیں پہنچا گئے اُن کا آنا حشر سے کچھ کم نہ تھا اور جب پلٹے قیامت ڈھا گئے اک پہیلی کا ہمیں دے کر جواب ایک پہیلی بن کے ہر سو چھا گئے پھر وہی اختر شماری کا نظام ہم تو اس تکرار سے اکتا…

Read More

انسان ۔۔۔ احمد ندیم قاسمی

انسان ۔۔۔۔۔ خدا عظیم، زمانہ عظیم، وقت عظیم اگر حقیر ہے کوئی یہاں تو صرف ندیم وہی ندیم، وہی لاڈلا بہشتوں کا وہی ندیم، جو مسجود تھا فرشتوں کا وہ جس نے جبر سے وجدان کو بلند کیا وہ جس نے وسعتِ عالم کو اِک زقند کیا وہ جس نے جرمِ محبت کی جب سزا پائی تو کائنات کے صحراؤں میں بہار آئی وہ جس نے فرش کو بھی عرش کا جمال دیا وہ جس نے تند عناصر کو ہنس کے ٹال دیا بڑھا تو راہیں تراشیں، رُکا تو قصر…

Read More

اصغر گونڈوی

خوب تھا صحرا ، پر اے ذوقِ جنوں! پھاڑنے کو نت نئے دامن کہاں

Read More

مبشر سعید ۔۔۔۔۔۔۔ راز کب راز رہا ہے کسی رعنائی کا

راز کب راز رہا ہے کسی رعنائی کا حال میں جان چُکا آنکھ کی تنہائی کا کیسے وہ درد کی شدت کو سمجھ سکتا ہے؟ جس کو اندازہ نہ ہو زخم کی گہرائی کا کارِ دنیا میں لگاؤں تو مسلسل ہی مرے دل کو دھڑکا سا لگا رہتا ہے رُسوائی کا غیب سے حضرتِ غالب کی صدا آتی ہے شاعری کام نہیں قافیہ پیمائی کا عاجزی ہم نے بنایا ہے وطیرہ اپنا بسی یہی کام کیا زیست میں دانائی کا رات ہو وصل کی بارش میں نہائی ہوئی رات ہم…

Read More

اور بارش ہے … ابرار احمد

اور بارش ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی بے کار محبت کی سیہ کاری میں بھیگ جاتا ہوں تو سو جاتا ہوں اور بارش ہے کہ گرتی ہی چلی جاتی ہے بند آنکھوں پہ تھکے اعضا پر شہر نم ناک میں سانسوں سے بھری گلیوں پر نارسائی کی طنابوں سے بندھے جسموں پر اور ناکردہ گناہوں کے تعفن زدہ کپڑوں سے بھرے کوٹھوں پر اور بے انت کے میدانوں میں!

Read More

آرزو لکھنوی

دفعتاً ترکِ تعلق میں بھی رسوائی ہے اُلجھے دامن کو چھڑاتے نہیں جھٹکا دے کر

Read More