ریت گھڑی ۔۔۔ عباس رضوی

ریت گھڑی ۔۔۔۔۔۔ خوبصورت چمک دار رنگوں روشن ہندسوں اور ایک دوسرے کے تعاقب میں دوڑتی ہوئی سنہری روپہلی سوئیوں سے محروم سُریلی آواز میں رہ رہ کر گنگنا اُٹھنے والے الارم سے بے نیاز میں ایک ریت گھڑی ہوں تم اگر چاہو تو میرے بلّور یں جسم کے اندر میری مضطرب روح کو صاف دیکھ سکتے ہو کیونکہ میرے وجود کا آدھا حصہ پیاس ہے اور آدھا ایک سراب ۔۔۔۔۔

Read More

علی اصغر عباس

رات خالی پڑا رہا بستر جانے ٹوٹا تھا آسمان کہ دل

Read More

علی اصغر عباس ۔۔۔ حصارِ مہر جو مسمار ہوتا جاتا ہے

حصارِ مہر جو مسمار ہوتا جاتا ہے دراز سایۂ دیوار ہوتا جاتا ہے یہ کس نے دُھوپ کنارے سے جھانک کر دیکھا افق بھی سرخیِ رخسار ہوتا جاتا ہے شکار گاہ میں ہانکا کرانے والا ہوں ہدف بھی میرا طلب گار ہوتا جاتا ہے شہابِ ثاقبِ دل ٹوٹ کر گرا جائے کمالِ دیدۂ مے خوار ہوتا جاتا ہے دیارِ ہجر میں پازیبِ غم چھنکتی سن شکیب درد کی جھنکار ہوتا جاتا ہے اشارہ پاتے ہی وہم و گماں، یقین ہوئے کشادہ جامۂ اسرار ہوتا جاتا ہے اے چوبِ خیمۂ جاں…

Read More

خوابِ یوسف ! ۔۔۔ علی اصغر عباس

خوابِ یوسف ! ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے روشنی کی ضرورت سے باندھا گیا اور آنکھوں میں نور بھر کے دو نقطے تارِ تجلی کی ضوباریوں سے یوں گانٹھے گئے کہ وہ مہر و مہ کی رداے تحیر ّمیں لپٹے اجالےکی کومل گرہ دار کرنوں سے تاروں کے ٹانکے لگیں درخشانیوں نے سمندر کی تہ میں گرے چاند سورج کی تاب و تواں کی خبر پہاڑوں کی تابندہ برفوں کو دی تو رخشاں ہوائوں کے جھکڑ چلے آن کی آن میں کوہِ گماں پہ ٹکی آنکھ میں خوابِ یوسف ہویدا ہوا چاند، سورج،…

Read More

فانی بدایونی

وہ ہے مختار، سزا دے کہ جزا دے فانی دو گھڑی ہوش میں آنے کے گنہگار ہیں ہم

Read More

فرحان کبیر ۔۔۔۔۔ مِٹ نہ جائیں سراب دوری کے

مِٹ نہ جائیں سراب دوری کے نقش دیکھا کریں گے پانی کے ہم سروں پر اُٹھائے پھرتے ہیں سب دروبام اُس حویلی کے آخری موڑ تھا شکیبائی ترجماں سو گئے کہانی کے جنبشِ لب کہیں نہیں، لیکن بولتے ہیں مزار مٹی کے ابھی مٹی جبیں سے دھوئی نہ تھی گُل مہکنے لگے کیاری کے بیٹھ کر سوچنے لگا میں بھی میز پر تھے نشان کہنی کے کیا ہَوا کو خبر نہیں، فرحان بجھ رہے ہیں چراغ بستی کے

Read More

اوہام و عقاید ۔۔۔ جوش ملیح آبادی

اَوہام و عَقاید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیف دورِ بندگی میں کس کو سمجھائوں کہ ہے صرف روحِ آدمیّت ہی اِلٰہُ العالمیں حیف حرفِ حق سے اب تک بر سرِ پیکار ہے عالمِ دینِ متین و مفتئ شرعِ مبیں حیف اوہام و عقاید کے سیہ بازار میں آج تک نورِ حقایق کی کوئی قیمت نہیں عقل کی توہین ہے عرشِ بریں کا احترام آ کہ اب ڈالیں بِنائے سطوتِ فرشِ مبیں دین کے قدموں پہ قرنوں تک یہ دنیا جھک چکی آ کہ اب دنیا کے قدموں پر جھکا دیں فَرقِ دیں

Read More

خالد علیم

موسمِ یخ میں کوئی خاک بسر سیلانی ڈھونڈتا پھرتا تھا گم گشتہ سفر پانی میں

Read More

خالد علیم ۔۔۔ آنکھ کا پردۂ نم ناک ہے خاک

آنکھ کا پردۂ نم ناک ہے خاک از زمیں تا سرِ افلاک ہے خاک یوں تو ہر آن لہو سا چھلکے دل کہ درپردۂ صد چاک ہے خاک آدمی کا ہوئی پیراہنِ جاں کس قدر سرکش و چالاک ہے خاک ہر قدم رہتی ہے زنجیر بپا کیوں تری زلف کا پیچاک ہے خاک ایک تو ہے کہ ہَوا ہے کوئی ایک میں ہوں، مری پوشاک ہے خاک پائوں سے نکلے تو سر تک پہنچے کیا سمجھتے ہو میاں، خاک ہے خاک

Read More

جاں آشوب ۔۔۔ خالد علیم

جاں آشوب ۔۔۔۔۔۔۔ کیا نکلا سنگِ چقماق کے دَور سے یہ نادان پتھر بن کر رہ گیا پورا، مٹی کا انسان جذبے پتھر، سوچیں پتھر، آنکھیں بھی پتھر تن بھی پتھر، من بھی پتھر، پتھر ہے وجدان اپنے پتھر سینے میں ہے پتھر کی دھڑکن اپنے پتھر ہونٹوں پر ہے پتھر کی مسکان آج بھی ہم پتھر کی پوجا پاٹ میں بیٹھے ہیں اپنے ہاتھ سے آپ تراش کے پتھر کا بھگوان ۔۔۔۔ ہم نے شہر بنائے، ہم نے گھر آباد کیے ہم نے انسانوں کو دی تہذیبوں کی پہچان…

Read More