ضبط اپنا شعار تھا نہ رہا دل پہ کچھ اختیار تھا نہ رہا دلِ مرحوم کو خدا بخشے ایک ہی غم گسار تھا نہ رہا آ کہ وقتِ سکونِ مرگ آیا نالہ ناخوش گوار تھا نہ رہا ان کی بے مہریوں کو کیا معلوم کوئی امیدوار تھا نہ رہا آہ کا اعتبار بھی کب تک آہ کا اعتبار تھا نہ رہا کچھ زمانے کو سازگار سہی جو ہمیں سازگار تھا نہ رہا اب گریباں کہیں سے چاک نہیں شغلِ فصل بہار تھا نہ رہا موت کا انتظار باقی ہے آپ…
Read MoreTag: فانی بدایونی
فانی بدایونی
آنکھ اٹھائی ہی تھی کہ کھائی چوٹ بچ گئی آنکھ، دل پہ آئی چوٹ
Read Moreفانی بدایونی…. ابتدائے عشق ہے لطف شباب آنے کو ہے
ابتدائے عشق ہے، لطف شباب آنے کو ہے صبر رخصت ہو رہا ہے، اضطراب آنے کو ہے قبر پر کس شان سے وہ بے نقاب آنے کو ہے آفتاب صبح محشر ہم رکاب آنے کو ہے مجھ تک اس محفل میں پھر جام شراب آنے کو ہے عمر رفتہ پلٹی آتی ہے، شباب آنے کو ہے ہائے کیسی کشمکش ہے یاس بھی ہے آس بھی دم نکل جانے کو ہے، خط کا جواب آنے کو ہے خط کے پرزے نامہ بر کی لاش کے ہم راہ ہیں کس ڈھٹائی سے…
Read Moreفانی بدایونی
وہ ہے مختار، سزا دے کہ جزا دے فانی دو گھڑی ہوش میں آنے کے گنہگار ہیں ہم
Read More