سلام….. فیصل عجمی

وہ شام ڈھلتی رہی خون کی روانی میں فرات ڈوبتا جاتا تھا اپنے پانی میں جو تیرے بعد ترے کارواں پہ اُتری تھی ٹھہر گئی ہے وہی رات زندگانی میں زمیں پہ اس کی حنا بندیوں کا موسم تھا جسے بلایا گیا اس کی نوجوانی میں جو آنکھ تیری محبت میں نم نہیں ہوتی وہ ڈوب جائے گی خود اپنی رائیگانی میں نہ پوچھ کس لیے آنکھوں سے خون جاری ہے مجھے یہ دکھ ہے کہ میں کیوں نہیں کہانی میں

Read More

سلام بحضور امامِ عالی مقام ؓ ……. حامد یزدانی

سرِ دوام یہ تحریر ہے ، نہیں ہے کیا؟ غمِ حُسین ابد گِیر  ہے ، نہیں ہے کیا؟ کہ زخم زخم اِسی روشنی سے چمکے گا کہ بُوند بُوند میں تنویر ہے، نہیں ہے کیا؟ ترازُو پیاس میں اِک تِیر تھا، نہیں تھا کیا ؟ ترازُو پیاس میں اِک تِیر ہے، نہیں ہے کیا؟ جہاں جہاں بھی رِدا ہے عَلَم بناتی ہُوئی وہاں وہاں مِرا شبیر ہے ، نہیں ہے کیا؟ خراجِ اشک ادا خامشی سے کرتے ہیں کہ آہِ ضبط بھی تشہیر ہے، نہیں ہے کیا؟ کہِیں سے پھر…

Read More

دیریاب ۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر خورشید رضوی

دیریاب۔۔۔ خورشید رضوی Download

Read More

سلام بحضور امام عالی مقام…… نصیر ترابی

یہ ہے مجلسِ شہِ عاشقاں کوئی نقدِ جاں ہو تو لے کے آ یہاں چشمِ تر کا رواج ہے ، دلِ خونچکاں ہو تو لے کے آ یہ فضا ہے عنبر و عود کی، یہ محل ہے وردِ درود کا یہ نمازِ عشق کا وقت ہے، کوئی خوش اذاں ہو تو لے کے آ یہ جو اک عزا کا شعار ہے، یہ عجب دعا کا حصار ہے کسی نارسا کو تلاش کر، کوئی بے اماں ہو تو لے کے آ یہ نشہ ہے اہلِ دلیل کا ، یہ عَلم ہے…

Read More

کارواں، جلد 23، شمارہ 9: ستمبر 1968ء

کارواں ۔جلد 23 شمارہ 9- ستمبر 1968ء Download

Read More

سلام بہ حضورِ امامِ عالی مقام

یہی نہیں کہ فقط کربلا حسین سے ہے حسین سے ہیں محمد، خدا حسین سے ہے کسی نے پوچھ لیا کس کے دم سے ہے اسلام قضا و قدر نے جھک کر کہا: حسین سے ہے ہزار چشمہء آبِ رواں ہیں دنیا میں مگر یہ پیاس کا دریا بہا حسین سے ہے یہ مرغزارِ محمد، یہ لالہ زارِ علی شہادتوں کا یہ گلشن ہرا حسین سے ہے یہ اپنی منزلِ اول پہ لٹ چکا ہوتا رواں دواں جو ہے یہ قافلہ حسین سے ہے اگرچہ بیعَتِ باطل قبول دل سے…

Read More

سلام…. توقیر عباس

روشن اس ایک فکر سے یہ کائنات ہے دل میں غمِ حسین نہیں ہے تو رات ہے کرتا ہے فیض یاب مجھے دشتِ کربلا باقی ہر ایک چیز تو نہرِ فرات ہے ایسے میں ان کے ذکر سے ملتی ہے زندگی جب چار سو اڑی ہوئی گردِ ممات ہے اسمِ یذید ہے کسی نقلی دوا کا نام ذکرِ حسین اصلِ حیات و نبات ہے

Read More

سلام بہ کربلا ….. خالد علیم

اے فلکِ کربلا ، تشنہ لب و تشنہ کام دیکھ سرِ دشت ہے سبطِ رسولِ انامؐ قافلۂ صدق کا شاہ سوارِ عظیم راحلۂ صبر کا راہ برِ خوش خرام دیکھ تری خاک پر کس کا گرا ہے لہو کس نے لٹایا ہے گھر، کس کے جلے ہیں خیام اے نگہِ دشتِ شام! دیکھ ذرا غور سے اپنے شہیدوں کا خوں، اپنے اسیروں کی شام کس نے بتایا تجھے، کس نے دکھایا تجھے کذب بیانوں پہ ہے کارِ شجاعت حرام سبطِؓ نبی ؐ کے سوا، ابنِ علیؓ کے سوا کون ہوا…

Read More