کرارے نوٹ چھن چھن بولتے سکّے ، شیئر، ہُنڈی، چمکتی میز، الماری، نگر کے سیٹھ، افسر اور پھر ان کے حواری، کلرکوں کی زبان پر موٹے موٹے ہندسے جاری، قلم بھاری۔ فضا میں بینک کی ہر سمت اک سنجیدگی طاری۔ نہ جانے کیسے چوکیدار کی آنکھیں بچا کر، نیم خبطی اک بھکاری، کب بڑے صاحب کے کمرے میں در آیا، لگا تھا پیٹھ سے جو پیٹ، دکھلایا۔ کہا: سرکار مل جائے اگر اک نوٹ دس کا، میں چنے لے کر چبا لوں ، پیٹ کا دوزخ بجھا لوں ۔ جواباً…
Read MoreTag: Muzaffar Hanfi
مظفر حنفی ۔۔۔ سند باد کی واپسی
فوم ربر کے ایوانوں سے سر ٹکرا کر، لوہے کے تپتے بازاروں سے گھبرا کر، اپنی ذات کی بھول بھلیوں سے اکتا کر، عہدِ نو کے فلسفیوں سے آنکھ بچا کر، فن کاروں کی اُلجھی باتوں سے چکرا کر، سہلانے والے ہاتھوں سے چوٹیں کھا کر، اندر سے باہر کی جانب، سند باد جب واپس لوٹا، اس نے چاروں جانب پھیلی دنیا کو، جب غور سے دیکھا۔ پیدل چلنے والے پہلے سے زاید تھے ! ننگے پھرنے والے پہلے سے زاید تھے !! بھوکوں مرنے والے پہلے سے زاید تھے…
Read Moreڈاکٹر مظفر حنفی ۔۔۔ ایک نظم
دن چڑھ آیا، چل ہم زاد، میرے بستر پر تو آ جا۔ کالی نفرت، سُرخ عقیدت، بھوری آنکھوں والی حیرت، بھولی بھالی زرد شرافت، نیلا نیلا اندھا پیار، رنگ برنگے غم کے تار، خوشیوں کے چمکیلے ہار، دھانی، سبز، سپید، سنہرے، اپنے سارے نازک جذبے، پھر دن کو تجھ کو سونپے، مصلحتوں کے شہر میں ان کے، لاکھوں ہیں جلّاد۔ دن چڑھ آیا، چل ہم زاد!
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔ مدافعت میں بھی تلوار اگر اٹھاتا ہوں
مدافعت میں بھی تلوار اگر اٹھاتا ہوں تو بے قصور کہاں ہوں کہ سر اٹھاتا ہوں خفا ہیں اہلِ فلک میری چیرہ دستی پر ستارے بو کے زمیں سے ضر ر اٹھاتا ہوں مِرا کمالِ ہُنر میری صاف گوئی ہے صعوبتیں بھی اسی بات پر اٹھاتا ہوں ثمر بدست شجر پر چلائے تھے پتھر گِرے ہیں پھل میں انھیں چوم کر اٹھاتا ہوں اگرچہ دل پہ ٹپکتی ہے یاد کی شبنم خفیف ہوں کہ دھواں رات بھر اٹھاتا ہوں گزر گیا وہ بگولہ، وہ ریت بیٹھ گئی میں بیٹھتا ہوں…
Read Moreمظفر حںفی ۔۔۔ کبھی تو صدقہ مرا خاک سے اتارا جائے
کبھی تو صدقہ مرا خاک سے اتارا جائے مجھے بلندیِ افلاک سے اتارا جائے ادھر بھی لاش تڑپتی ہے دفن ہونے کو یہ سر بھی نیزۂ سفاک سے اتارا جائے نہ جانے کب سے زمیں گھومتی ہے محور پر مجھے سنبھال کے اس چاک سے اتارا جائے مِلا یہ حکم کہ سسکاریاں نہ لے کوئی کوئی بھی رنگ ہو پوشاک سے اتارا جائے قریب آؤ کہ مہندی رچی ہتھیلی پر ستارہ دیدۂ غمناک سے اتارا جائے انا کے دم سے ہی آباد ہے خرابۂ جاں اسی کو مسندِ ادراک سے…
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔ پاؤں تو مسندِ سلطانی پہ رکھا ہوا ہے
پاؤں تو مسندِ سلطانی پہ رکھا ہوا ہے سر مرا بے سر و سامانی پہ رکھا ہوا ہے عالم الغیب نمائش کو نہیں کرتا قبول آپ کا سجدہ تو پیشانی پہ رکھا ہوا ہے اے ہوا خوش نہ ہو فانوس اگر ہیں بے نور اک دِیا اور ادھر پانی پہ رکھا ہوا ہے ہے تو ہو سامنے انبار پریشانی کا حوصلہ بھی تو پریشانی پہ رکھا ہوا ہے کیا تعجب ہے اگر خاک بسر ہیں ہم لوگ ہم نے تکیہ بھی تو نادانی پہ رکھا ہوا ہے ایک بھی پھول…
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔ آگ پر چل کے دکھایا تو کبھی پانی پر
آگ پر چل کے دکھایا تو کبھی پانی پر گولیاں کھائی ہیں فنکار نے پیشانی پر کون تاریخ میں احوال ہمارا لکّھے ہم تو ٹھوکر بھی لگاتے نہیں سلطانی پر کیا سمجھتا تھا کہ مل جائے گا ثانی اس کا میں تو حیران ہوں آئینے کی حیرانی پر گدگداتا ہے شگوفوں کو وہ پوشیدہ ہات جس نے کانٹوں کو لگایا ہے نگہبانی پر وہ مجھے دولتِ کونین عطا کرتا ہے اس طرف ناز مجھے بے سر و سامانی پر عمر کے آٹھویں عشرے میں کرو سجدۂ شکر آمدِ طبع مظفر…
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔ اس روشنیِ طبع نے دھوکا دیا ہمیں
اس روشنیِ طبع نے دھوکا دیا ہمیں اپنے لہو کی آنچ نے جھلسا دیا ہمیں کیوں اتنے چھوٹے خود کو نظر آ رہے ہیں ہم یارب یہ کس مقام پہ پہنچا دیا ہمیں آئے تھے خالی ہاتھوں کو پھیلائے ہم یہاں دنیا نے خالی ہاتھ ہی لوٹا دیا ہمیں ٹھنڈی ہوا نے توڑ دیا تھا درخت سے پھر گرد باد آئے سہارا دیا ہمیں زخمی ہوئے تھے جنگ میں دشمن کے وار سے احباب نے تو زندہ ہی دفنا دیا ہمیں کاغذ کی ناؤ پر تھے ہمیں ڈوبنا ہی تھا…
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔ بہانہ وفا کا نکالا گیا
بہانہ وفا کا نکالا گیا بہت خون میرا نکالا گیا شرارے اُچھلتے رہے سنگ سے چٹانوں سے دریا نکالا گیا مرا زخم بڑھ جائے گا اور کچھ اگر اب یہ نیزا نکالا گیا بغاوت نہیں دب سکے گی حضور جو کانٹے سے کانٹا نکالا گیا تپکتی تھی دنیا مرے پاؤں میں بمشکل یہ چھالا نکالا گیا محبت سے وہ باز آئے نہیں تو بستی سے کنبہ نکالا گیا
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔ خداوندا، یہ پابندی ہٹا کر خوش خرامی دے
خداوندا، یہ پابندی ہٹا کر خوش خرامی دے کہ دریا سر کے بل جائے، سمندر کو سلامی دے نہ ایسے سست ہوں بادل کہ فصلیں زرد ہو جائیں نہ موجوں کو سنامی جیسی بے حد تیز گامی دے میں شاعر ہوں، تمنّا ہے مجھے مقبول ہونے کی مگر مقبولیت سے پہلے مجھ کو نیک نامی دے مری حق گوئی خامی ہے خرد مندوں کی نظروں میں یہ بے حد قیمتی خامی ہے مولا اور خامی دے اگر درکار ہے تاثیر تجھ کو اپنے شعروں میں انھیں رنگت مقامی دے انھیں…
Read More