مر جائے کوئی ان کو غم نئیں ہونا اُن دو قاتل آنکھوں میں نم نئیں ہونا پٹتا ہے تو لاشوں سے پٹ جانے دو دیکھو اس کوچے میں ماتم نئیں ہونا کالا بادل گھور نراشا کا ہوں میں پیارے تم بھی بجلی سے کم نئیں ہونا جنگل کا قانون چلے گا سنتے ہیں بستی میں اب آدم وادم نئیں ہونا ہم بھی استقبال کو جانے والے تھے وہ کہتا ہے کالا پرچم نئیں ہونا قطرہ ہوں تو شبنم جیسے جی لوں گا لوگو مجھ کو دریا میں ضم نئیں ہونا…
Read MoreTag: Muzaffar Hanfi
مظفر حنفی ۔۔۔ درد نے دل کو گدگدایا تو
درد نے دل کو گدگدایا تو کچھ شرارہ سا تلملایا تو آپ دریا کے ساتھ جاتے ہیں اور وہ لوٹ کر نہ آیا تو دیکھنا، آسماں کی خیر نہیں خاکساری نے سر اُٹھایا تو شاخ کانٹوں بھری سہی لیکن ہاتھ اس نے ادھر بڑھایا تو کیوں اُٹھاتے ہو ریت کی دیوار آ گیا کوئی زیرِ سایہ تو دُور تک لہریں کھِلکھِلانے لگیں اک دِیا نہر میں بہایا تو
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔ ہوا ناراض تھی ہم سے کنارا دور تھا ہم سے
ہوا ناراض تھی ہم سے کنارا دور تھا ہم سے سمندر تھا کہ یاں سے واں تلک بھر پور تھا ہم سے خودی، خود آگہی، خودرائی جس میں جلوہ گر ہوتے وہ آئینہ تو پہلے دن ہی چکنا چور تھا ہم سے محبت اور جو آنا مرگ، رونا داستاں گو کا گھنی باتوں کا جنگل رات بھر پُرنور تھا ہم سے مزا بھی ہے سزا بھی ہے مسلسل رقص کرنے میں مگر ہم رقص ہم تھے آسماں مجبور تھا ہم سے خود اپنے کو بھی اک پردے میں رہ کر…
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔ میں اٹھ گیا تو شورِ فغاں بھی نہیں اُٹھا
میں اٹھ گیا تو شورِ فغاں بھی نہیں اُٹھا لیکن کرائے پر وہ مکاں بھی نہیں اٹھا مذہب نہیں بتایا نہ امداد کی قبول کشتی میں اک حبابِ رواں بھی نہیں اُٹھا بستی جلانے والو تمھیں کیا بتاؤں میں مدّت سے میرے گھر میں دھواں بھی نہیں اُٹھا ہم دم بخود تھے اور ادھر لُٹ رہے تھے لوگ جب ہم کٹے تو شور و ہاں بھی نہیں اُٹھا بڑھتے ہوئے قدم کو نہیں روکتا کوئی بیٹھا تو پھر قدم کا نشاں بھی نہیں اُٹھا
Read Moreمظفر حنفی
بجھتے بجھتے بھی ظالم نے اپنا سر جھکنے نہ دیا پھول گئی ہے سانس ہوا کی ایک چراغ بجھانے میں
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔ سیلابوں کو شہ دینے میں ، طوفاں کو اکسانے میں
سیلابوں کو شہ دینے میں ، طوفاں کو اکسانے میں کتنے ہاتھوں کی سازش ہے اک دیوار گرانے میں تو نے بہتیرا سمجھایا، موٹی کھال ، گِرَہ میں مال اے دُنیا، کیسے آ جاتے ہم تیرے بہکانے میں فن کو مہکائے رکھتے ہیں زخمی دل کے تازہ پھول ٹوٹی تختی کام آتی ہے نیّا پار لگانے میں تتلی جیسے رنگ بکھیرو گھایل ہو کر کانٹوں سے مکڑی جیسے کیا الجھتے ہو غم کے تانے بانے میں بیزاری کے ہاتھ نہ مرنا، سو حیلے ہیں جینے کے پیارے ، سر میں…
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔۔ منزل سے کٹ کے دشت کو رَستا نکل گیا
منزل سے کٹ کے دشت کو رَستا نکل گیا لگتا ہے جیسے پاؤں سے کانٹا نکل گیا سائے مچل رہے ہیں چراغوں کی گود میں سمجھے تھے ہم کہ گھر سے اندھیرا نکل گیا خود ہی جمالیات میں کمزور رہ گئے یا تتلیوں کا رنگ بھی کچّا نکل گیا وا حسرتا کہ سانس کی مہلت نہیں مجھے پھر سَر سَرا کے عیش کا جھونکا نکل گیا ہونے لگا ہے ماں کی دعا میں غلط اثر بیٹی تو گھر میں بیٹھی ہے، بیٹا نکل گیا تم رخ بدل رہے تھے زمانے…
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔ ہر اک سانس پابند کر دی گئی
ہر اک سانس پابند کر دی گئی پھر اک دن ہوا بند کر دی گئی محبت کے حق میں دعا کیجیے سُنا ہے دَوا بند کر دی گئی سخاوت کا اب کوئی موقع نہیں وہ مٹھی حنا بند کر دی گئی فنا کے مسافر لگے چیخنے جو کھڑکی ذرا بند کر دی گئی کسے منہ دکھائیں کہاں جائیں ہم ہماری سزا بند کر دی گئی خدا پر نہ قابو چلا آپ کا تو خلقِ خدا بند کر دی گئی مظفرسے حق گوئیوں کے سبب سلام و دعا بند کر دی…
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔ کسی سرحد، کسی بندش کو ہوا مانے کیا
کسی سرحد، کسی بندش کو ہوا مانے کیا آج وحشت کا ارادہ ہے خدا جانے کیا ناؤ منجدھار میں کیوں ساتھ چلی آتی ہے کہہ دیا کان میں کچھ اس کے بھی دریا نے کیا ایک ہی نام لکھا میں نے کئی زاویوں سے میری غزلیں ، مری نظمیں ، مرے افسانے کیا مصلحت ہے کہ عداوت ہے کہ سچائی ہے سو نقابوں میں وہ چہرہ، کوئی پہچانے کیا گھُوم پھر کر وہی اک بات کہ برحق ہو تُم سب سمجھتا ہوں ، مجھے آئے ہو سمجھانے کیا دل جہاں…
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔ دریا اتھلے پانی میں کیا کرتے ہیں
دریا اتھلے پانی میں کیا کرتے ہیںتنکے اس طغیانی میں کیا کرتے ہیں پتھر ہیں تو شیش محل پر جائیں نا!گھاؤ مِری پیشانی میں کیا کرتے ہیں تنگی میں وہ سجدے کرتے رہتے تھےدیکھیں تن آسانی میں کیا کرتے ہیں رہنے دیں ویرانے کو ویرانہ ہیدیوانے نادانی میں کیا کرتے ہیں سب اچھے لگتے ہیں اپنی کرسی پرچاند ستارے پانی میں کیا کرتے ہیں کھِلتے ہیں وہ ، حیرانی میں دنیا ہےپھول یہاں ویرانی میں کیا کرتے ہیں
Read More