مظفر حنفی ۔۔۔ ہمارے گھر پہ کبھی سائبان پڑتا نہیں

ہمارے گھر پہ کبھی سائبان پڑتا نہیں یہ وہ زمیں ہے جہاں آسمان پڑتا نہیں پڑاؤ کرتے چلے راہ میں تو چلنا کیا سفر ہی کیا ہے اگر ہفت خوان پڑتا نہیں بجھانی ہو گی ہمیں خود ہی اپنے گھر کی آگ کہیں سے آئے گی امداد جان پڑتا نہیں مزے میں ہو جو تمھیں بے زمین رکھا ہے کہ فصل اگاتے نہیں ہو، لگان پڑتا نہیں عطا خلوص نے کی ہے یقین کی دولت گمان اس کے مرے درمیان پڑتا نہیں ہم احتجاج کسی رنگ میں نہیں کرتے ہمارے…

Read More

مظفر حنفی ۔۔۔ ہر طرف ریت نہ تھی راہ میں دریا تھے کئی

ہر طرف ریت نہ تھی راہ میں دریا تھے کئی اس خرابے میں کبھی اپنے شناسائے تھے کئی اس کو دیکھا تو طبیعت نہ بھری دیکھنے سے جگمگاتا تھا وہی یوں تو ’ستارا‘ تھے کئی آئنہ کہتا تھا دھندلی ہے بصیرت میری دل میں جھانکا تو وہاں عکس ہویدا تھے کئی گرد اڑانے کا مزہ آبلہ پا سے پوچھو ورنہ بسنے کے لئے شہرِ تمنّا تھے کئی لائقِ دید تھا منظر مری غرقابی کا کوئی تنکا نہ بنا، محوِ تماشا تھے کئی وہ جو کھلتے ہی نہ تھے دُزدِ حنا…

Read More

مظفر حنفی ۔۔۔کر گئے ہجرت پرندے پھر چلی ٹھنڈی ہوا

کر گئے ہجرت پرندے پھر چلی ٹھنڈی ہواہے شگوفوں کا دمِ آخر چلی ٹھنڈی ہوا آستیں شبنم نے تَرکی سبزۂ بیگانہ کیغنچۂ نورستہ کی خاطر چلی ٹھنڈی ہوا زرد رو مال اپنا جھٹکا تھا خزاں سے اُس طرفگلستاں سے کہہ کے ’جی حاضر‘ چلی ٹھنڈی ہوا دیکھ لینا بیچ ہی میں دھجیاں اڑ جائیں گیاس طرف مسجد اُدھر مندر ، چلی ٹھنڈی ہوا جب خفا تھیں اس کی یادیں حبس تھا دل میں بہتپھر گھٹا گھر آئیں بالآخر، چلی ٹھنڈی ہوا

Read More

مظفر حنفی ۔۔۔ جلوہ بھی اس کا پردہ ہے،محرومی! محرومی!

جلوہ بھی اس کا پردہ ہے، محرومی ، محرومی میں نے اس کو کب دیکھا ہے، محرومی ، محرومی وہ خوشبو کا چنچل جھونکا میں سوکھی ڈالی کا پھول اس کا میرا کیا ناتا ہے، محرومی ، محرومی چاند نگر میں دھول اڑائی تارے تارے پھینکے جال اب میری جھولی میں کیا ہے، محرومی، محرومی فتح و ظفر کے نقاروں میں اپنا پرچم اُڑتا ہے اندر کتنا سنّاٹا ہے، محرومی، محرومی اک مجمع ہے چاروں جانب ماتم کرنے والوں کا جو بھی ہے وہ چیخ رہا ہے، محرومی ، محرومی…

Read More

مظفر حنفی ۔۔۔ سر میں سما گئی تھی ہوا کج نہاد کے

سر میں سما گئی تھی ہوا کج نہاد کے ذرّوں نے بل نکال دیئے گرد باد کے بے احتجاج ظلم کو سہنا روا نہیں چپ رہ کے حوصلے نہ بڑھاؤ فساد کے اُن کے سوا کسی پہ بھروسہ نہ کیجیو وہ پَر تراش دیں گے ترے اعتماد کے ہم نے تعلقات کی قلمیں لگائی تھیں انکھوے یہ کیسے پھوٹ رہے ہیں عناد کے جتنے گھروندے تم نے بنائے تھے ریت پر پنجے گڑے ہیں ان پہ کسی دیو زاد کے

Read More

مظفر حنفی ۔۔۔ ہر طرف گرداب ہے یا موجِ خود سر اور ہم

ہر طرف گرداب ہے یا موجِ خود سر اور ہم آج کل ہے ذات کا گہرا سمندر اور ہم کھل گیا سب کو ہمارا آئینے جیسا وجود ہر تماشائی کے ہاتھوں میں ہے پتھر اور ہم جسم میں شہہ رگ ہماری یوں کھٹکتی ہے کہ بس کیسے ہم رِشتہ ہوئے ہیں نوکِ خنجر اور ہم وسعتیں آواز دیتی ہیں کہ موقع ہے یہی حسرتِ پرواز ہے ، ٹوُٹے ہوئے َپر اور ہم آمدِ محبوب پر غالبؔ کی حیرت یاد ہے یہ بھی قدرت ہے خدا کی ، آپ کا گھر…

Read More

مظفر حنفی ۔۔۔ چراغ اپنے ہوا دینے سے پہلے

چراغ اپنے ہوا دینے سے پہلے جلانے تھے بجھا دینے سے پہلے میاں کیا لازمی تھا خاک اُڑانا کسی کو راستا دینے سے پہلے نسیمِ صبح کو آیا پسینہ خزاں کو بد دعا دینے سے پہلے ملا سکتے ہو کیا ہم سے نگاہیں بغاوت کی سزا دینے سے پہلے مناسب ہے کہ پڑھ لی جائے تختی کسی در پر صدا دینے سے پہلے ہمارا ہارنا طے ہو چکا تھا تمھارے ہاتھ اٹھا دینے سے پہلے سخی مشہور تھے ہم بھی مظفرؔ مگر سب کچھ لٹا دینے سے پہلے

Read More

مظفر حنفی ۔۔۔ ایک نظم

ایک نظم ۔۔۔۔۔۔ دن چڑھ آیا چل، ہم زاد! میرے بستر پر تو آ جا کالی نفرت سُرخ عقیدت بھوری آنکھوں والی حیرت بھولی بھالی زرد شرافت نیلا نیلا اندھا پیار رنگ برنگے غم کے تار خوشیوں کے چمکیلے ہار دھانی، سبز سپید، سنہرے اپنے سارے نازک جذبے پھر دن کو تجھ کو سونپے مصلحتوں کے شہر میں ان کے لاکھوں ہیں جلّاد دن چڑھ آیا چل، ہم زاد!

Read More

مظفر حنفی

مَیں گنہگار اور ان گنت پارسا چار جانب سے یلغار کرتے ہوئے جیسے شب خون میں بوکھلا کر اٹھیں لوگ تلوار تلوار کرتے ہوئے

Read More

یہ معرکہ ہے بڑا صبر آزما بھائی ۔۔۔ مظفر حنفی

یہ معرکہ ہے بڑا صبر آزما بھائی کسی کو ٹھیس نہ لگ جائے، دیکھنا بھائی اک اور وار کہ شہ رگ نہیں ہوئی سیراب مرے عزیز ، مرے دیر آشنا بھائی تجھے پتہ ہے کنارے نہیں رہے محفوظ بہائو تیز ہے، مجھ سے نہ دور جا بھائی ہمیں کہ دولتِ آفاق بھی زیادہ نہیں جو ہو سکے تو بس اک سانس بھر ہَوا بھائی یہ اور بات کہ ترکش میں تیر ہی کم ہیں ترے سوا مرا دنیا میں کون تھا بھائی ہر اک طرف سے سمندر مجھے بلاتا ہے…

Read More