مرزا غالب

ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺛﻮﺍﺏِ ﻃﺎﻋﺖ ﻭ ﺯﮨﺪ ﭘﺮ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﺍﺩﮬﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ

Read More

امیر مینائی

ﮨﻮﺋﮯ ﻧﺎﻣﻮﺭ ﺑﮯ ﻧﺸﺎﮞ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﺯﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎ ﮔﺌﯽ ﺁﺳﻤﺎﮞ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﯿﺴﮯ

Read More

حفیظ جونپوری ۔۔۔ کرنا جو محبت کا اقرار سمجھ لینا

کرنا جو محبت کا اقرار سمجھ لینا اک بار نہیں اس کو سو بار سمجھ لینا ہم ہوں کہ عدو اس میں جو ظلم کا شاکی ہو کرتا ہی نہیں تم کو وہ پیار سمجھ لینا مر جائے مگر جانا اس کی نہ عیادت کو تم جس کو محبت کا بیمار سمجھ لینا بن بن کے بگڑتا ہے وہ کام محبت میں آسان نہیں جس کو دشوار سمجھ لینا غفلت کدۂ ہستی جب کہتے ہیں عالم کو سودا ہے پھر اپنے کو ہشیار سمجھ لینا محفل میں رقیبوں کی جانا…

Read More

محمد علوی ۔۔۔ گلوں کے درمیاں اچھی لگی ہیں

گلوں کے درمیاں اچھی لگی ہیں ہمیں یہ تتلیاں اچھی لگی ہیں گلی میں کوئی گھر اچھا نہیں تھا مگر کچھ کھڑکیاں اچھی لگی ہیں نہا کر بھیگے بالوں کو سکھاتی چھتوں پر لڑکیاں اچھی لگی ہیں حنائی ہاتھ دروازے سے باہر اور اس میں چوڑیاں اچھی لگی ہیں بچھڑتے وقت ایسا بھی ہوا ہے کسی کی سسکیاں اچھی لگی ہیں حسینوں کو لیے بیٹھیں ہیں علوی تبھی تو کرسیاں اچھی لگی ہیں

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ سانپ کہاں ہے اِتنا پتہ جب چل جاتا ہے

سانپ کہاں ہے اِتنا پتہ جب چل جاتا ہے وُہ کہ ڈسا جانے والا ہے، سنبھل جاتا ہے اُس کی غرض تو بس سانسیں پی جانے تک ہے جس کو نگلے دریا اُسے، اُگل جاتا ہے گود کھلاتی خاک بھی کھسکے پَیروں تلے سے سرپر ٹھہرا بپھرا امبر بھی ڈھل جاتا ہے پانی پر لہروں کے نقش کہاں ٹھہرے ہیں منظر آتی جاتی پل میں بدل جاتا ہے دُشمن میں یہ نقص ہے جب بھی دکھائی دے تو رگ رگ میں اِک تُند الاؤ جل جاتا ہے جس کا تخت…

Read More

ظفر اقبال

جہاں تہاں مرے ٹکڑے بکھرتے جاتے ہیں بُرا نہیں یہ مرا انتشار میں ہونا

Read More

صابر ظفر

جو دھوپ سے آشنا رہے ہیں وہ سائے مجھے بلا رہے ہیں

Read More

شاہین عباس

تیرے ہاتھوں جل اُٹھے ہم، تیرے ہاتھوں جل بجھے ہوتے ہوتے آگ اور پانی کا اندازہ ہو ا

Read More

قمر جلالوی ۔۔۔ غزلیں

گر پڑی ہے جب سے بجلی دشتِ ایمن کے قریب مدتیں گزریں نہیں آتے وہ چلمن کے قریب میرا گھر جلنا لکھا تھا ورنہ تھی پھولوں پہ اوس ہر طرف پانی ہی پانی تھا نشیمن کے قریب اب ذرا سے فاصلے پر ہے حدِ دستِ جنوں آ گیا چاکِ گریباں بڑھ کے دامن کے قریب وہ تو یوں کہیے سرِ محشر خیال آ ہی گیا ہاتھ جا پہنچا تھا ورنہ ان کے دامن کے قریب میں قفس سے چھٹ کے جب آیا تو اتنا فرق تھا برق تھی گلشن کے…

Read More

محسن کاکوروی

دامن سے وہ پونچھتا ہے آنسو رونے کا کچھ آج ہی مزا ہے

Read More