دُور کی آواز ۔۔۔۔۔ نقرئی گھنٹیاں سی بجتی ہیں دھیمی آواز ۔۔۔ میرے کانوں میں دُور سے آ رہی ہے، تم شاید بھولے بسرے ہوئے زمانوں میں اپنی میری شرارتیں، شکوے یاد کر کر کے ہنس رہی ہو کہیں!
Read MoreTag: urdu nazm
ازل ۔۔۔۔ نجیب احمد
ازل ۔۔۔۔ نجیب احمد DOWNLOAD
Read Moreدشمنوں کے درمیان شام ۔۔۔۔ منیر نیازی
دشمنوں کے درمیان شام پھیلتی ہے شام دیکھو ڈوبتا ہے دن عجب آسماں پر رنگ دیکھو ہو گیا کیسا غضب کھیت ہیں اور ان میں اک روپوش سے دشمن کا شک سرسراہٹ سانپ کی گندم کی وحشی گر مہک اک طرف دیوار و در اور جلتی بجھتی بتّیاں اک طرف سر پر کھڑا یہ موت جیسا آسماں
Read Moreہابیل کی موت …… ڈاکٹر توصیف تبسم
ہابیل کی موت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زمیں پہلے خاکستری تھی پھر اس نے کئی رنگ اوڑھے کبھی شنگرفی، قرمزی، لاجوردی، کبھی چشمِ محبوب سا آب گوں، نیلے پانی میں کھلتے کنول سا ! سبھی رنگ اچھے تھے اور یہ زمیں سنہرے، روپہلے کئی حاشیوں میں جڑی ایک تصویر تھی وہ تصویر اب خاکِ بے مہر پر ٹکڑے ٹکڑے پڑی ہے! تو پھر دست ِ قاتل کہاں ہے؟ بس اک رنگ ہے، انگلیوں سے ٹپکتے لہو کا، جو دن رات کے ادھ جلے اور سادہ ورق پر، لگاتار مہریں لگاتا چلا جا رہا…
Read Moreسیڑھی نمبر ۲۴۲ ۔۔۔۔۔۔ شاہین عباس
ملاقات رکھو، کسی ملگجے کے حجابات میں جشن حاجات رکھو وہیں پر جہاں روشنی کم ہے اور زندگی ہے زیادہ منارے کا دو سو بیالیسو اں زینہ چڑھائی، چڑھائی، چڑھائی اکٹھے کئی سو پہر کی کسی دوپہر میں پسینے کے ہم ذات جھرنے جبینوں سے، بغلوں سے کولھوں سے، رانوں سے نکلیں تو دو سو بیالیس کی گنتی پہ رک جائیں ہم اور سمجھ لیں بہائو مکمل ہوا فرض کر لیں کہ اَب نیچے اوپر کوئی بھی نہیں کوئی تاریخ ہے اور نہ جغرافیہ کوئی تمثیل تلووں سے ، تسموں…
Read Moreرقص ۔۔۔۔۔ راجیندر منچندا بانی
ناچ، ہاں ناچ کہ ہر شورش و ہنگامہ پر پھیل جائے تری جھن جھن کاحسیں پیراہن ناچ، ہاں ناچ کہ سینے میں ترے ایک موتی کی طرح راز زمانے کا سمٹ کر رہ جائے بازوئوں کو کبھی ہونے دے دراز جمع کرنے دے خد و خال کبھی اپنی حسیں آنکھوں کو فرشِ آواز پہ رکھ اپنے پُراسرار قدم اور چمکتے ہوئے سنگیت کا جاود پی جا! ناچ صد نشۂّ شادابی سے ناچتی جا اسی مستی میں کہ تو ایک کنول بن جائے اور تجھ کو کسی تالاب کے سینے میں اُتار…
Read More