پہلے پہل عجب لگی ہجرت حسین کی پھر مجھ کو یاد آ گئی نسبت حسین کی تھا اذن بھی, چراغ بھی گل کر دیئے گئے چھوڑی نہیں کسی نے رفاقت حسین کی کردار شرطِ خاص ہے انکار کیلئے اس کی کھری مثال ہے سیرت حسین کی کربل کی سرخ ریت پہ سجدہ ادا کیا بے مثل ہو گئی ہے عبادت حسین کی آنکھیں تو ہیں نگاہِ بصیرت کوئی نہیں کھلتی کسی پہ خاک حقیقت حسین کی ہر اک لہو کی بوند پہ لکھا ہے ان کا نام روشن ہے میرے…
Read MoreTag: urdu nazm
رانا سعید دوشی ۔۔۔ اہتمام
اہتمام ۔۔۔۔۔ جمالے! او جمالے! وہ بھوری بھینس جس نے مولوی کو سینگ مارا تھا گلی سے کھول کر ڈیرے پہ لے جا شکورے! بھینس کی کھُرلی کو رستے سے ہٹا دے پھاوڑے سے سارا گوھیا میل کے کھیتوں میں لے جا نذیراں! جا ذرا ویہڑے میں بھی جھاڑو لگا دے سُن! یہ ساری چھانگ بیری کی اُٹھا لے جا جلا لینا، غلامے یار! یہ ۔۔۔ کیکر کے کنڈے ۔۔۔۔ چھوڑ ۔۔۔ میں خود ہی اُٹھا لوں گا تُو ایسا کر ۔۔۔ حویلی میں جو ”موتی“ اور ”ڈبُّو“ پھر رہے…
Read Moreعزیز فیصل … سلام
سلام۔۔۔یزید سے ہیں مفادات اس کے وابستہسو اس نے چھوڑ دیا اہلِ بیت کا رستہنہیں ہے مسئلہ اس کا نبی و آل ِنبیکہ فرقہ باز کو درکار ہے فسوں سستارسول ِخیر سے نسبت نہیں ہے نسبت ِعامستم شعار! بہت ہے ترا یقیں خستہجو ریگزار میں آباد کر گئے تھے حسینوہ ایک شہر دلوں میں ہے آج بھی بستااِدھر تھے ابن ِعلی کے فقط بہتر لوگاُدھر تھا جبرو ستم کی سپاہ کا دستہ
Read Moreجلیل عالی…. سلام
سلام……بندگانِ ریا کی نگاہوں میں شام و سحر اور تھےاور اہلِ صفا کے رموزِ قیام و سفر اور تھےچاند پیشانیوں پر فروزاں تھا جو فیصلہ ، اور تھاچور چہروں پہ ٹھہرے ہوئے تھے جو اندر کے ڈر ، اور تھےسب جبینیں وہاں رات دن تھیں زمیں بوسیوں میں مگنکٹ کے کچھ اور اوپر اٹھے تھے مگر وہ جو سر،اور تھےگو رہِ عشق میں شان پہلے بھی بے مثل تھی آپ کیکربلا میں مگر سُرخرو تھے سوا ، معتبر اور تھےسطحِ صحرا پہ عالی کہاں کوئی تحریر ٹھہری کبھیلفظ لیکن لہو…
Read Moreحامد یزدانی ۔۔۔ سلام بحضور امامِ عالی مقام ؓ
سلام بحضور امامِ عالی مقام ؓ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سرِ دوام یہ تحریر ہے، نہیں ہے کیا؟ غمِ حُسین ابد گِیر ہے، نہیں ہے کیا؟ کہ زخم زخم اِ سی روشنی سے چمکے گا کہ بُوند بُوند میں تنویر ہے، نہیں ہے کیا؟ ترازُو پیاس میں اِک تِیر تھا، نہیں تھا کیا؟ ترازُو پیاس میں اِک تِیر ہے، نہیں ہے کیا؟ جہاں جہاں بھی رِدا ہے عَلم بناتی ہوئی وہاں وہاں مِرا شبیر ہے، نہیں ہے کیا؟ خراجِ اشک ادا خامشی سے کرتے ہیں کہ آہِ ضبط بھی تشہیر ہے، نہیں ہے…
Read Moreخالد احمد ۔۔۔ بجناب امام عالی مقام علیہ السلام
بجناب امام عالی مقام علیہ السلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مدّاحیِ شبیرؑ میں آغازِ سخن ہے اجماعِ شرف آج سرِ برجِ دَہن ہے لب ہیں کہ دوپارہ صدفِ صبحِ چمن ہے وہ چال ہے یا حسنِ محبت کا چلن ہے تن ہے کہ مہ و مہر خجل ہوں اُسے دیکھے چہرہ ، سببِ زینت و زیبائشِ تن ہے ہم رنگِ سحر ہے، وہ مہِؑ شامِ غریباں ہم چشمِ غزالانِ بیابانِ ختن ہے اَبرو ہیں کہ قوسین پہ قوسین دھرے ہیں پلکیں ہیں کہ آنکھوں پہ حیا ابر فگن ہے توصیف کرے اصغر ؑ…
Read Moreخالد علیم ۔۔۔۔سلام بہ کربلا
سلام بہ کربلا اے فلکِ کربلا ، تشنہ لب و تشنہ کام دیکھ سرِ دشت ہے سبطِ رسولِ انامؐ قافلۂ صدق کا شاہ سوارِ عظیم راحلۂ صبر کا راہ برِ خوش خرام دیکھ تری خاک پر کس کا گرا ہے لہو کس نے لٹایا ہے گھر، کس کے جلے ہیں خیام اے نگہِ دشتِ شام! دیکھ ذرا غور سے اپنے شہیدوں کا خوں، اپنے اسیروں کی شام کس نے بتایا تجھے، کس نے دکھایا تجھے کذب بیانوں پہ ہے کارِ شجاعت حرام سبطِؓ نبی ؐ کے سوا، ابنِ علیؓ کے…
Read Moreرخسانہ صبا ۔۔۔ تخلیق
تخلیق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کمرے کا یخ بستہ موسم میرے اندر کی گرمی کو چاٹ چکا تھا آنکھوں کی جھیلوں میں گویا بچھڑی ہوئی یادوں کی کائی جمی ہوئی تھی بستر پر اک بے حس اور انجانی سی چپ گرد کی صورت پڑی ہوئی تھی روح کے آنگن میں پیڑوں کی سوکھی شاخیں دھند میں گم تھیں اور خیالوں کے سرچشمے خشک پڑے تھے ایسے میں اک دستک ابھری کھڑکی کے پٹ کھول کے میں نے باہر دیکھا درد اچانک جاگ اٹھا تھا ایک سنہرے اور تازہ احساس کا آنچل سر پر…
Read Moreآصف شفیع … صدیوں سے اجنبی
صدیوں سے اجنبی ……………………. اُس کی قربت میں بیتے سب لمحے میری یادوں کا ایک سرمایہ خوشبوئوں سے بھرا بدن اس کا دل کو بھاتا تھا بانکپن اُس کا شعلہ افروز حسن تھا اُس کا دلکشی کا وہ اک نمونہ تھی مجھ سے جب ہمکلام ہوتی تھی خواہشوں کے چمن میں ہر جانب چاہتوں کے گلاب کھلتے تھے اُس کی قربت میں ایسے لگتا تھا اک پری آسماں سے اتری ہو جب کبھی میں یہ پوچھتا اُس سے ساتھ میرے چلو گی تم کب تک مجھ سے قسمیں اُٹھا کے…
Read Moreسبب ۔۔۔۔۔۔ فہمیدہ ریاض
سبب ۔۔۔۔ آ گئی شامِ غم آ گئی پھر بتانے سے کیا فائدہ ہو گیا دل کا خوں ہو گیا سچ ہے یہ پھر فسانہ بنانے سے کیا فائدہ کھو گئے ہم سفر سب گئے اپنے گھر راہ چلتوں کو اَب راہ میں روک کر یہ کہانی سنانے سے کیا فائدہ مر گئی کوئی شے دفن کر کے اُسے چل پڑی راہ پر صرف میری تھی یہ جیسے ہو یہ نہایت اہم…
Read More