ڈانٹ کھاتا ہے شعور آج گھرانے بھر کی بچپنے میں یہ چہیتا تھا گھرانے بھر کا
Read MoreMonth: 2019 اکتوبر
تجدید… علامہ طالب جوہری
تجدید ….. اُس کے شہر کی ساری گلیاں، ساری سڑکیں نیند میں ڈوبی برف کی موٹی چادر اوڑھے اُونگھ رہی تھیں بوڑھے چرچ کی نا آسودہ، پُراسرار عمارت کہر میں لپٹی صدیوں کے اوہام سجائے ہر آہٹ پر کان لگائے جاگ رہی تھی اور مَیں آتش دان کے آگے کرسی رکھ کر شام سے بیٹھا سوچ رہا تھا ساری یادیں، سارے آنسو ساری ہجر زدہ رومانی نظمیں آتش دان کے انگاروں پر پھینک کے گھر واپس جاؤں گا
Read Moreمیرا جی … غم کے بھروسے کیا کچھ چھوڑا، کیا اب تم سے بیان کریں
غم کے بھروسے کیا کچھ چھوڑا، کیا اب تم سے بیان کریں غم بھی راس نہ آیا دل کو، اور ہی کچھ سامان کریں کرنے اور کہنے کی باتیں کس نے کہیں اور کس نے کیں کرتے کہتے دیکھیں کسی کو، ہم بھی کوئی پیمان کریں بھلی بری جیسی بھی گزری اُن کے سہارے گزری ہے حضرتِ دل جب ہاتھ بڑھائیں، ہر مشکل آسان کریں ایک ٹھکانا آگے آگے پیچھے پیچھے مسافر ہے چلتے چلتے سانس جو ٹوٹے منزل کا اعلان کریں میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے…
Read Moreمنیر سیفی
کل مر جاتا، بہتر تھا آج تو حالت بدتر ہے
Read Moreحسین مجروح
ہَوا کے جسم پر نیلی خراشیں فضا کی برہمی بتلا رہی ہیں
Read Moreریت پر سفر کا لمحہ ۔۔۔۔۔ احمد شمیم
ریت پر سفر کا لمحہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی ہم خُوب صورت تھے کتابوں میں بسی خُوشبو کی صورت سانس ساکن تھی بُہت سے اَن کہے لَفظوں سے تصویریں بناتے تھے پرندوں کے پَروں پر نظم لِکھ کر دُور کی جھیلوں میں بَسنے والے لوگوں کو سُناتے تھے جو ہم سے دور تھے، لیکن ہمارے پاس رہتے تھے نئے دن کی مسافت جب کِرن کے ساتھ آنگن میں اُترتی تھی تو ہم کہتے تھے امّی ! تتلیوں کے پَر بُہت ہی خُوب صورت ہیں ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو کہ ہم کو…
Read Moreعزم بہزاد
مَیں اپنی انگشت کاٹتا تھا کہ بیچ میں نیند آ نہ جائے اگرچہ سب خواب کا سفر تھا مگر حقیقت میں آ بسا ہوں
Read Moreعباس رضوی ۔۔۔۔ ستارے چاہتے ہیں، ماہتاب مانگتے ہیں
ستارے چاہتے ہیں، ماہتاب مانگتے ہیں مرے دریچے نئی آب و تاب مانگتے ہیں وہ خوش خرام جب اس راہ سے گزرتا ہے تو سنگ و خشت بھی اذنِ خطاب مانگتے ہیں کوئی ہوا سے یہ کہہ دے ذرا ٹھہر جائے کہ رقص کرنے کی مہلت حباب مانگتے ہیں عجیب ہے یہ تماشا کہ میرے عہد کے لوگ سوال کرنے سے پہلے جواب مانگتے ہیں طلب کریں تو یہ آنکھیں بھی ان کو دے دوں مَیں مگر یہ لوگ ان آنکھوں کے خواب مانگتے ہیں یہ احتساب تو دیکھو کہ…
Read Moreاک تنہا ویک اینڈ ۔۔۔۔ حامد یزدانی
اک تنہا ویک اینڈ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سنٹرل پارک میں، آوارہ سا جانے! کون صدی کا چاند ایمپائر اسٹیٹ سے ڈھلتی زینہ زینہ دھند کی سرگوشی گھورتی سڑکوں سے چھپتی بروکلین میں آنکھیں کھولتی ہے چمنیاں تاریکی جنتی ہیں یا پھر بادل ! آزادی کے بُت کو شرماتی قبرستان کی ترچھی روشنی تہ در تہ یہ سیدھی قبریں بوڑھے دنوں کی جڑواں اداسی بالکنی سے جھانکتی ہے ففٹی تھرڈ اسٹریٹ چمڑے کے صوفے کے پیچھے پودے ربڑ کے، ایک نمائش سامنے چیری وُڈ کی ٹیبل میڈ اِن اٹلی ! ایک تصنع، اک…
Read Moreیگانہ
پہاڑ کاٹنے والے زمیں سے ہار گئے اسی زمین میں دریا سمائے ہیں کیا کیا!
Read More