قدم مے خانہ میں رکھنا بھی کار پختہ کاراں ہے جو پیمانہ اٹھاتے ہیں وہ تھرایا نہیں کرتے
Read MoreCategory: ق
استاد قمر جلالوی ۔۔۔ منتخب اشعار
انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیںوہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیںاگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیںتو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیںرقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سےتمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیںوہ ہنس کرکہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوےیہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیںنہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی پشیمانیکہ اب تو عید ملنے پر بھی وہ شرمائے…
Read Moreظفر اقبال
قریب آنے کی تمہید ایک یہ بھی رہی وہ پہلے پہلے ذرا فاصلے سے گزرے گا
Read Moreجمال احسانی
قرار دل کو سدا جس کے نام سے آیا وہ آیا بھی تو کسی اور کام سے آیا
Read Moreقمر رضا شہزاد کے چند اشعار
گزشتہ عشق کا ہر اک نشان ڈھونڈوں گا میں اپنی کھوئی ہوئی داستان ڈھونڈوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ پھول، پیڑ، پرندے، قلم، چراغ اور تیغ میں ان میں اپنا کوئی ترجمان ڈھونڈوں گا ۔۔۔۔۔ ہزاروں سال پرانے کھنڈر میں گھومتے وقت عجیب بات کہ اپنا نشاں ملا ہے مجھے ۔۔۔۔۔۔۔ ایک آنسو ہے میرے برتن میں پیاس کس کس کی بجھائی جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہیں اک روز بہہ نہ جاؤں میں چشمِ گریہ ترے بہاؤ کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔ میں دیکھتا ہوں یہ دنیا تو غور کرتا ہوں میں یونہی آیا یہاں میرا…
Read Moreپروین شاکر
قاتل کو کوئی قتل کے آداب سکھائے دستار کے ہوتے ہوۓ سر کاٹ رہا ہے
Read Moreاعجاز عبید ۔۔۔ وہ جسے سن سکے وہ صدا مانگ لوں
وہ جسے سن سکے وہ صدا مانگ لوں جاگنے کی ہے شب کچھ دعا مانگ لوں اس مرض کی تو شاید دوا ہی نہیں دے رہا ہے وہ، دل کی شفا مانگ لوں عفو ہوتے ہوں آزار سے گر گناہ میں بھی رسوائی کی کچھ جزا مانگ لوں شاید اس بار اس سے ملاقات ہو بارے اب سچے دل سے دعا مانگ لوں یہ خزانہ لٹانے کو آیا ہوں میں اس کو ڈر ہے کہ اب جانے کیا مانگ لوں اب کوئی تیر تر کش میں باقی نہیں اپنے رب…
Read Moreمرزا اسداللہ خاں غالب ۔۔۔ غزل
بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا رکھیو یارب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلا شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلا اِس تکلف سے کہ گویا بتکدے کا در کھلا گرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب آستیں میں دشنہ پنہاں ، ہاتھ میں نشتر کھلا گو نہ سمجھوں اس کی باتیں ، گونہ پاؤں اس کا بھید پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا ہے خیالِ حُسن میں حُسنِ عمل کا سا خیال خلد کا اک در ہے میری گور کے…
Read Moreامیر مینائی
قریب ہے یارو روزِ محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیوں کر جو چُپ رہے گی زبانِ خنجر لہو پکارے گا آستیں کا
Read Moreابراہیم ذوق
قسمت ہی سے لاچار ہوں، اے ذوق! وگرنہ سب فن میں ہوں طاق ، مجھے کیا نہیں آتا
Read More