دریدہ دل کبھی باچشمِ نم نکلتا ہُوں مَیں اپنی ذات کے حجرے سے کم نکلتا ہُوں دیارِ ہند سے باغِ عدن کو جاتا ہُوں کبھی حجاز سے سوئے عجم نکلتا ہُوں سحر کو کھینچ کے لاتا ہُوں اِس خرابے میں مَیں آج رات ترے ہم قدم نکلتا ہُوں ازل کی کوئی ضرورت نہ اب ابد سے لاگ مَیں اب کی بار ورائے عدم نکلتا ہُوں بکھرتا رہتا ہُوں شب بھر مگر بوقتِ سحَر سمیٹ لیتا ہُوں خود کو، بہم نکلتا ہُوں اِسی لیے تو تری روشنی میں رہتا ہُوں مَیں…
Read MoreCategory: آج کی غزل
رحمان حفیظ ۔۔۔ نظرنظر تِری حسرت ہے دل بہ دل ترا غم
نظرنظر تِری حسرت ہے دل بہ دل ترا غم ملا ہے اہلِ زمانہ کو مستقل ترا غم گزر چُکی ہے خزاں عشرتِ تمنا کی کھلا ہُوا ہے سرِ گلستانِ دل ترا غم بسی ہوئی ہے فضاؤں میں بس تری خُوشبو ر چا ہوا ہے مناظر میں مستقل ترا غم ہر ایک رنج میں تیرے گمان کی آمیخت خوشی کےسارے علاقوں سے متصل ترا غم دلوں کو درد کی دولت سے بہرہ مند کرے ہے اپنی اصل میں اک گُونہ معتدل ترا غم ہر ایک آنکھ ، ہر اک آئنے کا…
Read Moreکاشف حسین غائر ۔۔۔ ہر گام بدلتے رہے منظر مرے آگے
ہر گام بدلتے رہے منظر مرے آگے چلتا ہی رہا کوئی برابر مرے آگے کیا خاک مری خاک میں امکان ہو پیدا ناپید ہیں موجود و میسر مرے آگے یوں دیکھنے والوں کو نظر آتا ہوں پیچھے رہتا ہے مسافت میں مرا گھر مرے آگے رکھتی ہے عجب پاس مری تشنہ لبی کا سو موج اُٹھاتی ہی نہیں سر مرے آگے ہنستا ہی رہا میں در و دیوار پر اپنے روتا ہی رہا میرا مقدر مرے آگے کل رات جگاتی رہی اک خواب کی دوری اور نیند بچھاتی رہی بستر…
Read Moreتوقیر عباس ۔۔۔ یہ فخر ہے اے مجرئی جاگیر ہماری
یہ فخر ہے اے مجرئی جاگیر ہماری سادات کے غم سے ہوئی تعمیر ہماری توقیر سدا کرتا ہے تطہیر ہماری تہذیب میں شامل غمِ شبیر ہماری اک زخم نکھرتاہوا زنجیر زنی سے اک درد ہلاتا ہوا زنجیر ہماری کہتی تھی دمِ نزع سکینہ سے ضعیفی کچھ دیر کو ہے سامنے تصویر ہماری اک زہر میں ڈوبی ہوئی لوگوں کی خموشی اک نوحے سے ہوتی ہوئی تطہیر ہماری اک نعرۂ پر جوش ہوا ڈھال ہمیشہ اک نوحۂ غم ہو گیا شمشیر ہماری یہ کس کی سرِ دشت ہیں پر درد صدائیں…
Read Moreتوقیر عباس ۔۔۔ عمر چھ ماہ نام اصغر ہے
عمر چھ ماہ نام اصغر ہے عالمِ کم سنی میں حیدر ہے اک تبسم نکھارتا ہے اسے جس جوانی کا نام اکبر ہے حسنِ اکبر پہ ماہتاب نثار اور اکبر نثارِ اصغر ہے پیاس کو تیر مارنے والے ایک بچہ جوان لشکر ہے وار ایسا کیا تبسم کا کند بیعت کا اب بھی خنجر ہے حسن میں ہے وہ اکبر و قاسم اور شجاعت میں رشکِ حیدر ہے وہ بہتر میں اک اکیلا تھا وہ اکیلا بھی اک بہتر ہے کربلا میں تبسمِ اصغر دشت میں موج زن سمندر ہے…
Read Moreتوقیر عباس ۔۔۔ اک بارگہِ حسن میں پیغامِ سناں ہے
اک بارگہِ حسن میں پیغامِ سناں ہے گل رنگ ابھی سینۂ شبانِ جناں ہے اک لشکرِ عصیاں میں گھرا شاہِ جہاں ہے اک نار مولد جو سدا در پئے جاں ہے اک شخص جو مجموعہِ اوصافِ نبی ہے اک پھول ہے جس پھول میں گلزار نہاں ہے آئے ہیں عجب شان سے میدانِ وغا میں مولا ہیں کہ گلزار میں اک سروِ رواں ہے معصوم سی اک پیاس کا ہنسنا سر میداں کیا تیر ہے جس تیر پہ قرباں کماں ہے دشمن کی قطاروں میں ہیں عباس غضب ناک شمشیر…
Read Moreتوقیر عباس ۔۔۔ اس غم کے لیے چاہیے گھر اور مکاں اور
اس غم کے لیے چاہیے گھر اور مکاں اور یہ تیر ہے وہ جس کی ضرورت ہے کماں اور آیا ہے صفِ سیدِ ابرار میں جب سے اب حر کی ادا اور ہے اندازِ بیاں اور عاشورۂ غم ذہنوں پہ طاری ہے ابھی سے مقصودِ بیاں اور ہے ہوتا ہے عیاں اور معصوم تبسم کہ جواں سینۂ شبٌاں مطلوب ہے اس کے لیے اندازِ بیاں اور اس دہر میں جس شخص نے کی بیعتِ باطل اس سود کے سودے میں سراسر ہے زیاں اور ہر ایک رجز سے سرِ میداں…
Read Moreمحمد یعقوب آسی ۔۔۔ سپنے تو کجا دیکھیے کیا سو بھی سکیں گے؟
سپنے تو کجا دیکھیے کیا سو بھی سکیں گے؟ مانوس جدائی سے تری ہو بھی سکیں گے؟ کم مائیگیٔ حرفِ تشکر مجھے بتلا یہ قرض محبت کے ادا ہو بھی سکیں گے؟ جڑ سے تو اکھاڑیں گے چلو بوڑھے شجر کو ننھا سا نہال اس کی جگہ بو بھی سکیں گے؟ ڈر تھا کہ وہ بچھڑا تو تبسم سے گئے ہم کیا جانیے اس ہجر میں اب رو بھی سکیں گے؟ اک بار کا اظہار وہ صد خونِِ انا تھا اس داغِ تمنا کو کبھی دھو بھی سکیں گے؟
Read Moreحمیدہ شاہین ۔۔۔ خود سے ملتی نہیں نجات ہمیں
خود سے ملتی نہیں نجات ہمیں قید رکھتی ہیں خواہشات ہمیں ہم نے مانگی سکون کی چادر رنج بولے کہ بیٹھ ، کات ہمیں کچھ تو عادت ہے بے یقینی کی اور کچھ ہیں تحیّرات ہمیں اِس تعلّق کا سچ قبول کیا جوڑتی ہیں ضروریات ہمیں آنکھ کا آئنہ عطا کر کے اس نے دے دی ہے کائنات ہمیں بس کہ جھگڑا طویل ہوتا گیا سوجھتی جا رہی تھی بات ہمیں لاکھ رستا بدل بدل کے چلیں مل ہی جائیں گے حادثات ہمیں
Read Moreانور شعور ۔۔۔ کیسی خطا، کیسی جزا، جو ہو گیا سو ہو گیا
کیسی خطا، کیسی جزا، جو ہو گیا سو ہو گیا نادان ہے دل، اے خدا! جو ہو گیا سو ہو گیا قربان ہونا تھا جنھیں قربان تم پر ہو گئے اب کیا تلافی، کیا صلہ جو ہو گیا سو ہو گیا آپس میں اے دل! اے جگر! رنجش سے اچھی درگزر موقع نہیں تفصیل کا، جو ہو گیا سو ہو گیا چپ چاپ کیوں ہو دیوتا، ایسی بھی کیا گھمبیرتا آؤ، ہنسیں بولیں ذرا، جو ہو گیا سو ہو گیا بندہ معافی مانگ کر شرمندہ ہوتا ہے شعورؔ اب کیا…
Read More