اجلے میلے پیش ہوئے جیسے ہم تھے پیش ہوئے ……… Ils sont venus, si purs, si beauxComme un jour — nous étions venus, sans fard ni faux Sie traten auf, so rein, so klar,Wie einst auch wir – ganz ohne Trug und ohne Narr 彼らは現れた、澄んだ光のように、まるであの日の私たちのように — 飾らず、まっすぐに वो भी आए उजले-से, बिलकुल साफ़ दिल सेजैसे कभी हम आए थे — बिना नक़ाब, पूरे दिल से।
Read MoreCategory: الف
سیف الدین سیف
اس مسافر کی نقاہت کا ٹھکانہ کیا ہے سنگ منزل جسے دیوار نظر آنے لگے Où se trouve le repos de ce voyageur fatigué Quand la pierre qui guide devient un mur qui retient
Read Moreشاہین عباس
انگلیا ں خاک میں اب پھیر رہے ہیں افسوس بات نمٹا نہ سکے لوح و قلم ہوتے ہوئے Mes doigts se perdent désormais dans la poussière, hélas Même avec la plume et la tablette, les mots n’ont pu sceller le sort
Read Moreشاہین عباس
اب جو گھر اِن پہ گرا ہے تو کُھلے ہیں ، ورنہ یہ مکیں ، لگتا نہیں تھا ، کہ مکاں والے ہیں
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ منتخب اشعار
انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیںوہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیںاگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیںتو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیںرقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سےتمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیںوہ ہنس کرکہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوےیہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیںنہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی پشیمانیکہ اب تو عید ملنے پر بھی وہ شرمائے…
Read Moreظفر اقبال
اپنی راہ نکالیں کیا رستے رستے جانا ہے
Read Moreظفر اقبال
اس شوخ پہ مرنا تو بڑی بات ہے لیکن کہتے ہیں کہ اس عمر میں اچھا نہیں لگتا
Read Moreظفر اقبال
اے ظفر سچ پوچھئے تو کامیابی عشق میں سربسر جتنی بھی ہے ناکام رہ جانے میں ہے
Read Moreظفر اقبال
اگر کافی نہیں جاں سے گزرنا ہمارے پاس کرتب اور بھی ہیں
Read Moreظفر اقبال
اک فاصلہ رہتا ہے ، پانی سے روانی تک دریائے ہوس میں بھی ، اک موج وفا کی ہے
Read More