امیر مینائی

میری حالت پر گرے ہیں بارہا اشک چشمِ روزنِ دیوار سے

Read More

الفت رسول

مسلسل غور کرنے سے کوئی بھی چیز ہو، اس میں دکھائی دینے لگتا ہے خدا ، آہستہ آہستہ

Read More

داغ دہلوی

مآلِ کار خدا جانے، داغ! کیا ہو گا خدا سے کام پڑا آخری زمانے میں

Read More

استاد قمر جلالوی

موسیٰ سے ضرور آج کوئی بات ہوئ ہے جاتے میں قدم اور تھے آتے میں قدم اور

Read More

جاوید شاہین

مَیں کیسے کاٹ دوں یہ خشک شاخ ِ دل شاہین کسے خبر کبھی اس پر ثمر نکل آئے

Read More

عزم بہزاد

مَیں اپنی انگشت کاٹتا تھا کہ بیچ میں نیند آ نہ جائے اگرچہ سب خواب کا سفر تھا مگر حقیقت میں آ بسا ہوں

Read More

نصیر ترابی

مَیں اِک شجر کی طرح رہ گزر میں ٹھہرا ہوں تھکن اُتار کے تُو کس طرف روانہ ہُوا

Read More

مراتب اختر

مرنے کی آرزو مرے دل سے لپٹ گئی جینے کا اِک بہانہ مرے ہاتھ آ گیا

Read More