میں یہاں آخری مسافر ہوں اک نظر دیکھ لوں سرائے کو
Read MoreTag: احمد
احمد ندیم قاسمی
حسن کا فرض ہوا کرتی ہے آرائشِ حسن صبح کیا کرتی ہے ہر روز سنورنے کے سوا
Read Moreسلیم احمد
سلیم! نفع نہ کچھ تم کو نقدِ جاں سے اُٹھا کہ مال کام کا جتنا تھا سب دکاں سے اُٹھا
Read Moreسلیم احمد
لوگ کہتے ہیں ہوس کو بھی محبت، جیسے نام پڑ جائے مجاہد کسی بلوائی کا
Read Moreاحمد حسین مجاہد …… مٹی کا اک غبار جو سوئے فلک گیا
مٹی کا اک غبار جو سوئے فلک گیا اک بار تو خود اپنی طرف میرا شک گیا سایہ تھا اُس پہ وصل کی خواہش کے خوف کا میں نے چھوا تو غنچہ ٔ نو رَس چٹک گیا دیتی وہ کیا جواب مرے اشتعال کا بس یہ ہوا کہ شانے پہ آنچل ڈھلک گیا چاروں طرف سے خون کے چشمے ابل پڑے سایہ مرے وجود کے اندر سرک گیا میری بھی تھوڑی حوصلہ افزائی ہو گئی جاتے ہوئے وہ میرا بھی شانہ تھپک گیا احمدؔ میں پہلے عشق کو سمجھا تھا…
Read Moreنجیب احمد
وہ چاندنی، وہ سمندر، وہ رخ بدلتی ہوا وہ شور تھا کہ تلاطم سے ڈر گئے ہم بھی
Read Moreباقی احمد پوری ۔۔۔۔۔ محبت نے ہمارے درمیاں کچھ خواب رکھے ہیں
محبت نے ہمارے درمیاں کچھ خواب رکھے ہیں اور ان خوابوں کےاندر بھی نہاں کچھ خواب رکھے ہیں تم اپنی خواب گاہوں میں کسی دن غور سے دیکھو وہاں تعبیر بھی ہو گی جہاں کچھ خواب رکھے ہیں ستم گر آندھیوں کو کون یہ جا کر بتاتا ہے کہ گلشن میں برائے آشیاں کچھ خواب رکھے ہیں پڑائو ختم ہوتے ہی یہ منظر آنکھ نے دیکھا پسِ گرد و غبار ِکارواں کچھ خواب رکھے ہیں نہ کاغذ پر اُترتے ہیں نہ یہ رنگوں میں ڈھلتے ہیں مری آنکھوں میں ایسے…
Read Moreایک دن گم ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ خالد احمد
ایک دن گم ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماں! تمھیں تو یاد ہوگا تم نے اُس دن منہ اندھیرے نیند کی چادر ہٹا کر بوسہ ماتھے پر سجا کر ہاتھ یوں بالوں میں پھیرے دوڑ اُٹھے رگ رگ سویرے گرم بستر سے اُٹھایا مجھ کو نہلایا، دُھلایا زیبِ تن کپڑے نئے تھے زیبِ پا جوتے نئے تھے ماں! تمھیں تو یاد ہوگا مدرسے کی سمت جاتا کاندھے پر بستہ جھلاتا وہ کھلنڈرا سا دُلارا ایک ننھا سا ستارا اپنے ملبے پر کھڑا ہے چار جانب دیکھتا ہے کیا کہوں ؟ کیا…
Read Moreاحمد حسین مجاہد ۔۔۔۔۔۔ جنوں میں یار سے آگے قدم نہ پڑ جائے
جنوں میں یار سے آگے قدم نہ پڑ جائے یہ عمر بھر کی ریاضت بھی کم نہ پڑ جائے کچھ احتیاط ! مری آگ تاپنے والو کسی کی آنکھ میں شعلے کا نم نہ پڑ جائے مجھے یہ ڈر ہے مری رائگاں دعاؤں سے تمھاری تیغ ِ تغافل میں خم نہ پڑ جائے بہ فیض ِ عشق مجھے اپنا غم نہیں، لیکن یہ غم ہے، اُس کو مذاق ِ ستم نہ پڑ جائے یہ شہد و شعر دھرے کے دھرے نہ رہ جائیں کہیں اسے کوئی کار ِ اہم نہ…
Read Moreاحمد مشتاق
تمام رات پھڑکتے رہے گلاب کے پھول ہوا بھی تیز تھی اور ٹہنیوں کا جال بھی تھا
Read More