سلام بحضور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ … سعید راجہ

پہلے پہل عجب لگی ہجرت حسین کی پھر مجھ کو یاد آ گئی نسبت حسین کی تھا اذن بھی, چراغ بھی گل کر دیئے گئے چھوڑی نہیں کسی نے رفاقت حسین کی کردار شرطِ خاص ہے انکار کیلئے اس کی کھری مثال ہے سیرت حسین کی کربل کی سرخ ریت پہ سجدہ ادا کیا بے مثل ہو گئی ہے عبادت حسین کی آنکھیں تو ہیں نگاہِ بصیرت کوئی نہیں کھلتی کسی پہ خاک حقیقت حسین کی ہر اک لہو کی بوند پہ لکھا ہے ان کا نام روشن ہے میرے…

Read More

سعید راجا ۔۔۔ مدارِ عشق میں آکر کلام کرنے لگا

مدارِ عشق میں آکر کلام کرنے لگا ازل سے چپ تھا جو فرفر کلام کرنے لگا تمام ہونے لگی تھی سماعتوں کی طلب پھر ایک روز وہ پتھر کلام کرنے لگا ہمارے شہر میں قدغن تھی بات کرنے پر میں اپنے آپ سے چھپ کر کلام کرنے لگا مِری زبان کو لکنت نے آ لیا تھا مگر وہ ہنس پڑا تو میں بہتر کلام کرنے لگا درونِ چشم ذرا سی تری جھلک اتری مِری نگاہ سے منظر کلام کرنے لگا یہ کس طلسم کدے میں صدا لگا بیٹھے جواب میں…

Read More

رانا سعید دوشی ۔۔۔ اہتمام

اہتمام ۔۔۔۔۔ جمالے! او جمالے! وہ بھوری بھینس جس نے مولوی کو سینگ مارا تھا گلی سے کھول کر ڈیرے پہ لے جا شکورے! بھینس کی کھُرلی کو رستے سے ہٹا دے پھاوڑے سے سارا گوھیا میل کے کھیتوں میں لے جا نذیراں! جا  ذرا ویہڑے میں بھی جھاڑو لگا دے سُن! یہ ساری چھانگ بیری کی اُٹھا لے جا جلا لینا، غلامے یار! یہ ۔۔۔ کیکر کے کنڈے ۔۔۔۔ چھوڑ ۔۔۔ میں خود ہی اُٹھا لوں گا تُو ایسا کر ۔۔۔ حویلی میں جو ”موتی“ اور ”ڈبُّو“ پھر رہے…

Read More

ذوالفقار نقوی

کھوجتا کیا ہے اندھیروں میں تفاہم کے دیے آ چراغوں میں لہو ڈال، اجالے ہوں گے

Read More

عزیز فیصل … کمال یہ ہے کہ کوئی کمال ہوتا نہیں

کمال یہ ہے کہ کوئی کمال ہوتا نہیں اور اس بساط پہ دل کو ملال ہوتا نہیں مری زبان ہے اتنی گریز حسنِ طلب ہر ایرے غیرے کے آگے سوال ہوتا نہیں زمانہ ساز کچھ ایسے بھی میرے شہر میں ہیں محال کام بھی جن پر محال ہوتا نہیں محبتوں کے کلینڈر میں یہ خرابی ہے کہ ختم ہجر کا کوئی بھی سال ہوتا نہیں حصار ِحسن میں، بندِ ادا میں آئے بغیر کوئی خیال بھی حسنِ خیال ہوتا نہیں اجڑ گئے ہیں کئی پیڑ میری بستی کے بیان مجھ…

Read More

حمد باری تعالی ۔۔۔ نسیمِ سحر

جو بھی لکھتا ہوں سخن پارۂ حمد لب پہ آ جاتا ہے اِک نعرۂ حمد گویا ہو جاتا ہے قرآں گویا ! جو بھی پڑھتا ہوں مَیں سیپارۂ حمد ہفت افلاک سے بھی بالا ہے کیا کہوں رفعتِ مینارۂ حمد ! حمدِ باری کا مَیں جو حرف لکھوں وہی بن جاتا ہے شہ پارۂ حمد پیش منظر ہوں کہ پس منظر ہوں دیدنی سب میں ہے نظّارۂ حمد دے گیا حمد کی سوغات نسیمؔ مہرباں ہو گیا ہر کارۂ حمد

Read More

ماجدالباقری

فکرِ معاش جسم سے آرام لے گئی جب تھک گیا تو فرش بھی بستر لگا مجھے

Read More

نسیمِ سحر ۔۔۔ تِرا مشورہ مان لوں میں؟

تِرا مشورہ مان لوں میں؟ یہ کھوٹا، کھرا مان لوں میں؟ میں اپنی اکائی کو توڑوں؟ تجھے دُوسرا مان لوں میں؟ فضا میں جو تتلی ہے رقصاں اُسے اپسرا مان لوں میں تری جستجو چھوڑ دوں کیا؟ تُجھے ماورا مان لوں میں؟ ستاروں سے خالی فلک کو ستاروں بھرا مان لوں میں؟ یہ سُوکھا ہوا زرد پتّا اسے کیوں ہَرا مان لوں میں؟ جو ابلیس کہتا ہے مجھ سے بتا، داورا ، مان لوں میں؟

Read More

خورشید رضوی

شاید اسی لیے ہے شوریدگی زیادہ آنے لگا سمندر گُھٹ گُھٹ کے ندّیوں میں

Read More

نسیمِ سحر ۔۔۔ گماں یہ نہ کیجو، بڑا وقت ہے

گماں یہ نہ کیجو، بڑا وقت ہے کہ پھٹتا ہوا چیتھڑا وقت ہے کبھی مان لیتا تھا باتیں مِری اور اب اپنی ضِد پر اَڑا وقت ہے یکایک ہی اُس کی گھڑی رُک گئی جو یہ کہہ رہا تھا، بڑا وقت ہے ! میں لاوقت ہوں اور مشکل میں ہوں مِرے راستے میں پڑا وقت ہے کہیں ٹوٹ جانا تو ہے لازمی کہ دریا میں کچا گھڑا وقت ہے کوئی وقت بھی اتنا اچھا نہ تھا مگر یہ بہت ہی کڑا وقت ہے مری عمر کچھ اِتنی کم بھی نہیں…

Read More