اُٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے (دیوانہ گورکھپوری)
Read MoreTag: Ghazal
سید آل احمد ۔۔۔ زرد جذبے ہوں تو کب نشوونما ملتی ہے
زرد جذبے ہوں تو کب نشوونما ملتی ہےفن کو تہذیب کی بارش سے جِلا ملتی ہے سر میں سودا ہے تو چاہت کے سفرپر نکلیںکرب کی دھوپ طلب سے بھی سوا ملتی ہے کون سی سمت میں ہجرت کا ارادہ باندھیںکوئی بتلائے کہاں تازہ ہوا ملتی ہے چاند چہرے پہ جواں قوسِ قزح کی صورتتیری زُلفوں سے گھٹاؤں کی ادا ملتی ہے ہم تو پیدا ہی اذیت کے لیے ہوتے ہیںہم فقیروں سے تو دُکھ میں بھی دُعا ملتی ہے کتنا دُشوار ہے اب منزلِ جاناں کا سفرخواہش قربِ بدن…
Read Moreباقی احمد پوری … یہ شہر نہیں آسان میاں
یہ شہر نہیں آسان میاں مشکل ہے یہاں گزران میاں اب کیا ہوگا، کل کیا ہوگا اک دھڑکا ہے ہر آن میاں ان گلیوں میں، بازاروں میں دیکھا ہے کوئی انسان میاں بے سود یہاں ہر سود ہوا نقصان پہ ہے نقصان میاں دیوار نہیں اور در بھی نہیں پھر کاہے کو دربان میاں ناممکن سی جو لگتی ہے اس بات کا ہے امکان میاں اس خاک سے خاک ہی نکلے گی یہ خاک تو خود ہی چھان میاں یہ کیسی جنگ مسلط ہے یہ کیسا ہے گھمسان میاں میں…
Read Moreسعود عثمانی … قلیل ہو کہ زیادہ مگر محبت ہو
قلیل ہو کہ زیادہ مگر محبت ہوکسی طرح بھی محبت ہو پر محبت ہو تمام عمر بھلا کون زندہ رہتا ہےسوائے اُس کے جسے عمر بھر محبت ہو مجھے تو چین نہ پڑتا تھا جب محبت تھییہ شخص بیٹھ نہ پائے اگر محبت ہو قبائے نم !یہی حق ہے برستی بارش کاخراب کرتی شرابور تر محبت ہو تو جانتا نہیں کتنی دراز ہوتی ہےاگر یہ زندگیٔ مختصر محبت ہو تو ایک شخص مجھے بھول جانا چاہیے ناسعودؔ مجھ کو اگر راس ہر محبت ہو
Read Moreخورشید رضوی
ہم تلاشِ لعل بے ہمتا میں اب نکلےکہ جب شام کے پرتو سے پتھر ارغوانی ہو گئے
Read Moreنیازت علی نیاز … بہت بھونچال لاتی ہے بڑی خوں ریز ہوتی ہے
بہت بھونچال لاتی ہے بڑی خوں ریز ہوتی ہے تہارا نام لوں تو دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے کسی کی یاد راتوں کو مجھے سونے نہیں دیتی مرا کاغذ قلم ہوتا ہے میری میز ہوتی ہے میں اک سیدھا پہاڑی آدمی کہتاہوں ،کرتا ہوں مگر وہ چالبازی میں تو جوں انگریز ہوتی ہے تمہیں کیسے بتاؤں زندگی کیسے گزرتی ہے ہمہ دم آنکھ اشکوں سے مری لبریز ہوتی ہے تعفن پھیلتا ہے زندگی میں جب بھی دنیا کا تری یادوں کی خوشبو سے نشاط انگیز ہوتی ہے محبت دار…
Read Moreجعفر علی خان ذکی
عشق میں نسبت نہیں بلبل کو پروانے کے ساتھ وصل میں وہ جان دے یہ ہجر میں جیتی رہے
Read Moreمحمد اویس ہمدم … مجھے درد اپنا چھپانا پڑے گا
مجھے درد اپنا چھپانا پڑے گا کسی کے لیے مسکرانا پڑے گا مجھے دل سے یادوں کی ان پھڑ پھڑاتی سبھی تتلیوں کو اڑانا پڑے گا مرا درد سمجھیں، یہ بے درد کیسے کسی صاحب دل کو لانا پڑے گا جو دھڑکن میں میری ردھم ہے سجن کا بھجن بھی سجن ہی کا گانا پڑے گا بڑا دکھ ہوا بوڑھی سانسوں کی سن کر کہ پھر زندگی کو منانا پڑے گا محبت کا جوہر ہے ضدوں کے گھر میں یہ نفرت کے گھر کو بتانا پڑے گا مری لاش پر…
Read Moreنواب مرزا داغ دہلوی … حیا و شرم سے چُپ چاپ کب وہ آ کے چلے
حیا و شرم سے چُپ چاپ کب وہ آ کے چلے اگر چلے تو مجھے سِیدھیاں سُنا کے چلے وہ شاد شاد دمِ صبح مُسکرا کے چلے ستم تو یہ ہے کہ مجھ کو گلے لگا کے چلے یہ چال ہے کہ قیامت ہے اے بُتِ کافر! خدا کرے کہ یوں ہی سامنے خدا کے چلے ہمارے دُودِ جگر میں ذرا نہیں طاقت یہ ابرِ تر ہے کہ گھوڑے پہ جو ہَوا کے چلے مرے بُجھائے بُجھے گی نہ یہ لگی دل کی بُجھاتے جاؤ کہاں آگ تم لگا کے…
Read Moreبہزاد لکھنوی
آہ کرتا ہوں اس لئے ہر دم میرے غم کا ، خدا گواہ رہے
Read More