مظفر حنفی ۔۔۔ اک ستارہ ہے جو بیدار کیا کرتا ہے

اک ستارہ ہے جو بیدار کیا کرتا ہے رات بھر تذکرۂ یار کیا کرتا ہے بیٹھنے پاتے نہیں سایۂ دیوار میں ہم کوئی گریہ پسِ دیوار کیا کرتا ہے وہ بھڑکتا ہے مرے سینے میں شعلے جیسا پھر اسی آگ کو گلزار کیا کرتا ہے ایک ناسور ہے احساس میں حق تلفی کا جو مری ذات کو مسمار کیا کرتا ہے بادباں کھول کے دیکھو تو سفینے والو خشک دریا بہت اصرار کیا کرتا ہے کوئی خوشبو کی طرح نام ترا لے لے کر پھول کے کان میں گنجار کیا…

Read More

مظفر حنفی ۔۔۔ ہوا ناراض تھی ہم سے کنارا دور تھا ہم سے

ہوا ناراض تھی ہم سے کنارا دور تھا ہم سے سمندر تھا کہ یاں سے واں تلک بھر پور تھا ہم سے خودی، خود آگہی، خودرائی جس میں جلوہ گر ہوتے وہ آئینہ تو پہلے دن ہی چکنا چور تھا ہم سے محبت اور جو آنا مرگ، رونا داستاں گو کا گھنی باتوں کا جنگل رات بھر پُرنور تھا ہم سے مزا بھی ہے سزا بھی ہے مسلسل رقص کرنے میں مگر ہم رقص ہم تھے آسماں مجبور تھا ہم سے خود اپنے کو بھی اک پردے میں رہ کر…

Read More

حامد یزدانی ۔۔۔۔ نہ چھت نہ دیوار تھی فقط در بنا لیے تھے

نہ چھت نہ دیوار تھی فقط در بنا لیے تھے یہ ہم نے کیسے عجیب سے گھر بنا لیے تھے وہ جس ورق سے ہمیں بنانا تھی ایک کشتی اُسی ورق پر کئی سمندر بنا لیے تھے نہ جانے کیوں آسماں بہت یاد آ رہا تھا سو کچھ ستارے ہی سونی چھت پر بنا لیے تھے وہ کہہ رہے تھے کہ عشق تقلید چاہتا ہے سو ہم نے بھی سارے اشک، پتھر بنا لیے تھے تو پھر وہ صحرا کے ساتھ رہتا تھا اپنے گھر میں سبھی دریچے ہوا کے…

Read More

افتخار شاہد ۔۔۔ درد کچھ اور بڑھا آپ کے آ جانے سے

درد کچھ اور بڑھا آپ کے آ جانے سے ہم کو رخصت نہ ملی اب بھی شفاخانے سے ایک مدت مَیں ترے لمس کی شدت میں رہا چھو گیا ہاتھ ترے ہاتھ کے دستانے سے اس نے بھی طرزِ تکلم کو سنبھالے رکھا میں بھی ڈرتا ہی رہا بات کے بڑھ جانے سے ورنہ میں ہاتھ پہ کرنے ہی لگا تھا بوسہ خواب ٹوٹا ہے مگر آپ کے گھبرانے سے ٹھوکریں کھا کے بھی پلٹیں تو غنیمت جانو کون سمجھا ہے یہاں بات کے سمجھانے سے ہم کو حاجت ہی…

Read More

ثروت حسین

ثروت تم اپنے لوگوں سے یوں ملتے ہو جیسے ان لوگوں سے ملنا پھر نہیں ہو گا

Read More

عادل منصوری

وہ کون تھا جو دن کے اجالے میں کھو گیا یہ چاند کس کو ڈھونڈنے نکلا ہے شام کو

Read More

قابل اجمیری

بے کسی سے بڑی امیدیں ہیں تم کوئی آسرا نہ دے جانا

Read More

عزیز اعجاز

تعلقات ہی اے دوست تجھ سے نازک تھے کڑا دباؤ پڑا ٹوٹتے سہارے پر

Read More

احمد فراز

سُنا ہے اُس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت مکیں اُدھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں

Read More