محمد خالد

یہ مسافت حدِ یک خواب سے آگے نہ گئی ہم نے اس وادئ غربت میں گزارا ہی کیا

Read More

محمد خالد ۔۔۔ کچھ کارِ عناصر تہہِ دریا بھی عجب ہے

کچھ کارِ عناصر تہہِ دریا بھی عجب ہے اِس خاک میں پنہاں کوئی شعلہ بھی عجب ہے دُنیا سے کچھ ایسا بھی نہیں ربط ہمارا سنتے ہیں مگر لذتِ دنیا بھی عجب ہے ہے دل ہی کسی آرزوئے وصل کا مسکن دل کا مگر اس راہ پہ آنا بھی عجب ہے وہ دید ہے اب عالمِ موجود سے آگے اس ساعتِ مسعود کا دھوکا بھی عجب ہے طے ہوتی چلی جاتی ہے بے فیض مسافت اس راہ میں دیوار کا آنا بھی عجب ہے کھلتا نظر آتا ہی نہیں ہے…

Read More

ڈاکٹر کبیر اطہر

ترے بغیر گزاری ہے زندگی مَیں نے تو اِس ستم کی تلافی بھی ماہ و سال میں رکھ

Read More

ڈاکٹر اشفاق ناصر ۔۔۔ عکس کو پُھول بنانے میں گزر جاتی ہے

عکس کو پُھول بنانے میں گزر جاتی ہے زندگی آئنہ خانے میں گزر جاتی ہے شام ہوتی ہے تو لگتا ہے کوئی رُوٹھ گیا اور شب اُس کو منانے میں گزر جاتی ہے ہر محبّت کے لیے دِل میں الگ خانہ ہے ہر محبت اُسی خانے میں گزر جاتی ہے زندگی بوجھ بتاتا تھا، بچھڑنے والا یہ تو بس ایک بہانے میں گزر جاتی ہے جو گھڑی رکھتے ہیں اِظہارِ محبّت کے لیے وہ گھڑی بات بنانے میں گزر جاتی ہے تو بتا، آنکھ نیا خواب کہاں سے دیکھے روز…

Read More

ڈاکٹر ابرار احمد ۔۔۔ مٹی تھی کس جگہ کی

مٹی تھی کس جگہ کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے فیض ساعتوں میںمنہ زور موسموں میںخود سے کلام کرتے اکھڑی ہوئی طنابوںدن بھر کی سختیوں سےاکتا کے سو گئے تھے بارش تھی بے نہایتمٹی سے اٹھ رہی تھیخوشبو، کسی وطن کیخوشبو سے جھانکتے تھےگلیاں، مکاں، دریچےاور بچپنے کے آنگناک دھوپ کے کنارےآسایشوں کے میداںاُڑتے ہوئے پرندے اک اجلے آسماں پردو نیم باز آنکھیںبیداریوں کی زد پرتاحدِ خاک اُڑتےبے سمت، بے ارادہکچھ خواب فرصتوں کےکچھ نام چاہتوں کے کن پانیوں میں اُترےکن بستیوں سے گذرےتھی صبح کس زمیں پراور شب کہاں پہ آئیمٹی تھی کس جگہ…

Read More

ڈاکٹر فخر عباس ۔۔۔ رُوپ نگر کی رانی سے ڈر لگتا ہے

رُوپ نگر کی رانی سے ڈر لگتا ہے خوشبو اور جوانی سے ڈر لگتا ہے اُس کی چاہت حد سے بڑھتی جاتی ہے اب تو اُس دیوانی سے ڈر لگتا ہے اُس کے پیار میں آگے جا تو سکتا ہوں لیکن اِس نادانی سے ڈر لگتا ہے بچتا ہوں میں آئینے سے مجھ کو بھی آنکھوں کی ویرانی سے ڈر لگتا ہے خوف ہے مجھ کو رات گئے تک رونے سے غم کی یاد دہانی سے ڈر لگتا ہے رُت کے ہر طوفان سے ہوں مانوس، مگر بے موسم طغیانی…

Read More

نواب مصطفٰی خان شیفتہ

پانی وضو کو لائو،  رُخِ شمع زرد ہے مینا اٹھائو وقت اب آیا نماز کا

Read More