میں رقص کرتا ہوا،آئنے بناتا ہوا گزرگیا تری گلیوں سے مسکراتا ہوا یہ خالی گھر ہے یہاں کوئی بھی نہیں رہتا بس ایک سایہ سا پھرتا ہے لڑکھڑاتا ہوا پلٹ کے آیا تو چہرے پہ دن اتر آیا چراغ بن کے گیا تھا جو جگمگاتا ہوا میں دل کی کہتا رہا اس کے روبرو پیہم وہ بات سنتا ہوا اور سر ہلاتا ہوا وہ ہنس رہا تھا کہ اِس میں تو اس کا ذکر نہیں میں روپڑا تھا اسے داستاں سناتا ہوا تمام رات مرے ساتھ ساتھ چلتا رہا زعیم…
Read MoreMonth: 2020 جون
ستیہ پال آنند ۔۔۔ پیش و پس
پیش و پس ۔۔۔۔۔۔۔ مَیں کہ ناخوب تھا خوب سے خوب تَر کی طرف جب چلا، تو کُھلا پیش تھے میرے اپنے قدم پر سفر پس کی جانب اُلٹ پیچ میں منقلب تھا کہ پنجے مرے ایڑیوں کی جگہ بست تھے اور پرانی، دریدہ پھٹی ایڑیاں پائوں کی راہبر، سامنے منسلک تھیں گھسٹتی ہوئیں! خوب سے خوب تر کیسے بنتا کہ مَیں کل کا یاجوج ماجوج انساں بنا تو بھی وحشی کا وحشی رہا! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: جو نسیمِ خندہ چلے (منتخب نظمیں) پبلشر: پبلشرز اینڈ ایڈورٹائرز، دہلی سنِ اشاعت:…
Read Moreکورونا اور ہمارے سیاسی، معاشرتی رویے
توصیف تبسم کی غزل
میر مہدی مجروح
مجروح ہوئے مائل کس آفتِ دوراں پر اے حضرتِ من! تم نے دل بھی نہ لگا جانا
Read Moreشاہد ماکلی ۔۔۔ اِن آتی جاتی رُتوں سے نہیں جڑا ہُوا مَیں
اِن آتی جاتی رُتوں سے نہیں جڑا ہُوا مَیں ترے خیال کے آثار میں ہَرا ہُوا مَیں پہنچ گیا ہوں کسی لاوجود لمحے میں دوامی ساعتوں کے خواب دیکھتا ہُوا مَیں کسی کے دستِ تسلی سے اس لیے ہے گریز کہیں چھلک نہ پڑوں رنج سے بھرا ہُوا مَیں اب انتظار کے پل ختم ہونے والے ہیں پلٹنے والا ہوں اپنی طرف گیا ہُوا مَیں کنارے لگنے ہی والا ہوں تیری یاد سمیت خود اپنی موجِ تماشا پہ تیرتا ہُوا مَیں یہ ممکنات کی دنیا ہے، کچھ بھی ممکن ہے…
Read Moreایک تصویر کی محویت ۔۔۔ نصیر احمد ناصر
ایک تصویر کی محویت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنا گہرا استغراق جیسے جنگل ہو خاموش جیسے پانی ہو مدہوش جیسے باہم ہجر وصال جیسے خواب میں کوئی خیال …………………..
Read Moreمیاں داد خاں سیاح
قیس جنگل میں اکیلا ہے، مجھے جانے دو خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو
Read Moreعلی ارمان ۔۔۔ جلا تیری تمنّا کا چراغ آہستہ آہستہ
جلا تیری تمنّا کا چراغ آہستہ آہستہ ملا مجھ کو حقیقت کا سراغ آہستہ آہستہ دبے پاؤں یہ دنیا خلوتِ خوں میں اترتی ہے پکڑتا ہے جگہ دل پر یہ داغ آہستہ آہستہ بس اک لچکیلی،شرمیلی،رسیلی نرم ٹہنی سے کھِلا تھا سامنے میرے وُہ باغ آہستہ آہستہ یہ بے معنی سہانی دھڑکنیں آباد رہنے دو کہیں دل بھی نہ ہو جائے دماغ آہستہ آہستہ پرانا شہر نکلا ہے کوئی دل کی کھدائی سے ملے گا اب مجھے خود سے فراغ آہستہ آہستہ خبر تھی اس لیے میں تشنگی میں سر…
Read Moreسنگ میل ۔۔۔ حمایت علی شاعر
سنگِ میل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے سینے کے دہکتے ہوئے انگارے کو اب تو جس طرح بھی ممکن ہو بجھا دے کوئی اپنی آنکھوں میں بھی ہوں، آنکھ سے اوجھل بھی ہوں میں گماں ہوں کہ حقیقت ہوں، بتا دے کوئی دھوپ چھاؤں کا یہ انداز رہے گا کب تک مجھ کو اِس خواب کے عالم سے جگا دے کوئی میں ہوں اِس دشتِ طلسمات کا وہ شہزادہ جس کے سر پر ہے فلک، گنبد بے در کی طرح میری منزل، مرے سینے پہ لکھی ہے لیکن اپنی ہی راہ میں ہوں…
Read More