نقش فریادی ہےکس کی شوخئ تحریر کا کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا کاوکاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ صبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئے شیر کا جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا بس کہ ہوں غالب، اسیری میں بھی آتش زیِر پا موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
Read MoreMonth: 2020 دسمبر
فہمیدہ ریاض … کاغذ! تیرا رنگ فق کیوں ہو گیا؟
کاغذ! تیرا رنگ فق کیوں ہو گیا؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کاغذ! تیرا رنگ فق کیوں ہو گیا؟ ” شاعر! تیرے تیور دیکھ کر” کاغذ! تیرے رُخسار پر یہ داغ کیسے ہیں "شاعر! میں تیرے آنسو پی نہ سکا” کاغذ! میں تجھ سے سچ کہوں "شاعر! میرا دل پھٹ جائے گا”
Read Moreہادی مچھلی شہری
درد سا اُٹھ کے نہ رہ جائے کہیں دل کے قریب میری کشتی نہ کہیں غرق ہو ساحل کے قریب
Read Moreشمشیر حیدر ۔۔۔ دنوں سے کیسے شبوں میں ڈھلتے ہیں دن ہمارے
میر تقی میر ۔۔۔ وہ اک روش سے کھولے ہوئے بال ہوگیا
وہ اک روش سے کھولے ہوئے بال ہوگیا سنبل چمن کا مفت میں پامال ہوگیا کیا امتدادِ مدتِ ہجراں بیاں کروں ساعت ہوئی قیامت و مہ سال ہوگیا دعویٰ کیا تھا گل نے ترے رخ سے باغ میں سیلی لگی صبا کی تو منہ لال ہوگیا قامت خمیدہ رنگ شکستہ بدن نزار تیرا تو میر غم میں عجب حال ہوگیا
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ جس سر کو غرور آج ہے یاں تاج وری کا
جس سر کو غرور آج ہے یاں تاج وری کا کل اُس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت اسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا ہر زخمِ جگر داورِ محشر سے ہمارا انصاف طلب ہے تری بیداد گری کا اپنی تو جہاں آنکھ لڑی پھر وہیں دیکھو آئینے کو لپکا ہے پریشاں نظری کا صد موسمِگل ہم کو تہِ بال ہی گزرے مقدور…
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ تا گور کے اوپر وہ گل اندام نہ آیا
تا گور کے اوپر وہ گل اندام نہ آیا ہم خاک کے آسودوں کو آرام نہ آیا بے ہوشِ مئے عشق ہوں کیا میرا بھروسا آیا جو بخود صبح تو میں شام نہ آیا کس دل سے ترا تیرِ نگہ پار نہ گزرا کس جان کو یہ مرگ کا پیغام نہ آیا دیکھا نہ اُسے دور سے بھی منتظروں نے وہ رشکِ مہِ عید لبِ بام نہ آیا سو بار بیاباں میں گیا محملِ لیلیٰ مجنوں کی طرف ناقہ کوئی گام نہ آیا اب کے جو ترے کوچے سے جاؤں…
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ دیکھے گا جو تجھ رُو کو سو حیران رہے گا
دیکھے گا جو تجھ رُو کو سو حیران رہے گا وابستہ ترے مُو کا پریشان رہے گا منعم نے بِنا ظلم کی رکھ گھر تو بنایا پر آپ کوئی رات ہی مہمان رہے گا چھوٹوں کہیں ایذا سےلگا ایک ہی جلاد تا حشر مرے سر پہ یہ احسان رہے گا چمٹے رہیں گے دشتِ محبت میں سر و تیغ محشر تئیں خالی نہ یہ میدان رہے گا جانے کا نہیں شور سخن کا مرے ہرگز تا حشر جہاں میں مرا دیوان رہے گا دل دینے کی ایسی حَرَکت اُن نے…
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ چمن میں گل نے جو کل دعوئ جمال کیا
چمن میں گل نے جو کل دعوئ جمال کیا جمالِ یار نے منہ اُس کا خوب لال کیا فلک نے آہ تری رہ میں ہم کو پیدا کر بہ رنگِ سبزۂ نورستہ پائمال کیا رہی تھی دم کی کشاکش گلے میں کچھ باقی سو اُس کی تیغ نے جھگڑا ہی انفصال کیا بہارِ رفتہ پھر آئی ترے تماشے کو چمن کو یمنِ قدم نے ترے نہال کیا جواب نامہ سیاہی کا اپنی ہے وہ زلف کسو نے حشر کو ہم سے اگر سوال کیا لگا نہ دل کو کہیں کیا…
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ اُلٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
اُلٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا دیکھا اس بیماریِ دل نے آخر کام تمام کیا عہدِ جوانی رو رو کاٹا، پیر ی میں لیں آنکھیں موند یعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا حرف نہیں جاں بخشی میں اس کی خوبی اپنی قسمت کی ہم سے جو پہلے کہہ بھیجا سو مرنے کا پیغام کیا ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا سارے رند اوباش جہاں کے تجھ سے سجود میں…
Read More