خمار بارہ بنکوی ۔۔۔ نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قیامت میں ہر شخص حیرت زدہ ہے مرے اشک ہیں، دامنِ مصطفیٰ ہے یہ کون آج دُنیا میں پیدا ہُوا ہے زمیں کی زیارت کو عرش آ گیا ہے یہ کیوں سانس اُکھڑی ہوئی ہے بُتوں کی یہ کیوں چہرہء کفر اُترا ہُوا ہے دیے ہیں کہ جلتے چلے جا رہے ہیں یہ کیوں آج اتنی مودب ہَوا ہے یہ جشنِ ولادت ہے اُس محترم کا بشر ہو کے بھی جو حبیبِ خدا ہے درِ کعبہ بھی ہے درِ کعبہ…

Read More

احسان شاہ ۔۔۔ ہجومِ شہر پہ میں آشکار ہوتے ہوئے

ہجومِ شہر پہ میں آشکار ہوتے ہوئے اکیلا ہو گیا ہوں، بے شمار ہوتے ہوئے ہوائے وحشتِ شب کھا رہی ہے میرا وجود "میں خود کو دیکھ رہا ہوں غبار ہوتے ہوئے” وہ مر گیا تو کھلا، مر گیا ہے فاقے سے پڑوس میں کئی سرمایہ دار ہوتے ہوئے خوشی سے ڈوب گیا میں ترے سمندر میں کہ سطحِ آب پہ تنکے ہزار ہوتے ہوئے یہ کس کا عکس مرے آئنے پہ ٹھہرا ہے سمٹ گئی ہے نظر بے کنار ہوتے ہوئے دئیے کے بدلے مَیں دل کو جلا کے…

Read More

سید علی مطہر اشعر ۔۔۔ کس طرح نزدیک تر ہوں فاصلے کیسے گھٹائیں

کس طرح نزدیک تر ہوں فاصلے کیسے گھٹائیں پھول سے چہرے ہیں لیکن پتھروں جیسی انائیں خوف کی بنیاد پر اُٹھے ہیں بچوں کے بدن بوئے خوں لاتی رہی ہیں گھر میں مقتل کی ہوائیں آپ کی خوشیوں کے گہوارے خدا قائم رکھے آیئے ہم آپ کو اپنا عزا خانہ دکھائیں رابطہ رہتا ہے ساری رات دیواروں کے ساتھ گفتگو کرتی ہے مجھ سے گھر کی سائیں سائیں پیرہن تیرا ہی جیسا ہم بھی لے آئیں، مگر اپنے چہرے سے نقوشِ مفلسی کیسے مٹائیں ہم بھی ان سے گفتگو کر…

Read More

غالب ۔۔۔ محرم نہیں ہے تو ہی نواہائے راز کا

محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا یاں ورنہ جو حجاب ہے، پردہ ہے ساز کا رنگِ شکستہ صبحِ بہارِ نظارہ ہے یہ وقت ہے شگفتنِ گل ہائے ناز کا تو اور سوئے غیر نظرہائے تیز تیز میں اور دُکھ تری مِژہ ہائے دراز کا صرفہ ہے ضبطِ آہ میں میرا، وگرنہ میں طعمہ ہوں ایک ہی نفَسِ جاں گداز کا ہیں بسکہ جوشِ بادہ سے شیشے اچھل رہے ہر گوشۂ بساط ہے سر شیشہ باز کا کاوش کا دل کرے ہے تقاضا کہ ہے ہنوز ناخن پہ…

Read More

عنبرین صلاح الدین

اُس کے لفظوں کے مقابل میں بھلا کیا کہتی میں نے حیران ہی رہنے میں سہولت دیکھی

Read More

غالب ۔۔۔ ستایش گر ہے زاہد ، اس قدر جس باغِ رضواں کا

ستایش گر ہے زاہد ، اس قدر جس باغِ رضواں کا وہ اک گلدستہ ہے ہم بیخودوں کے طاقِ نسیاں کا بیاں کیا کیجئے بیدادِکاوش ہائے مژگاں کا کہ ہر یک قطرہء خوں دانہ ہے تسبیحِ مرجاں کا نہ آئی سطوتِ قاتل بھی مانع ، میرے نالوں کو لیا دانتوں میں جو تنکا ، ہوا ریشہ نیستاں کا دکھاؤں گا تماشہ ، دی اگر فرصت زمانے نے مرا ہر داغِ دل ، اِک تخم ہے سروِ چراغاں کا کیا آئینہ خانے کا وہ نقشہ تیرے جلوے نے کرے جو پرتوِ…

Read More

ممتاز اطہر

جھیل میں عکسِ شام آ پڑا ہے یہ سخن کس کے نام آ پڑا ہے

Read More

حمیدہ شاہین ۔۔۔ گرہ کھل رہی ہے

"گرہ کھل رہی ہے” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُدھڑنے کا لمحہ سَروں پر لٹکتی ہوئی تیغ ہے اب گماں اور حقیقت کی نیلی فضا میں کہیں تیرتا ہے وہ ذرّہ سا پَل جب ترے ذہن و دل پر وہ امکان اُترے جو سب راز کھولے تری انگلیاں اُس سِرے کو پکڑ لیں جہاں اک قدیمی تسلسل تعطّل میں رکھا گیا ہے تری مضطرب انگلیاں ایک ہلکی سی جنبش سے ترتیب تبدیل کر دیں سِرا کھینچ کر تُو نئے ہی تسلسل کا آغاز کر دے وہ دہشت ،جو امکان کی قید میں ہے اُسے…

Read More

اسداللہ خاں غالب ۔۔۔ صحرا، مگر، بہ تنگئ چشمِ حُسود تھا

جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار صحرا، مگر، بہ تنگئ چشمِ حُسود تھا آشفتگی نے نقشِ سویدا کیا درست ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا لیتا ہوں مکتبِ غمِ دل میں سبق ہنوز لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا ڈھانپا کفن نے داغِ عیوبِ برہنگی میں، ورنہ ہر لباس میں ننگِ وجود تھا تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن اسد سرگشتۂ خمارِ رسوم و قیود تھا

Read More