شبِ ہجر میں کم تظلم کیا کہ ہمسایگاں پر ترحم کیا کہا میں نے کتنا ہے گل کا ثبات کلی نے یہ سن کر تبسم کیا زمانے نے مجھ جُرعہ کش کو ندان کیا خاک و خشتِ سرِ خم کیا جگر ہی میں یک قطرۂ خوں سرشک پلک تک گیا تو تلاطم کیا کسو وقت پاتے نہیں گھر اُسے بہت میر نے آپ کو گم کیا
Read MoreMonth: 2020 دسمبر
میر تقی میر ۔۔۔ اس عہد میں الہی محبت کو کیا ہوا
اس عہد میں الہی محبت کو کیا ہوا چھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا امیدوارِوعدۂ دیدار مرچلے آتے ہی آتے یارو قامت کو کیا ہوا اس کے گئے پر ایسی گئی دل سے ہم نشیں معلوم بھی ہوا نہ کہ طاقت کو کیا ہوا بخشش نے مجھ کو ابرِ کرم کی کیا خجل اے چشم جوشِ اشک ندامت کو کیا ہوا جاتا ہے یار تیغ بہ کف غیر کی طرف اے کشتۂ ستم تری غیرت کو کیا ہوا تھی صَعبِ عاشقی کی ہدایت ہی میر پر کیا…
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ جامۂ مستیِ عشق اپنا مگر کم گھیر تھا
جامۂ مستیِ عشق اپنا مگر کم گھیر تھا دامنِ تر کا مرے دریا ہی کا سا پھیر تھا دیر میں کعبے گیا میں خانقہ سے اب کے بار راہ سے مے خانے کی اس راہ میں کچھ پھیر تھا بلبلوں نے کیا گُل افشاں میر کا مرقد کیا دور سے آیا نظر پھولوں کا اک ڈھیر تھا
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ نکلے ہے چشمہ جو کوئی جوش زناں پانی کا
نکلے ہے چشمہ جو کوئی جوش زناں پانی کا یاد وہ ہے وہ کسو چشم کی گریانی کا لطف اگر یہ ہے بتاں صندلِ پیشانی کا حسن کیا صبح کے پھر چہرۂ نورانی کا کفر کچھ چاہیے اسلام کی رونق کے لیے حسن زنار ہے تسبیحِ سلیمانی کا درہمی حال کی ہے سارے مرے دیواں میں سَیر کر تو بھی یہ مجموعہ پریشانی کا جان گھبراتی ہے اندوہ سے تن میں کیا کیا تنگ احوال ہے اس یوسفِ زندانی کا کھیل لڑکوں کا سمجھتے تھے محبت کے تئیں ہے بڑا…
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ کیا میں بھی پریشانیِ خاطر سے قریں تھا
کیا میں بھی پریشانیِ خاطر سے قریں تھا آنکھیں تو کہیں تھیں دلِ غم دیدہ کہیں تھا کس رات نظر کی ہے سوئے چشمکِ انجم آنکھوں کے تلے اپنے تو وہ ماہ جبیں تھا آیا تو سہی وہ کوئی دم کے لیےلیکن ہونٹوں پہ مرے جب نفسِ باز پسیں تھا اب کوفت سے ہجراں کی جہاں تن پہ رکھا ہاتھ جودرد و الم تھا سو کہے تُو کہ وہیں تھا جانا نہیں کچھ جز غزل آ کر کے جہاں میں کُل میرے تصرف میں یہی قطعہ زمیں تھا نام آج…
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ تھا مستعار حسن سے اُس کے جو نور تھا
تھا مستعار حسن سے اُس کے جو نور تھا خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا ہنگامہ گرم کن جو دلِ ناصبور تھا پیدا ہر ایک نالے سے شورِ نشور تھا پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تئیں معلوم اب ہوا کہ بہت میں بھی دور تھا آتش بلند دل کی نہ تھی ورنہ اے کلیم یک شعلہ برقِ خرمنِ صد کوہِ طور تھا مجلس میں رات ایک ترے پرتوِ بغیر کیا شمع کیا پتنگ ہر اک بے حضور تھا منعم کے پاس قاقم و…
Read Moreڈاکٹر نواز کاوش…بہاول پور میں اردو ادب
بہاول پور میں اردو ادب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہاول پور تاریخی ، تہذیبی اور ثقافتی اعتبار سے اپنا ایک تشخص رکھتا ہے۔ سرسوتی کے مقدس دریا کی وجہ سے اس علاقے کا ویدوں میں کئی جگہ ذکر آیا ہے۔ گنویری والا کا مقام تاریخ کا گم گشتہ باب ہے۔جو بہاول پور کے ریگزار میں آج بھی شاندار ماضی کا گواہ ہے۔ پتن منارا، سوئی وہار اور ایسے کئی دوسرے مراکز بہاول پور کے مختلف علاقوں میں اپنی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ مسلمانوں نے سندھ کے راستے ملتان تک فتوحات کیں…
Read Moreانتساب ۔۔۔۔ فہمیدہ ریاض
انتساب ۔۔۔۔۔۔ اپنے دل کا کھنکتا سکہ جو تم ہر صبح سورج کے ساتھ ہوا میں اُچھالتے ہو اگر خوف کے رُخ پر گرے تو یہ مت بُھلانا کہ شجاعت اسی کے دوسرے رُخ پر کندہ ہے سو یہ ایک داؤ بھی اسی بازی کے نام جو ہم نے بدی ہے زندگی سے۔۔۔۔۔
Read Moreرحمان حفیظ ۔۔۔ متن و سنَد سے اور نہ تسطیر سے اْٹھے
متن و سنَد سے اور نہ تسطیر سے اُٹھے جھگڑے تمام حلقۂ تعبیر سےاُٹھے اِک جبر کا فریم چڑاتا ہے میرا مُونہہ پردہ جب اختیار کی تصویر سے سےاُٹھے فکر ِسخن میں یوں بھی ہوا ہے کبھی کہ ہم بیٹھے بٹھائے بارگہِ میر سے سےاُٹھے اس دل میں اک چراغ تھا سو وہ بھی گُل ہوا ممکن ہے اب دھواں مری تحریر سےاُٹھے پلکوں پہ یہ ڈھلکتے ہوئے اشک مت بنا ممکن ہے اتنا بار نہ تصویر سے سےاُٹھے
Read Moreارشد عباس ذکی ۔۔۔ ہوا سے ہاتھ چھڑانا بہت ضروری تھا
ہوا سے ہاتھ چھڑانا بہت ضروری تھا کہ اب چراغ جلانا بہت ضروری تھا ہمارے زخم اگر اور بڑھ گئے بھی تو کیا تمہارا درد بٹانا بہت ضروری تھا مری زمین مرے دل میں بھی شگاف سا ہے یہ راز تجھ کو بتانا بہت ضروری تھا طویل نیند سے بیدار ہو رہے تھے شجر سو اب چراغ بجھانا بہت ضروری تھا مری تو جنگ مرے اپنے ہی وجود سے تھی عدو کو ساتھ ملانا بہت ضروری تھا یہ راستے جو مرے چار سو بچھے تھے ذکی کسی طرف کو تو…
Read More