برے بھلے کا اسے فرق ہی نہیں معلوم کہیں وہ گھر نہ جلا دے، دیا جلاتے ہوئے
Read MoreMonth: 2021 اگست
شفیق آصف
بچھڑیں گے تم سے اس کا تو خدشہ رہا مگر ترکِ تعلقات کا وہم و گماں نہ تھا
Read Moreاقبال قمر…. ذرا سی بات چلی داستانیں کھلنے لگیں
ذرا سی بات چلی داستانیں کھلنے لگیں کہ تیر تھے ہی نہیں اور کمانیں کھلنے لگیں وہ اک خیال جو ہم نے کبھی تراشا تھا اسی کے نام پہ ساری دکانیں کھلنے لگیں بس ایک عزمِ مصمم ہے راستے کی کلید قدم اٹھایا نہیں اور چٹانیں کھلنے لگیں سکوت تھا کہ سبھی حلقہ ہائے نور میں تھے چراغ بجھتے گئے اور زبانیں کھلنے لگیں خدا نہ کردہ ہو عجلت مزاج تم سا قمر شکار آیا نہیں اور مچانیں کھلنے لگیں
Read Moreیونس خیال … آکسیجن پر آخری مکالمہ
آکسیجن پر آخری مکالمہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گُھٹن بڑھ رہی ہے مجھے سانس لینے میں دِقت سی محسوس ہونے لگی ہے کہاں ہے ملازم ! ذرا آ کے کھڑکی یا دَرکھول دیتا ذرادیرپہلے اُسے میں نے گھرکوروانہ کیاتھا جہاں اس کی بیوی اکیلی پڑی ہے سنا ہے اسے بھی ہماری طرح سانس کامسئلہ ہے میں ہوں نا یہاں تم کوخوددیکھتاہوں میں اٹھتاہوں بس یہ سلنڈر کی نالی کو خود سے ہٹالوں ذرا دور کرلوں مگریہ تمھارے سلنڈرکامیٹر لرزتاساکیوں ہے اوہ میرے خدایا کہیں آکسیجن ۔۔۔ رکو ! تم نہ اُٹھنا تمھیں کچھ…
Read Moreمحمد افتخار شفیع
میں نکل آتا ہوں بازار کے سناٹے میں گھر میں تو خوف کا احساس نہیں رہتا ہے
Read Moreشہزاد احمد ۔۔۔ نئی پود
نئی پود۔۔۔۔۔۔اُڑ کر گلِ نو بہار کی باسآئی ہے اُداس وادیوں میںکھلتے ہوئے سرکشیدہ پودےہاتھوں کو ہلا کر کہہ رہے ہیں” اے دوڑتے وقت کے پیمبر!جھکتے ہوئے پیڑ کو بتا دےٹوٹی ہوئی شاخ کو سنا دےیخ بستہ سمندروں سے کہہ دےان کہر کے چادروں کے پیچھےسورج کی تمازتیں جواں ہیںاور وقت کے قافلے رواں ہیں”
Read Moreشہزاد احمد ۔۔۔ گزرنے ہی نہ دی وہ رات مَیں نے
گزرنے ہی نہ دی وہ رات مَیں نے گھڑی پر رکھ دیا تھا ہات مَیں نے فلک کی روک دی تھی مَیں نے گردش بدل ڈالے تھے سب حالات مَیں نے ذرا سی رہ گئی ہے عمر باقی نبھانا ہے کسی کا ساتھ مَیں نے مَیں اُس کی ذات میں گم ہو گیا ہوں مٹا ڈالی ہے اپنی ذات مَیں نے مری آنکھوں میں صحرا بس گیا ہے کبھی دیکھے نہیں باغات مَیں نے فلک کشکول لے کر آ گیا تھا ستارے کر دیے خیرات میں نے بڑی مشکل سے ہاتھ…
Read Moreشہزاد احمد ۔۔۔ نہ سہی کچھ مگر اتنا تو کیا کرتے تھے
نہ سہی کچھ مگر اتنا تو کیا کرتے تھے وہ مجھے دیکھ کے پہچان لیا کرتے تھے آخرِ کار ہوئے تیری رضا کے پابند ہم کہ ہر بات پہ اصرار کیا کرتے تھے خاک ہیں اب تری گلیوں کی وہ عزت والے جو ترے شہر کا پانی نہ پیا کرتے تھے اب تو انسان کی عظمت بھی کوئی چیز نہیں لوگ پتھر کو خدا مان لیا کرتے تھے دوستو! اب مجھے گردن زَدَنی کہتے ہو تم وہی ہو کہ مرے زخم سیا کرتے تھے ہم جو دستک کبھی دیتے تھے…
Read Moreشہزاد احمد
کمروں میں چھپنے کے دن ہیں اور نہ برہنہ راتیں ہیں اب آپس میں کرنے والی اور بہت سی باتیں ہیں
Read More