دیگر نشنیدیم چنین فتنه که برخاست از خانه برون آمد و بازار بیاراست در وهم نگنجد که چه دلبند و چه شیرین در وصف نیاید که چه مطبوع و چه زیباست صبر و دل و دین میرود و طاقت و آرام از زخم پدید است که بازوش تواناست از بهرِ خدا روی مپوش از زن و از مرد تا صنعِ خدا مینگرند از چپ و از راست چشمی که تو را بیند و در قدرتِ بیچون مدهوش نماند نتوان گفت که بیناست دنیا به چه کار آید و فردوس چه…
Read MoreMonth: 2022 جون
فرید الدین عطار
ہفت شہرِ عشق را عطّار گشت ما ہنوز اندر خمِ یک کوچہ ایم
Read Moreافتخار عارف
دعا کو ہات اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے
Read Moreجمال احسانی
شجر بھی کاٹنے ہیں آنگنوں سے پرندوں کا بھی دل رکھنا پڑے گا
Read Moreاحمد فراز
ہر خواب عذاب ہو چکا ہے اور تو بھی تو خواب ہو چکا ہے
Read Moreاحمد فراز … برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سا
برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سااب ذہن ميں نہيں ہے پر نام تھا بھلا سا ابرو کھچے کھچے سے، آنکھيں جھکی جھکی سیباتيں رکی رکی سی، لہجہ تھکا تھکا سا الفاظ تھے کہ جگنو آواز کے سفر ميں تھےبن جائے جنگلوں ميں جس طرح راستہ سا خوابوں ميں خواب اُس کے، يادوں ميں ياد اُس کینيندوں ميں گھل گيا ہو جيسے کہ رتجگا سا پہلے بھی لوگ آئے کتنے ہی زندگی ميںوہ ہر طرح سے ليکن اوروں سے تھا جدا سا اگلی محبتوں نے وہ نا مرادياں ديںتازہ…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ الطاف فاطمہ (تعارف)
الطاف فاطمہ الطاف فاطمہ اُردو کی ممتاز فکشن نگار، مترجم، محقق اور ماہرتعلیم تھیں۔وہ ۱۹۲۹ء میں لکھنو میں پیدا ہوئیں۔قیامِ پاکستان کے بعد اپنے عزیزوں کے ساتھ لاہور منتقل ہو گئیں۔گورنمنٹ اسلامیہ کالج برائے خواتین میں درس و تدریس سے وابستہ رہیں۔۲۰۱۸ء میں انتقال ہوا۔اُن کا پہلا افسانہ ۱۹۶۲ء میں موقر ادبی جریدے ادبِ لطیف، لاہور میں شائع ہوا۔اُن کے افسانوی مجموعوں میں تار عنکبوت، جب دیواریں گریہ کرتی ہیں اور وہ جسے چاہا شامل ہیں مزید براں انہوں نے جاپانی افسانہ نگار خواتین کے ترجمہ کے ساتھ برصغیر کی…
Read Moreسید آل احمد ۔۔۔ یاد آؤں گا اُسے‘ آ کے منائے گا مجھے
یاد آؤں گا اُسے‘ آ کے منائے گا مجھے اور پھر ترکِ تعلق سے ڈرائے گا مجھے آپ مسمار کرے گا وہ گھروندے اپنے اور پھر خواب سہانے بھی دکھائے گا مجھے مجھ کو سورج کی تمازت میں کرے گا تحلیل اور مٹی سے کئی بار اُگائے گا مجھے اپنی خوشبو سے وہ مانگے گا حیا کی چادر زیبِ قرطاسِ بدن جب بھی بنائے گا مجھے ربِ ایقان و عطا! عمر کے اس موڑ پہ کیا راستے کرب کے ہموار دکھائے گا مجھے میں کڑی دھوپ کا سایہ ہوں کڑے…
Read Moreالیاس بابر اعوان ۔۔۔ عمران عامی کا عمرانی منظر نامہ
عمران عامی کا عمرانی منظر نامہ ایک فن کار کبھی بھی اپنے سماج سے کٹ کر نہیں رہ سکتا ، یہ بات شاید اب کلیشے بن چکی ہے۔نئے سماجی منظر نامے میں سامنے کی علامتوں کا زوال اور نئے مفاہیم پہ عمرانی حوالے سے ادب کے ساتھ ساتھ صحافت کا ادارہ اپنی سی کرتا رہاہے۔ایک تخلیق کار کے ہاں وہ اجتماعی وحدت جوعمرانی حوالوں سے انسانی سماج کے خود کار نظام کو مربوط رکھتی ہے وہ دیگر تخلیقی اظہاریوں میں اپنی شدت میں کم نظر آتی ہے۔مابعد الجدیدیت نے جس…
Read Moreمحمد یعقوب آسی ۔۔۔ ہوا لے گئی مجھے (طارق اقبال بٹ کی ’’صداے موسمِ گل‘‘ کے تعاقب میں)
ہوا لے گئی مجھے (طارق اقبال بٹ کی ’’صداے موسمِ گل‘‘ کے تعاقب میں) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہندوستان میں انگریز راج کا رسمی ہی سہی خاتمہ ہوتا ہے۔ کروڑوں اسلامیانِ ہند کے دلوں کی دھڑکنیں روح و بدن میں سنسنا اٹھتی ہیں، قافلوں کے قافلے آرزوؤں اور امنگوں کا زادِ سفر لئے اپنے کھیتوں، حویلیوں، کارخانوں کو تج کر سرزمینِ پاکستان کی طرف نکل پڑتے ہیں، یہ جانے سوچے بغیر کہ وہاں پہنچ کر جانے کیسے حالات پیش ہوں، کن لوگوں سے پالا پڑے۔ پاکستان کا مطلب کیا؛ لاالٰہ الا اللہ! یہی…
Read More