اقتدار جاوید … کیڑی کی ماں

کیڑی کی ماں ۔۔۔۔۔۔۔۔ چھٹی کی گھنٹی بجی لڑکے اسکول سے شہد سے میٹھے اپنے گھروں کی طرف ایسے مڑتے نظر آئے تھے شہد کی مکھی جیسے پلٹتی ہے چھتے کی جانب مسرت کا سیلاب گلیوں میں، کونوں میں، رونق بھرے دونوں بازاروں میں بہہ رہا تھا شریروں کا مجمع تھا یا نرم گڈوں کی ڈوریں کٹی تھیں تھا ’’بو کاٹا‘‘ کا شور گڈے دکانوں کے چھجوں، درختوں کے ڈالوں، منڈیروں کے کونوں پہ ہنستے ہوئے گر رہے تھے زمانے کا میدان ڈوبا ہوا تھا کئی رنگوں میں! نانبائی کے…

Read More

اقتدار جاوید ۔۔۔ دبلی پتلی

دبلی پتلی ۔۔۔۔۔۔۔ شگن بھری خواب سے جڑی ہے زمانہ رفتار سے بندھا ہے (زمانے کو آپ زید کہہ لیں کہ بکر جانیں) شگن بھری کا وہ خواب، وہ آفتاب روشن ہے جو افق کے محیط کو روندتا نکلتا ہے شب کے اسفنج سے سیاہی نچوڑتا ہے وہ نیند اور نیند کے اندھیروں کی کوکھ کو توڑتا ہے وہ وقت کی یخ  آلود  جھیل کو چھیدتا ہے تو ثانیے ابلتے ہیں جیسے…جیسے… شگن بھری کی بخار والی سفید آنکھوں سے جیسے موتی ٹپک رہے ہوں زمانہ رفتار سے بندھا ہے…

Read More

اظہر فراغ ۔۔۔ غزلیں

اسی لیے ترے دعووں پہ مسکرا رہے ہیںہم اپنا ہاتھ تری پشت سے اٹھا رہے ہیں وہ خود کہاں ہے جو نغمہ سرا ہے صدیوں سےیہ کون ہیں جو فقط اپنے لب ہلا رہے ہیں ہوئے ہیں دیر سے ہموار زندگی کے لیےضرور ہم کسی لشکر کا راستہ رہے ہیں ابھی کسی کی خوشی میں شریک ہونا ہےابھی کسی کے جنازے سے ہو کے آ رہے ہیں بس اپنی خوش نظری کا بھرم رکھا ہوا ہےشکستہ آئنے ترتیب سے لگا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کس کس سے کر کے اس کو…

Read More

رحمان حفیظ ۔۔۔ اب وہ پہلے سا رہا کب ہے اتر کر مجھ میں!

اب وہ پہلے سا رہا کب ہے اتر کر مجھ میں!صاف کم تر نظر آتا ہے وہ بر تر مجھ میں آئنہ دیکھنا اب فرض ہُوا ہے مجھ پراب نظر آنے لگا ہے تیرا پیکر مجھ میں جس نے بھی دیکھا اسے چشمِ ہوس سے دیکھاباہر آئی جو تمناّ بھی، سنور کر مجھ میں جو کرن بن کے مِری آنکھ میں دَر آئی تھیآج بھی جیسے وہ ساعت ہے منوّر مجھ میں اوّل اوّل جو مِرے کان میں ٹپکائی گئیگونجتی ہے وُہی آواز برابر مجھ میں

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ بہشتِ دل میں خوابیدہ پڑی ہے

بہشتِ دل میں خوابیدہ پڑی ہے وہ اک حسرت جو میری زندگی ہے بہت خوش ہوں میں فن کی سرزمیں پر مری نیکی بدوں نے لوٹ لی ہے دریچے کھول دیتا ہوں طلب کے مجھے جب بھی شرارت سوجھتی ہے سیاست اب کہاں زنجیر ہوگی یہ کشتی اب کنارے لگ رہی ہے بہت نامطمئن ہے دل کی دھڑکن کتابِ شوق تسکیں سے بھری ہے مہینوں بعد دیکھا ہے تبسم بہت دن میں غزل تازہ کہی ہے بدن اب تک تر و تازہ ہے لیکن سفر کی دھول آنکھوں میں جمی…

Read More

سید فرخ رضا ترمذی ۔۔۔ عشق کا کاروبار کرتا ہوں

عشق کا کاروبار کرتا ہوں اور خسارے شمار کرتا ہوں دن گزرتا ہے ساتھ سورج کے شب کو تارے شمار کرتا ہوں میں شجر سا مزاج رکھتا ہوں میں پرندوں سے پیار کرتا ہوں دنیا جو بھی کہے ترے بارے میں کہاں اعتبار کرتا ہوں تیری تصویر سامنے رکھ کر اْس سے باتیں ہزار کرتا ہوں میں جلا کر چراغ رستے پر یوں ترا انتظار کرتا ہوں جاہلوں کے مقابلے میں رضا خامشی اختیار کرتا ہوں

Read More

راحت سرحدی ۔۔۔ آئنہ دل اور ستارہ ٹوٹ کر

آئنہ دل اور ستارہ ٹوٹ کر جڑ نہیں سکتا دوبارہ ٹوٹ کر آج بھی ہے آنکھ میں اُس کی خلش چبھ گیا تھا اک نظارہ ٹوٹ کر اُس کے قدموں میں بکھرنے کے لیے پھول کرتے ہیں اشارہ ٹوٹ کر زندگی کیا ہے بڑی آسانی سے کہہ گیا مجھ کو ستارہ ٹوٹ کر جا لگا چُپ چاپ دریا کے گلے ایک دن آخر کنارہ ٹوٹ کر تم کو ثابت دیکھ کر حیرت ہوئی جس جگہ پر ہے گزارہ ٹُوٹ کر ہاتھ کب آتا ہے راحت سرحدی تار سے گیسی غبارہ…

Read More

علی حسین عابدی ۔۔۔ درد جاگے تو خواب سوتے رہے

درد جاگے تو خواب سوتے رہے ہم بھی ایسے میں خوب روتے رہے زندگی بوجھ بن گئی تھی مگر ہم اُسے خوش دلی سے ڈھوتے رہے ہم بدلتے رہے لباسِ سخن یوں خوشی کو غموں میں جوتے رہے یک بہ یک اشکِ نارسا کل شب روح کا پیرہن بھگوتے رہے ہم بھی سب کی خوشی میں خوش ہو کر عمر بھر اپنا غم بلوتے رہے عابدی جو بکھر گئے تھے کبھی وہ تعلق سبھی پروتے رہے

Read More