مقبول عامر

سفر پہ نکلیں مگر سمت کی خبر تو ملے کوئی کرن کوئی جگنو دکھائی دے تو چلیں

Read More

جون ایلیا

جو گزاری نہ جا سکی ہم سے ہم نے وہ زندگی گزاری ہے ……… Cette vie qu’on ne pouvait même pas vivre,C’est pourtant celle qu’on a dû survivre. …… Ein Leben, das kaum zu tragen war,Und doch lebten wir’s – Jahr für Jahr. …. 那段无法承受的人生,我们却一步步走了过来。 …. 生き抜けないと思った日々も、それでも僕らは生きてきたんだ。 ….. जो जी नहीं सके हम जैसे,उन्हीं पलों को हमने जिया वैसे।

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ عرش سے رُخ جانبِ دنیائے دُوں کرنا پڑا

عرش سے رُخ جانبِ دنیائے دُوں کرنا پڑا بندگی میں کیا سے کیا یہ سر نگوں کرنا پڑا مِنّتِ ساحل بھی سر لے لی بھنور میں ڈولتے ہاں یہ حیلہ بھی ہمیں بہرِسکوں کرنا پڑا سامنے اُس یار کے بھی اور سرِ دربار بھی ایک یہ دل تھا جسے ہر بار خوں کرنا پڑا ہم کہ تھے اہلِ صفا یہ راز کس پر کھولتے قافلے کا ساتھ آخر ترک کیوں کرنا پڑا خم نہ ہو پایا تو سر ہم نے قلم کروا لیا وُوں نہ کچھ ماجد ہُوا ہم سے…

Read More

شاہین عباس

 یوں جو دروازے بج رہے ہیں یہاں گھر سے اُٹھّاہے بے گھری کا شور

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ منزہ احتشام گوندل

منزہ احتشام گوندل منزہ احتشام گوندل ضلع سرگودھا کے ایک قصبے میں ۱۹۸۴ء میں پیدا ہوئیں۔اُن کی تخلیقات اِس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ وہ ایک صاحبِ مطالعہ خاتون ہیں۔درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔نسائی ادب کے حوالے سے اُن کا تحقیقی کام بھی اہم ہے۔ترقی پسند تنقید بھی اُن کی تحقیق کا موضوع ہے۔ نثری اورآ زاد نظموں کا ایک بہترین مجموعہ ’’منزہ نظمیں‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہو چکا ہے۔کچھ عرصہ پہلے اُن کا افسانوی مجموعہ ’’آئینہ گر‘‘ بھی زیورِ طباعت سے آراستہ ہوا۔…

Read More

جوش ملسیانی

مقبول ہوں نہ ہوں یہ مقدر کی بات ہے سجدے کسی کے در پہ کیے جا رہا ہوں میں

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ منتخب اشعار

انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیںوہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیںاگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیںتو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیںرقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سےتمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیںوہ ہنس  کرکہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوےیہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیںنہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی پشیمانیکہ اب تو عید ملنے پر بھی وہ شرمائے…

Read More

سیماب اکبر آبادی

پریشاں ہونے والوں کو سکوں کچھ مل بھی جاتا ہے پریشاں کرنے والوں کی پریشانی نہیں جاتی

Read More

عبدالحمیدعدم

مے کدہ ہے یہاں سکوں سے بیٹھ کوئی آفت ادھر نہیں آتی

Read More

احمد فراز ۔۔۔ اس کا اپنا ہی کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے

اس کا اپنا ہی کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں یوں ہے یوں ہے جیسے کوئی در دل پر ہو ستادہ کب سے ایک سایہ نہ دروں ہے نہ بروں ہے یوں ہے تم نے دیکھی ہی نہیں دشت وفا کی تصویر نوک ہر خار پہ اک قطرۂ خوں ہے یوں ہے تم محبت میں کہاں سود و زیاں لے آئے عشق کا نام خرد ہے نہ جنوں ہے یوں ہے اب تم آئے ہو مری جان تماشا کرنے اب تو دریا میں…

Read More