بے تیرے کیا وحشت ہم کو تجھ بن کیسا صبر و سکوں تو ہی اپنا شہر ہے جانی تو ہی اپنا صحرا ہے
Read MoreMonth: 2025 جون
شہزاد احمد
لوگ زندہ نظر آتے تھے مگر تھے مقتول دست قاتل میں بظاہر کوئی شمشیر نہ تھی Ils semblaient vivants, mais portaient la mort en eux,Le meurtrier n’avait pourtant brandi aucun feu. Sie wirkten lebendig, doch innerlich tot,Kein Schwert in der Hand – und dennoch das Lot. 生きてるようで 死んでいた人々、殺し手の手には刃などなかったのに。 看似生者,其实早已遇害,凶手的手中,却未曾见刀影。 लोग ज़िंदा लगे, मगर थे मरे हुए,हाथ क़ातिल के खाली थे — कोई तलवार न थी उसमें छुपे हुए।
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ خواب میں ایک مکاں دیکھا تھا
خواب میں ایک مکاں دیکھا تھا پھر نہ کھڑکی تھی نہ دروازہ تھا سونے رستے پہ سر شام کوئی گھر کی یادوں میں گھرا بیٹھا تھا لوگ کہتے ہیں کہ مجھ سا تھا کوئی وہ جو بچوں کی طرح رویا تھا رات تھی اور کوئی ساتھ نہ تھا چاند بھی دور کھڑا ہنستا تھا ایک میلا سا لگا تھا دل میں میں اکیلا ہی پھرا کرتا تھا ایسا ہنگامہ نہ تھا جنگل میں شہر میں آئے تو ڈر لگتا تھا غم کے دریا میں تری یادوں کا اک جزیرہ سا…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ نسائی شاعری کا ارتقا
نسائی شاعری کا ارتقا یہ بجا سہی کہ شعرأ نے سخن گوئی میں بڑی پروازِ فکر اور رفعتِ خیال کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے شاعری کو اظہارِ ذات سے لے کر نفیِ ذات تک ہر موضوع اور مضمون سے آشنا کیا ہے۔ یہ بھی بجا ہے کہ ہئیت اور فکر کے تجربوں میں انہیں شاعرات پر فوقیت حاصل رہی ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ زندگی اور اُس کے متعلقات کے بہت سے ایسے گوشے ہیں، کئی ایسی نازک معاملات اور موضوعات ہیں جن پر ایک شاعرہ ہی نہ…
Read Moreمحسن اسرار
فضا خاموش ہے اور میں بھی چپ ہوں مگر اک مشورہ سا ہو رہا ہے
Read Moreمقبول عامر
مجھے خود اپنی نہیں اس کی فکر لاحق ہے بچھڑنے والا بھی مجھ سا ہی بے سہارا تھا
Read Moreساحر لدھیانوی
ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی
Read Moreجون ایلیا
سب سے پر امن واقعہ یہ ہے آدمی آدمی کو بھول گیا
Read Moreسید آل احمد ۔۔۔ دُکھ کے سکوں نہ سکھ کی خوشی کا سراب ہے
دُکھ کے سکوں نہ سکھ کی خوشی کا سراب ہے اک رنج رایگاں کی طلب بے حساب ہے لغزش کے سہو پر مجھے شرمندگی نہیں قربت کی ہر کجی مری گل آفتاب ہے پچھلے برس بھی نیکیاں سب ضائع ہو گئیں اب کے برس بھی جان! کڑا احتساب ہے بے شک وہ بے وفا ہے مگر اس کی راہ میں دل کی طرح چراغ جلانا ثواب ہے اے صبح نو! لہو کی حرارت بھی کر عطا ہیں برف حرف لب پہ یہی انقلاب ہے نفرت بھی وہ کرے تو کوئی…
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ خود بہ خود آنکھ بدل کر یہ سوال اچھا ہے
خود بہ خود آنکھ بدل کر یہ سوال اچھا ہے روز کب تک کوئی پوچھا کرے: حال اچھا ہے؟ ہجر میں عیش گزشتہ کا خیال اچھا ہے ہو جھلک جس میں خوشی کی وہ مآل اچھا ہے داغ بہتر ہے وہی ہو جو دل عاشق میں جو رہے عارض خوباں پہ وہ خال اچھا ہے دیکھ ان خاک کے پتلوں کی ادائیں زاہد ان سے کس بات میں حوروں کا جمال اچھا ہے کیجیے اور بھی شکوے کہ مٹے دل کا غبار باتوں باتوں میں نکل جائے ملال اچھا ہے…
Read More