سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
Read MoreCategory: س
مقبول عامر
سفر پہ نکلیں مگر سمت کی خبر تو ملے کوئی کرن کوئی جگنو دکھائی دے تو چلیں
Read Moreناصر کاظمی
سنا ہے رات بھر برسا ہے بادل مگر وہ شہر جو پیاسا رہا ہے
Read Moreخالد احمد
سامان بہم کر ، کہ نہ لوٹے کبھی خالی یا رب ، کوئی مجھ بے سر و سامان کے در سے
Read Moreنظر امروہوی
سرِ محفل کبھی تنہائیاں محسوس ہوتی تھیں مگر اب خلوتوں میں حشر برپا ہوتا جاتا ہے
Read Moreاحمد فراز
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
Read Moreاکبر الہ آبادی
سمجھ میں صاف آ جائے فصاحت اس کو کہتے ہیں اثر ہو سننے والے پر بلاغت اس کو کہتے ہیں
Read Moreاعجاز عبید ۔۔۔ وہ جسے سن سکے وہ صدا مانگ لوں
وہ جسے سن سکے وہ صدا مانگ لوں جاگنے کی ہے شب کچھ دعا مانگ لوں اس مرض کی تو شاید دوا ہی نہیں دے رہا ہے وہ، دل کی شفا مانگ لوں عفو ہوتے ہوں آزار سے گر گناہ میں بھی رسوائی کی کچھ جزا مانگ لوں شاید اس بار اس سے ملاقات ہو بارے اب سچے دل سے دعا مانگ لوں یہ خزانہ لٹانے کو آیا ہوں میں اس کو ڈر ہے کہ اب جانے کیا مانگ لوں اب کوئی تیر تر کش میں باقی نہیں اپنے رب…
Read Moreمرزا اسداللہ خاں غالب ۔۔۔ غزل
بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا رکھیو یارب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلا شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلا اِس تکلف سے کہ گویا بتکدے کا در کھلا گرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب آستیں میں دشنہ پنہاں ، ہاتھ میں نشتر کھلا گو نہ سمجھوں اس کی باتیں ، گونہ پاؤں اس کا بھید پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا ہے خیالِ حُسن میں حُسنِ عمل کا سا خیال خلد کا اک در ہے میری گور کے…
Read Moreخالد احمد
سوچو تو کچھ نہ سمجھو ، سمجھو تو کچھ نہ بولو پھر چپ کا حسن دیکھو ، بیکار لب نہ کھولو
Read More