علی ارمان ۔۔۔ کیا ہوا دور جو دریاؤں سے جل ہے میرا

کیا ہوا دور جو دریاؤں سے جل ہے میرا جھیل کی طرح میں خوش ہوں کہ کنول ہے میرا کچھ بھی کہتی رہے یہ رات مرے بارے میں جگمگاتا ہوا دل ردعمل ہے میرا زندگی کھیل تو ہے اور کسی کا لیکن اس کہانی میں بہت ردوبدل ہے میرا ادھر آیا ہوں میں سیاحتِ ہستی کے لیے شہر ِناپید کا ہوں ملک اجل ہے میرا وسعتِ وقت کے لہراتے ہوئے دھوکے میں یہی وعدہ یہی ٹوٹا ہوا پل ہے میرا اب تڑپتا ہے مرے ایک اشارے کے لیے وُہ سمجھتا…

Read More

سعید شارق … بس رات ہے اور کیا ہے مجھ میں

بس رات ہے اور کیا ہے مجھ میں؟ ہاں! بُجھتا دیا پڑا ہے مجھ میں جو کاٹ دیا تھا عرصہ پہلے اب بھی وہ شجر ہرا ہے مجھ میں کچھ اپنے لیے بھی تعزیت کر! تُو بھی تو نہیں بچا ہے مجھ میں ہر سمت ہیں خار دار تاریں اور ایک ہی راستہ ہے مجھ میں مَیں گونج رہا ہوں سر سے پا تک اک بھٹکی ہُوئی صدا ہے مجھ میں تُو آئے کہ اور کوئی آئے دروازہ کھُل چکا ہے مجھ میں پِھر پِھر کے دیکھتا ہے دل کو…

Read More

میر تقی میر ۔۔۔  جس سر کو غرور آج ہے یاں تاج وری کا

 جس سر کو غرور آج ہے یاں تاج وری کا کل اُس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت اسباب لٹا راہ میں یاں‌ ہر سفری کا زنداں میں‌ بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا ہر زخمِ جگر داورِ محشر سے ہمارا انصاف طلب ہے تری بیداد گری کا اپنی تو جہاں آنکھ لڑی پھر وہیں دیکھو آئینے کو لپکا ہے پریشاں نظری کا صد موسمِ‌گل ہم کو تہِ بال ہی گزرے مقدور…

Read More

میر تقی میر ۔۔۔ اس عہد میں‌ الہی محبت کو کیا ہوا

اس عہد میں‌ الہی محبت کو کیا ہوا چھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا امیدوارِوعدۂ دیدار مرچلے آتے ہی آتے یارو قامت کو کیا ہوا اس کے گئے پر ایسی گئی دل سے ہم نشیں معلوم بھی ہوا نہ کہ طاقت کو کیا ہوا بخشش نے مجھ کو ابرِ کرم کی کیا خجل اے چشم جوشِ اشک ندامت کو کیا ہوا جاتا ہے یار تیغ بہ کف غیر کی طرف اے کشتۂ ستم تری غیرت کو کیا ہوا تھی صَعبِ عاشقی کی ہدایت ہی میر پر کیا…

Read More

آفاق صدیقی

کیا قیامت ہے کہ اپنے دیس میں اعتبار جسم و جاں کچھ بھی نہیں

Read More

نقش بر آب ۔۔۔ شاہد فرید

نقش بَر آب ۔۔۔۔۔۔ مَیں نے اِک تصویر بنائی جھیل کے نیلے پانی پر لمحوں کے کنکر نے اس میں جھریاں بھر دیں ہجر کی بارش آئی تو وہ ٹھہر نہ پائی اب مَیں جھیل کنارے بیٹھا گزرے وقت کو ڈھونڈ رہا ہوں محو ِ رقص ہے پانی اور مَیں ڈوبے نقش کو ڈھونڈ رہا ہوں اپنے عکس کو ڈھونڈ رہا ہوں

Read More

ڈاکٹر اسحاق وردگ

ہمارے ساتھ اُٹھتا بیٹھتا تھا وہ اِک بندہ خُدا ہونے سے پہلے

Read More

مسافت ۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ غزل ۔۔۔۔۔ نوید صادق

مسافت ۔۔۔ نوید صادق. pdf DOWNLOAD

Read More