حفیظ جونپوری ۔۔۔ خود بہ خود آنکھ بدل کر یہ سوال اچھا ہے

خود بہ خود آنکھ بدل کر یہ سوال اچھا ہے روز کب تک کوئی پوچھا کرے: حال اچھا ہے؟ ہجر میں عیش گزشتہ کا خیال اچھا ہے ہو جھلک جس میں خوشی کی وہ مآل اچھا ہے داغ بہتر ہے وہی ہو جو دل عاشق میں جو رہے عارض خوباں پہ وہ خال اچھا ہے دیکھ ان خاک کے پتلوں کی ادائیں زاہد ان سے کس بات میں حوروں کا جمال اچھا ہے کیجیے اور بھی شکوے کہ مٹے دل کا غبار باتوں باتوں میں نکل جائے ملال اچھا ہے…

Read More

محسن اسرار

ہم اس کو پاتے ہوئے خود کو کھونے لگتے ہیں بہت سے واقعے اک ساتھ ہونے لگتے ہیں

Read More

محمد علوی ۔۔۔ اس شہر میں کہیں پہ ہمارا مکاں بھی ہو

اس شہر میں کہیں پہ ہمارا مکاں بھی ہو بازار ہے تو ہم پہ کبھی مہرباں بھی ہو جاگیں تو آس پاس کنارا دکھائی دے دریا ہو پر سکون، کھلا بادباں بھی ہو اک دوست ایسا ہو کہ مری بات بات کو سچ مانتا ہو اور ذرا بد گماں بھی ہو رستے میں ایک پیڑ ہو تنہا کھڑا ہوا اور اس کی ایک شاخ پہ اک آشیاں بھی ہو اس سے ملے زمانہ ہوا لیکن آج بھی دل سے دعا نکلتی ہے خوش ہو جہاں بھی ہو ہم اس جگہ…

Read More

آلِ احمد سرور ۔۔۔ اُردو شاعری میں تصوف کی روایت

میلکام مگرج، مشہور انگریزی مصنف نے کہا ہے کہ ’’ہندوستان میں اب صرف وہی انگریز باقی رہ گئے ہیں جو تعلیم یافتہ ہندوستانی ہیں۔‘‘ اس پرلطف طنز سے یہ نکتہ ابھرتا ہے کہ مغربی اثرات کی کتنی ہی برکتیں رہی ہوں (اور یہ برکتیں مسلم ہیں) مگر ان کی وجہ سے اپنی تہذیبی بنیاد، ادبی سر مائے اور علوم و فنون کے متعلق آج کے تعلیم یافتہ طبقے کا رویہ بیگانگی بلکہ بے اعتنائی کا ہوگیا ہے۔ سرسید کی تحریک نے یقیناً ہماری ذہنی زندگی میں بڑی بیداری پیدا کی…

Read More

قاضی حبیب الرحمٰن ۔۔۔ حمدیہ قصیدہ

حمدیہ قصیدہ زوروں پر ہے چشمہء نور اپنا ظرف، اپنا مقدور! شمسِ حقیقت کے ہوتے سارے وہم و گُماں کافور ایک ہَوا کی آہٹ پر ناچ اُٹھا شہرِ مَزمور! کسی خیال کی لذّت میں رہتا ہے غم بھی مَسرور ایک خَلا کی نسبت سے دل ہے خَلوت سے مَعمور جیسے ہے ہر چیز، یہاں اپنے نشّے میں مَخمور سو بھی کم کم کُھلتا ہوں حسبِ استعدادِ ظُہور خود سے چھپتا پھرتا ہوں اپنے اندر اک مَفرور! پردے کا ہے سارا کھیل ورنہ ، میں کیا! کون حضور! اِک دریا کی…

Read More

محسن اسرار

خدا آباد رکھے اِس زمیں کو جسے دیکھو ستارہ ہو رہا ہے

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ سر پہ کیا کیا بوجھ روز افزوں نظر آنے لگے

سر پہ کیا کیا بوجھ روز افزوں نظر آنے لگے عمر ڈھل جانے لگی اور قرض بڑھ جانے لگے بحر میں حالات کے، بے رحم موجیں دیکھ کر اژدہے کچھ اور ہی آنکھوں میں لہرانے لگے مِہر کے ڈھلنے، نکلنے پر کڑکتی دھوپ سے گرد کے جھونکے ہمیں کیا کیا نہ سہلانے لگے تُند خوئی پر ہواؤں کی، بقا کی بھیک کو برگ ہیں پیڑوں کے کیا کیا، ہاتھ پھیلانے لگے وحشتِ انساں کبھی خبروں میں یوں غالب نہ تھی لفظ جو بھی کان تک پہنچے وہ دہلانے لگے چھُو…

Read More

شاہین عباس

بھرتے بھرتے بھرے گا وقت کے ساتھ دامنِ داستان ہے سائیں

Read More

انتخابِ عبدالعزیز خالد ۔۔۔ خالد علیم

خالد علیم انتخابِ اشعارِ عبدالعزیز خالد عبدالعزیز خالدکے نام کے ساتھ ہی ایک مشکل گو ، بھاری بھرکم اور عربی آمیز لہجے کے شاعر کا تصور ذہن میں اُبھرتا ہے اور ساتھ ہی یہ احساس کہ انھوں نے اپنی شاعری کو اتنے دقیق اور گنجلک پیرائے میں پیش کیا کہ شاعری براے نام ہی رہ گئی ، لیکن جب اُن کے مجموعی کلام کو خلوصِ نیت کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ احساس کمتر ہونے لگتا ہے بلکہ اُن کی شاعری کی حیرت انگیز جہات دیکھ کر ایک بالغ نظر…

Read More