مہتاب رائے تاباں

دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

Read More

شاداب الفت ۔۔۔ ہماری آنکھ نے یوں بھی عذاب دیکھا تھا

ہماری آنکھ نے یوں بھی عذاب دیکھا تھا کسی کی آنکھ سے بہتا جواب دیکھا تھا لبوں سے آپ کے گر کر بکھر گئی ہوگی ہر ایک شے پہ جو رنگِ شراب دیکھا تھا ہمارے لمس نے جادو تمہارے رخ پہ کیا تبھی تو شیشے میں تم نے گلاب دیکھا تھا قریب آپ کے میں بھی کھڑا ہوا تھا کل وہی جو خاک میں لپٹا جناب دیکھا تھا

Read More

رفیق راز ۔۔۔ چاندنی رات میں اک بار اسے دیکھا تھا

چاندنی رات میں اک بار اسے دیکھا تھا چاند سے بر سرِ پیکار اسے دیکھا تھا مثلِ خورشید نمودار وہ اب تک نہ ہوا آخری بار سرِ غار اسے دیکھا تھا میں بھلا کیسے بیاں کرتا سراپا اس کا شبِ یلدا پسِ دیوار اسے دیکھا تھا دل میں اتری ہی نہ تھی روشنی اس منظر کی اولیں بار تو بے کار اسے دیکھا تھا لوگ کیوں کوہ و بیاباں میں اسے ڈھونڈتے ہیں میں نے تو بر سرِ بازار اسے دیکھا تھا اس نے کیا رات کو دیکھا تھا یہ…

Read More

کیف مراد آبادی ۔۔۔ اہل دل جو بھی بات کہتے ہیں

اہلِ دل جو بھی بات کہتے ہیں کوئی رازِ حیات کہتے ہیں ان کے غم سے ہے جاوداں‘ ورنہ زیست کو بے ثبات کہتے ہیں ہائے وہ دورِ عشق جب آنسو داستانِ حیات کہتے ہیں خوابِ غفلت میں جو گزرتا ہے ہم تو اس دن کو رات کہتے ہیں عشق کی اصطلاح میں غم کو انقلابِ حیات کہتے ہیں جو بھی ہیں واقفِ حقیقتِ دل دل کو ہی کائنات کہتے ہیں لفظ و معنی میں آ نہیں سکتی وہ نظر سے جو بات کہتے ہیں مردِ حق میں تو ماسوا…

Read More

قتیل شفائی ۔۔۔ حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں

حسن کو چاند، جوانی کو کنول کہتے ہیں ان کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں اف وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں وہ ترے حسن کی قیمت سے نہیں ہیں واقف پنکھڑی کو جو ترے لب کا بدل کہتے ہیں پڑ گئی پاؤں میں تقدیر کی زنجیر تو کیا ہم تو اس کو بھی تری زلف کا بل کہتے ہیں

Read More

عبدالحمید عدم

مفلسوں کو امیر کہتے ہیں آبِ سادہ کو شیر کہتے ہیں اے خدا! تیرے باخرد بندے بزدلی کو ضمیر کہتے ہیں

Read More

عزیز فیصل

کودے ہیں اُس کے صحن میں دو چار شیر دل ہم فیس بک کی وال سے آگے نہیں گئے

Read More

ہاجر دہلوی ۔۔۔۔ آپ جب سامنے بیٹھے ہیں تو حال اچھا ہے  

سوچتا ہوں کبھی حوروں کا خیال اچھا ہے کبھی کہتا ہوں کہ اس بت کا جمال اچھا ہے مجھ سے کہتے ہیں کہو عشق میں حال اچھا ہے چھیڑ اچھی ہے یہ اندازِ سوال اچھا ہے نہ ادائیں تری اچھی نہ جمال اچھا ہے اصل میں چاہنے والے کا خیال اچھا ہے دیکھ کر شکل وہ آئینہ میں اپنی بولے کون کہتا ہے کہ حوروں کا جمال اچھا ہے جو ہنر کام نہ آئے تو ہنر پھر کیسا کام جو وقت پر آئے وہ کمال اچھا ہے وہ جوانی وہ…

Read More

نظر لکھنوی ۔۔۔ موسمِ گل تو یہ بس سال بہ سال اچھا ہے ۔ (دو غزلہ)  

فتنہ زا فکر ہر اک دل سے نکال اچھا ہے آئے گر حسنِ خیال اس کو سنبھال اچھا ہے میرے احساسِ خودی پر نہ کوئی زد آئے تو جو دے دے مجھے بے حرف سوال اچھا ہے آپ مانیں نہ برا گر تو کہوں اے ناصح صاحبِ قال سے تو صاحب حال اچھا ہے بے خیالی نہ رہے خام خیالی سے بچو دل میں بس جائے جو ان کا ہی خیال اچھا ہے تیرے رخ پر ہو مسرت تو مرا دل مسرور تیرے چہرے پہ نہ ہو گردِ ملال اچھا…

Read More

جلیل مانک پوری … نہ خوشی اچھی ہے اے دل نہ ملال اچھا ہے

نہ خوشی اچھی ہے‘ اے دل! نہ ملال اچھا ہے یار جس حال میں رکھے وہی حال اچھا ہے دلِ بیتاب کو پہلو میں مچلتے کیا دیر سن لے اتنا کسی کافر کا جمال اچھا ہے بات الٹی وہ سمجھتے ہیں جو کچھ کہتا ہوں اب کے پوچھا تو یہ کہہ دوں گا کہ حال اچھا ہے صحبت آئینے سے بچپن میں خدا خیر کرے وہ ابھی سے کہیں سمجھیں نہ جمال اچھا ہے مشتری دل کا یہ کہہ کہہ کے بنایا ان کو چیز انوکھی ہے‘ نئی جنس ہے…

Read More