ہر نئے چہرے کے ساتھ اک آرزو جاتی رہی گم ہوئیں چیزیں مری نقل مکانی میں بہت
Read MoreTag: غزلیں
بانی ۔۔۔۔۔ او ستم گر! تو بڑا دشمنِ جاں ہے سب کا
او ستم گر! تو بڑا دشمنِ جاں ہے سب کا کوئی بھی زخم سے چیخا تو زیاں ہے سب کا ہے تو اک شخص کے ہونٹوں پہ ترا قصّۂ غم شاملِ قصّہ مگر دودِ فُغاں ہے سب کا آ بھی جاتے ہیں اِدھر بیتی رُتوں کے جھونکے اب یہی خانۂ غم کنجِ اماں ہے سب کا اک چمک سی نظر آ جائے، تڑپ اٹھتے ہیں حسن کے باب میں ادراک جواں ہے سب کا ایک اک شخص ہے ٹوٹا ہوا اندر سے یہاں کیا چھپائے گا کوئی، حال عیاں ہے…
Read Moreقلندر بخش جرات
گھر سے وہ جاوے جہاں میں بھی وہیں ہوں موجود نہیں معلوم مجھے کون بتا دیتا ہے
Read Moreظہیر کاشمیری ۔۔۔۔۔۔ یہ کاروبارِ چمن اس نے جب سنبھالا ہے
یہ کاروبارِ چمن اُس نے جب سنبھالا ہے فضا میں لالہ و گُل کا لہو اچھالا ہے ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغِ آخرِ شب ہمارے بعد اندھیرا نہیں اُجالا ہے ہجومِ گُل میں چہکتے ہوئے سمن پوشو! زمینِ صحنِ چمن آج بھی جوالا ہے ہمارے عشق سے دردِ جہاں عبارت ہے ہمارا عشق، ہوس سے بلند و بالا ہے سنا ہے آج کے دن زندگی شہید ہوئی اسی خوشی میں تو ہر سمت دیپ مالا ہے ظہیر، ہم کو یہ عہدِ بہار راس نہیں ہر ایک پھول کے…
Read Moreعابد سیال
یہ عجب لوگ ہیں، دیتے ہیں تو اتنی تکریم کچھ کو منظور نہ ہو، کچھ کو سزاوار نہ ہو
Read Moreساحر لدھیانوی ۔۔۔۔۔ بہت گھٹن ہے کوئی صورتِ بیاں نکلے
بہت گھٹن ہے کوئی صورتِ بیاں نکلے اگر صدا نہ اُٹھے، کم سے کم فغاں نکلے فقیرِ شہر کے تن پر لباس باقی ہے امیرِ شہر کے ارماں ابھی کہاں نکلے حقیقتیں ہیں سلامت تو خواب بہتیرے ملال یہ ہے کہ کچھ خواب رایگاں نکلے اِدھر بھی خاک اڑی ہے اُدھر بھی خاک اُڑی جہاں جہاں سے بہاروں کے کارواں نکلے
Read Moreاحمد مشتاق
اِن مضافات میں چھپ چھپ کے ہوا چلتی تھی کیسے کِھلتی تھی محبت کی کلی، یاد نہیں
Read Moreاحمد حسین مجاہد ۔۔۔۔۔۔ وہ سمجھتا ہے اِس کنائے کو
وہ سمجھتا ہے اِس کنائے کو پُل کی حاجت نہیں ہے سائے کو میں جو کہتا ہوں کچھ نہیں ہو گا آگ میں ڈال سب کی رائے کو لے کے دو چسکیاں مرے کپ سے شہد کر دے گا پھیکی چائے کو کھل کے دیتا نہیں وہ داد کبھی آگ لگ جائے اُس کی ’’ہائے ‘‘کو تجھ کو دیکھا تو خود بدل لیں گے صائب الرائے اپنی رائے کو میں یہاں آخری مسافر ہوں اک نظر دیکھ لوں سرائے کو
Read Moreاکبر الہ آبادی
عشق کے فن میں ہے اکبر کا بھی درجہ عالی عیب کچھ اُس میں نہیں ضبط نہ کرنے کے سوا
Read Moreبانی ۔۔۔۔۔ تنہا تھا مثلِ آئنہ تارہ، سرِ اُفق
تنہا تھا مثلِ آئنہ تارہ ، سرِ اُفق اُٹھتی نہ تھی نگاہ دوبارہ ، سرِ افق سب دم بخود پڑے تھے خسِ جسم و جاں لیے لہرا رہا تھا کوئی شرارہ سرِ افق اک موجِ بے پناہ میں ہم یوں اُڑے پھرے جیسے کوئی طلسمی غبارہ سرِ افق کب سے پڑے ہیں بند زمان و مکاں کے در کوئی صدا نہ کوئی اشارہ سرِ افق سب کچھ سمیٹ کر مرے اندر سے لے گیا اک ٹوٹتی کرن کا نظارہ سرِ افق
Read More