رُکے ہوئے وقت کو رواں کر دیا گیا ہے بالآخر ازلوں کا دُکھ بیاں کر دیا گیا ہے فلک کی جانب گیا زمیں کا غبار سارا مری دھنک کو دُھواں دُھواں کر دیا گیا ہے مزید آسان ہو گئی ہے رسائی رُخ تک حجاب ایک اور درمیاں کر دیا گیا ہے وہ شعلہ جس سے میں اپنی راتیں اُجالتا تھا اب اُس کا ہونا بھی رایگاں کر دیا گیا ہے میں آنکھ سے دل میں لے گیا ہوں شبیہ اُس کی جو شے عیاں تھی، اُسے نہاں کر دیا گیا…
Read MoreTag: غزلیں
شیخ غلام ہمدانی مصحفی
جوں جوں کہ پڑیں منہ پہ ترے مینہ کی بوندیں جوں لالہء تر حسن ترا اور بھی چمکا
Read Moreحبیب الرحمان مشتاق ۔۔۔۔۔۔ خموشیوں کی کسی بھی صورت لحاظ داری نہیں کرینگے
خموشیوں کی کسی بھی صورت لحاظ داری نہیں کرینگے ہم اپنے کمرے کے منظروں پر سکوت طاری نہیں کرینگے پڑی ضرورت تو اپنے سر کو اتار پھینکیں گے راستے میں سفر میں شانوں کے بوجھ کو ہم زیادہ بھاری نہیں کرینگے اب ایک ماتم ہے اِس کنارے اور ایک ماتم ہے اُس کنارے اگرچہ طے یہ ہوا تھا بچھڑے تو آہ و زاری نہیں کرینگے سخن سرائی میں اپنے پُرکھوں کی ہم روایت کے ہیں محافظ سنیں گے طعنے ہر اک کے لیکن زباں کو آری نہیں کرینگے ہماری خلوت…
Read Moreقائم چاند پوری
دل گنوانا تھا اس طرح قائم کیا کیا تو نے ہائے خانہ خراب!
Read Moreشاہ نصیر
خیالِ زلفِ بتاں میں نصیر پیٹا کر گیا ہے سانپ نکل اب لکیر پیٹا کر
Read Moreفراق گورکھپوری ۔۔۔۔۔ آنکھوں میں جو بات ہو گئی ہے
آنکھوں میں جو بات ہو گئی ہے اِک شرحِ حیات ہو گئی ہے جب دل کی وفات ہو گئی ہے ہر چیز کی رات ہو گئی ہے غم سے چُھٹ کر یہ غم ہے مجھ کو کیوں غم سے نجات ہو گئی ہے مدت سے خبر ملی نہ دل کی شاید کوئی بات ہو گئی ہے جس شے پہ نظر پڑی ہے تیری تصویرِ حیات ہو گئی ہے اب ہو مجھے دیکھیے کہاں صُبح ان زلفوں میں رات ہو گئی ہے دل میں تجھ سے تھی جو شکایت اب غم…
Read Moreکشفی ملتانی
اظہارِ محبت مرے آنسو ہی کریں گے اظہار بہ اندازِ دگر ہو نہیں سکتا
Read Moreمحسن نقوی ۔۔۔۔ محبت پھول ہے پتھر نہیں ہے
محبت پھول ہے، پتھر نہیں ہے مجھے رُسوائیوں کا ڈر نہیں ہے ستارے، چاندنی، مےَ، پھول، خوشبو کوئی شے آپ سے بڑھ کر نہیں ہے زمانے سے نہ کُھل کے گفتگو کر زمانے کی فضا بہتر نہیں ہے مرا رستہ یونہی سُنسان ہوگا مرے رستے میں تیرا گھر نہیں ہے مجھے وحشت کا رُتبہ دینے والے! ترے ہاتھوں میں کیوں پتھر نہیں ہے محبت اَدھ کِھلی کلیوں کا رس ہے محبت زہر کا ساغر نہیں ہے نظر والو! چمک پر مر رہے ہو ہر اِک پتھر یہاں گوہر نہیں ہے…
Read Moreبانی
شب، کون تھا یہاں جو سمندر کو پی گیا اب کوئی موجِ آب نہ موجِ سراب ہے
Read Moreشناور اسحاق ……. سینہ سینہ سانسوں کے بٹوارےچلتے رہتے ہیں
سینہ سینہ سانسوں کے بٹوارےچلتے رہتے ہیں آشاؤں کے سندر بن میں آرے چلتے رہتے ہیں صدیاں اپنی راکھ اُڑاتی رہتی ہیں چوراہوں میں مَٹّی کی شَریانوں میں اَنگارے چلتے رہتے ہیں خاک نگرسے آنکھوں کاسنجوگ بھی ایک تماشا ہے آنکھیں جلتی رہتی ہیں، نظّارے چلتے رہتے ہیں دَر اَندازی کرنے والی آنکھیں رسوا ہوتی ہیں اَور جھیلوں میں جھالر دار شِکارے چلتے رہتے ہیں دنیا اپنے بازاروں میں ہاتھ ہِلاتی رہتی ہے اپنے دھیان کی گلیوں میں بنجارے چلتے رہتے ہیں
Read More