تھکن کے ٹوٹتے چڑھتے خُمار، تھک گیا میں قرار! گردشِ لیل و نہار، تھک گیا میں مرے چراغ، مرے ہم نشیں، خدا حافظ! مرے سکوت، مرے انتظار، تھک گیا میں ہواؤ آؤ، اُڑاؤ مری بھی خاک ابھی اُڑا اُڑا کے یہ گردو غُبار، تھک گیا میں میں تنگ آگیا ہوں خود سے پھوڑ پھوڑ کے سر کہ توڑ توڑ کے غم کے حصار تھک گیا میں نیا زمانہ ، نئے ضابطے ، نئے آداب اٹھا اٹھا کے تکلف کا بار تھک گیا میں اگر کسی نے خریدا نہ آج بھی…
Read MoreTag: غزلیں
ایک غزل: فسانے سے حقیقت تک ۔۔۔۔۔ خورشیدربانی
ایک غزل: فسانے سے حقیقت تک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی گمنام یا کم معروف شاعر کا کوئی اچھاشعر کسی نامورشاعر سے منسوب ہوجانا کوئی نئی بات نہیں۔بعض اشعار تو اتنے تیز قدم نکلے کہ اپنے خالق کو رستے ہی میں چھوڑ گئے اور وہ غبارِ راہ میں گم ہوکررہ گیا۔اس بارے میں زیادہ مثالیں درج کرنا یہاں مناسب نہیں کہ میرا اصل موضوع کچھ اورہے۔سیماب اکبر آبادی ایک شعر ہے: عمر دراز، مانگ کے لائی تھی چار دن دو آرزو میں کٹ گئے، دو انتظار میں یہ شعر ،باوجود اس کے کہ…
Read Moreشیخ ابراہیم ذوق
گل اس نگہ کے زخم رسیدوں میں مل گیا یہ بھی لہو لگا کے شہیدوں میں مل گیا
Read Moreآفتاب حسین ۔۔۔۔ فصیلِ شہرِ تمنا میں در بناتے ہوئے
فصیلِ شہرِ تمنا میں در بناتے ہوئے یہ کون دل میں در آیا ہے گھر بناتے ہوئے نشیبِ چشمِ تماشا بنا گیا مجھ کو کہیں بلندئِ ایام پر بناتے ہوئے میں کیا کہوں کہ ابھی کوئی پیش رفت نہیں گزر رہا ہوں ابھی رہ گزر بناتے ہوئے کسے خبر ہے کہ کتنے نجوم ٹوٹ گرے شبِ سیاہ سے رنگِ سحر بناتے ہوئے پتے کی بات بھی منہ سے نکل ہی جاتی ہے کبھی کبھی کوئی جھوٹی خبر بناتے ہوئے مگر یہ دل مرا، یہ طائرِ بہشت مرا اُتر ہی آیا…
Read Moreمومن
کیا تماشا ہے، جو نہ دیکھے تھے وہ تماشے دکھائے لوگوں نے
Read Moreمحمد مختار علی ۔۔۔۔۔۔۔ آسماں یا زمیں طواف کرے
آسماں یا زمیں طواف کرے جو جہاں ہے وہیں طواف کرے کعبہء عشق بے نیاز سہی دِل تو اپنے تئیں طواف کرے رنگ اُس کا طواف کرتے ہیں جب کوئی مہ جبیں طواف کرے طائرِ خوش نوا ہو نغمہ سرا اور حرم کا مکیں طواف کرے اُس گماں سے ہمیں ہے نسبتِ عشق جس گماں کا یقیں، طواف کرے ریت چھلکائے زمزمے مختارؔ جب وہ صحرا نشیں طواف کرے
Read Moreڈاکٹر عابد سیال ۔۔۔۔۔۔ اجڑا اجڑا، بکھرا بکھرا، خاک بسر کوئی ہے
اجڑا اجڑا، بکھرا بکھرا، خاک بسر کوئی ہے کھولو شہر کا دروازہ، دروازے پر کوئی ہے کبھی کبھی رغبت ہوتی ہے روز کی چیزوں سے کبھی کبھی ایسا لگتا ہے اپنا گھر کوئی ہے میں اندر کے رستے پر تھا، کیسے دھیان بٹا میرے وہم کی آوازیں ہیں یا باہر کوئی ہے ہر آواز کی تہہ میں جیسے اور آواز کوئی ہر منظر کے پیچھے جیسے اک منظر کوئی ہے مرضی کی مہریں ہیں کانوں اور زبانوں پر بولنا ہر اِک کو آتا ہے، سنتا ہر کوئی ہے حوصلہ ہمت…
Read Moreمیر حسن
اب کہاں آہوں کے دستے اور کہاں وہ فوجِ اشک ہم بھی کوئی دن غموں کی فوجداری کر گئے
Read Moreاسداللہ خاں غالب
جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہو گا کریدتے ہو جو اب راکھ ، جستجو کیا ہے
Read Moreاحمد مشتاق ۔۔۔۔۔ یہ کون خواب میں چھو کر چلا گیا مرے لب
یہ کون خواب میں چھو کر چلا گیا مرے لب پکارتا ہوں تو دیتے نہیں صدا مرے لب یہ اور بات کسی کے لبوں تلک نہ گئے مگر قریب سے گزرے ہیں بارہا مرے لب اب اس کی شکل بھی مشکل سے یاد آتی ہے وہ جس کے نام سے ہوتے نہ تھے جدا مرے لب اب ایک عمر سے گفت و شنید بھی تو نہیں ہیں بے نصیب مرے کان بے نوا مرے لب یہ شاخسانۂ وہم و گمان تھا شاید کجا وہ ثمرۂ باغِ طلب کجا مرے لب
Read More