وہ مناظر ہیں یہاں، جن میں کوئی رنگ نہ بو،بھاگ چلو جاتے موسم کی فجا ہے، کہیں مانگے نہ لہو، بھاگ چلو کوئی آواز پسِ در ہےنہ آہٹ سرِ کُو، بھاگ چلو بے صدائی کا وہ عالم ہے کہ جم جائے لہو، بھاگ چلو یہ وہ بستی ہے جہاں شام سے سو جاتے ہیں سب اہلِ وفا شب کا سنّاٹا دکھائے گا عجب عالمِ ہو، بھاگ چلو کیا عجب منظرِ بے چہرگی ہر سمت نظر آتا ہے ہر کوئی، اَور کوئی ہے، نہ یہاں میں ہے نہ تُو، بھاگ چلو…
Read MoreTag: غزلیں
میرزا محمد رفیع سودا
طلب نہ چرخ سے کر نانِ راحت، اے سودا پھرے ہے آپ یہ کاسہ لیے گدائی کا
Read Moreظفر گورکھپوری ۔۔۔۔ غلط آغاز کا انجام، پیارے! سوچ لینا
غلط آغاز کا انجام، پیارے! سوچ لینا کھڑے ہو تم تباہی کےکنارے، سوچ لینا جو رُت بدلی تو اُڑ جائیں گے یہ پلکوں سے اک دن پرندوں کی طرح ہیں خواب سارے، سوچ لینا کہیں چکرا نہ جائو تم، یہ ہے تہذیبِ دریا کہ اک رُخ پہ نہیں بہتے ہیں دھارے، سوچ لینا کھلونے بیچنے والوں کی صورت میں ہیں ڈاکو اُٹھا لے جائیں گے بچے تمھارے، سوچ لینا گھنے شہروں سے اکتا کر بنانا چاہتے ہو نیا سا گھر سمندر کے کنارے، سوچ لینا گزر جائے گی اک دنیا…
Read Moreمیر تقی میر
وجہ ِ بے گانگی نہیں معلوم تم جہاں کے ہو، واں کے ہم بھی ہیں
Read Moreصبا اکبر آبادی ۔۔۔ شمع کا نور عارضی ہے میاں
شمع کا نور عارضی ہے میاں روشنی دل کی روشنی ہے میاں ماہیت پر کسی کی غور نہ کر جو نظر آئے بس وہی ہے میاں بے سبب انتظار ہے تیرا ایک عادت سی ہو گئی ہے میاں میری دنیا میں اور سب کچھ ہے بس فقط آپ کی کمی ہے میاں اب وہ آرایشِ کلام کہاں؟ اب تو باتوں میں سادگی ہے میاں میر صاحب بتا گئے سب کو تیرے لب کی جو نازکی ہے میاں مے کدے بند ہو گئے جب سے مستقل دورِ سرخوشی ہے میاں ہمیں…
Read Moreحفیظ جالندھری
مَیں اپنی زندگی کو برا کیوں کہوں حفیظ رہنا ہے اس کے ساتھ میاں عمر بھر مجھے
Read Moreڈاکٹڑ شفیق آصف ۔۔۔۔۔۔ چھا گئی رات شام سے پہلے
چھا گئی رات شام سے پہلے کیا ہوئی مات شام سے پہلے اک ملاقات خواب میں ممکن اک ملاقات شام سے پہلے کچھ مناجات رات کو ہوں گی کچھ مناجات شام سے پہلے مل گیا دن میں وہ ستارہ نما بن گئی بات شام سے پہلے ڈھونڈتے ہیں دیے شفیق آصف کون تھا ساتھ شام سے پہلے
Read Moreشاہ حاتم
اِن دنوں ہم سے جو وحشی کی طرح بھڑکو ہو یہ تو ملنے کا تمھارے کوئی اسلوب نہ تھا
Read Moreڈاکٹر عابد سیال ۔۔۔۔۔۔۔ یہاں منصفی کی روایت نہیں
یہاں منصفی کی روایت نہیں ہماری یہ پہلی شکایت نہیں نمک والی لذت الگ چیز ہے یہ شیرینی کرتی کفایت نہیں مداوا بھی کچھ داد کے ساتھ ساتھ کہ احوالِ دل تھا، حکایت نہیں ہمکتے ہوئے دل میں ہجرت کا ڈر ابھی سرسری ہے، سرایت نہیں فراموش گاری کا سیلِ رواں کسی سے بھی کوئی رعایت نہیں مبارک تری مصلحت تجھ کو، دوست! دعا چاہیے بس، حمایت نہیں مصیبت میں مت پڑ کہ میں اس قدر طلب گارِ رشد و ہدایت نہیں
Read Moreمیرزا محمد رفیع سودا
ادب دیا ہے ہاتھ سے اپنے کبھو بھلا مے خانے کا کیسے ہی ہم مست چلے پر سجدہ ہر یک گام کیا
Read More