دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں ہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں بیت گیا ساون کا مہینہ، موسم نے نظریں بدلیں لیکن ان پیاسی آنکھوں سے اب تک آنسو بہتے ہیں ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں دنیا والے دل والوں کو اور بہت کچھ کہتے ہیں جن کی خاطر شہر بھی چھوڑا، جن کے لیے بدنام ہوئے آج وہی ہم سے بیگانے بیگانے سے رہتے ہیں وہ جو ابھی اس راہ گزر سے چاک…
Read MoreTag: غزلیں
عبیداللہ علیم
جو چاہے سجدہ گزارے جو چاہے ٹھکرا دے پڑا ہوا میں زمانے کی رہ گزر میں ہوں
Read Moreعبیداللہ علیم ۔۔۔ جوانی کیا ہوئی اِک رات کی کہانی ہوئی
جوانی کیا ہوئی اِک رات کی کہانی ہوئی بدن پُرانا ہوا، روح بھی پرانی ہوئی کوئی عزیز نہیں ماسوائے ذات ہمیں اگر ہوا ہے تو یوں جیسے زندگانی ہوئی نہ ہوگی خشک کہ شاید وہ لوٹ آئے پھر یہ کشت گزرے ہوئے ابر کی نشانی ہوئی تم اپنے رنگ نہاؤ میں اپنی موج اُڑوں وہ بات بھول بھی جاؤ جو آنی جانی ہوئی میں اُس کو بھول گیا ہوں وہ مجھ کو بھول گیا تو پھر یہ دل پہ کیوں دستک سی ناگہانی ہوئی کہاں تک اور بھلا جاں کا…
Read Moreمیرزا محمد رفیع سودا
مجھ صیدِ ناتواں کے احوال کو نہ پوچھو محروم ذبح سے ہوں، مردود ہوں قفس کا
Read Moreڈاکٹر شفیق آصف ۔۔۔۔۔۔ شبِ غم جو سورج اُگانے لگا ہے
شبِ غم جو سورج اُگانے لگا ہے وہ خوابوں سے مجھ کو جگانے لگا ہے جو خود ایک دن کوڑیوں میں بکا تھا وہ اب میری قیمت لگانے لگا ہے یہاں حال جس سے بھی پوچھا ہے میں نے وہی اک کہانی سنانے لگا ہے وہ مہتاب جس کا ہے اُس کا رہے گا تو اپنا دیا کیوں بجھانے لگا ہے جو ناراض تھا آسمانوں سے آصف وہ ٹھوکر سے مٹی اُڑانے لگا ہے
Read Moreحسرت موہانی
بر سرِ ناز وہ ازراہِ کرم پہنچا تھا شب عجب لطف کا سامان بہم پہنچا تھا
Read Moreرحمان حفیظ ۔۔۔۔۔ اْڑاتے آئے ہیں آپ اپنے خواب زار کی خاک
اُڑاتے آئے ہیں آپ اپنے خواب زار کی خاک یہ اور خاک ہے، اک دشتِ بے کنار کی خاک! ڈرا رہے ہو سفر کی صعوبتوں سے ہمیں! تمھارے منہ میں بھی خاک، اور رہ گزار کی خاک! یہ میں نہیں ہوں تو پھرکس کی آمد آمد ہے! خوشی سے ناچتی پھرتی ہے رہگزار کی خاک ہمیں بھی ایک ہی صحرا دیا گیا تھا، مگر اُڑا کے آئے ہیں وحشت میں تین چار کی خاک ہمیں مقیم ہوئے مدتیں ہوئیں، لیکن سَروں سے اب بھی نکلتی ہے رَہ گزار کی خاک…
Read Moreقائم چاند پوری
ٹوٹا جو کعبہ کون سی یہ جائے غم ہے شیخ کچھ قصرِ دل نہیں کہ بنایا نہ جائے گا
Read Moreارشد عباس ذکی …… میں اداس ہوں، مرے مہرباں! میں اداس ہوں
میں اداس ہوں، مرے مہرباں! میں اداس ہوں تو کہیں نہیں ہے، تو ہے کہاں ؟ میں اداس ہوں! میرا شہرِخواب تو ریزہ ریزہ بکھر چکا کہیں کھو گئی میری کہکشاں، میں اداس ہوں مرے ہاتھ خالی ہیں، دل شکستہ ہے، آنکھ نم مرے پاس کچھ بھی نہیں ہے، ماں! میں اداس ہوں! یہ جو جنگ ہے کسی اور وقت پہ ٹال دیں صفِ دوستاں! صفِ دشمناں! میں اداس ہوں تمہیں عمر بھر کا ہے تجربہ، کوئی مشورہ! کوئی مشورہ، اے شکستگاں! میں اداس ہوں میں عجیب ہوں، نہیں! مختلف،…
Read Moreانشاء اللہ خان
نہ چھیڑ، اے نکہتِ بادِ بہاری! راہ لگ اپنی تجھے اٹھکیلیاں سوجھیں(سوجھی) ہیں، ہم بے زار بیٹھے ہیں
Read More