باندھ کر پیاس کو پانی میں لیے پھرتا ہوں عشق کی آگ جوانی میں لیے پھرتا ہوں ایک کردار جو آیا نہ پلٹ کر واپس آج بھی اپنی کہانی میں لیے پھرتا ہوں اس لیے یاد مجھے آتا ہے تو ہر لمحہ خود کو میں تیری نشانی میں لیے پھرتا ہوں رقص کرتے ہوئے ہوجاتا ہوں خوشبو کی طرح خود کو میں رات کی رانی میں لیے پھرتا ہوں اک جدائی کی خزاں ہے کہ جسے صدیوں سے موسم گل کی روانی میں لیے پھرتا ہوں عکس کی موت بنی…
Read MoreTag: غزلیں
عدیم ہاشمی
وہ کہ خوشبو کی طرح پھیلا تھا میرے چار سو میں اُسے محسوس کر سکتا تھا، چھو سکتا نہ تھا
Read Moreشاہد ماکلی ۔۔۔۔۔۔۔ پُل نہ رہا درمیاں، سیلِ خطر رہ گیا
پُل نہ رہا درمیاں، سیلِ خطر رہ گیا کوئی اِدھر رہ گیا، کوئی اُدھر رہ گیا کتنی ہی صبحیں کبھی میرے گریباں میں تھیں آنکھ میں اب تو فقط خوابِ سحر رہ گیا کچھ بھی نہیں رہ گیا جسم میں دل کے سوا راکھ کے اِس ڈھیر میں ایک شرر رہ گیا جس کے در و بست پر میں نے توجہ نہ دی آخر اُسی نقش کا مجھ میں اثر رہ گیا وقت کی لہر اس طرح سب کو بہا لے گئی اب یہ پتہ ہی نہیں، کون کدھر رہ…
Read Moreاحمد مشتاق
اب شام تھی اور گلی میں رکنا اُس وقت عجیب سا لگا تھا
Read Moreعالمتاب تشنہ ۔۔۔ گنتی میں بے شمار تھے کم کر دیے گئے
گنتی میں بے شمار تھے کم کر دیے گئے ہم ساتھ کے قبیلوں میں ضم کر دیے گئے پہلے نصابِ عدل ہُوا ہم سے انتساب پھر یوں ہُوا کہ قتل بھی ہم کر دیے گئے پہلے لہو لہان کیا ہم کو شہر نے پھر پیرہن ہمارے علَم کر دیے گئے ہر دور میں رہا یہی آئینِ منصفی جو سر نہ جھک سکے وہ قلم کر دیے گئے اِس دورِ نا شناس میں ہم سے عرب نژاد لب کھولنے لگے تو عجم کر دیے گئے جب درمیاں میں آئی کمالِ بشر…
Read Moreریاض خیر آبادی
توبہ کر کے آج پھر پی لی ریاض کیا کیا کم بخت! تو نے کیا کیا
Read Moreابوطالب انیم ۔۔۔۔۔۔۔ تو کیا سرہانے نیا کوئی قہقہہ اگا ہے
تو کیا سرہانے نیا کوئی قہقہہ اگا ہے جو دکھ اچانک ہی پائنتی سے لگا کھڑا ہے زمین پایوں سے کھاٹ کے چڑھ رہی ہے ایسے کہ جیسے سارا فلک مجھی پر جھکا ہوا ہے عصا کو دیمک نگل رہی ہے میں جان بیٹھا کمر سے پہلے ہی حوصلہ ٹوٹنے لگا ہے ہر ایک آواز ذہن میں کھولتی ہے کھڑکی جو گیت وادی میں بہہ رہا ہے وہ دکھ رہا ہے یہ کیسی کھائی ہے جس میں گر کر میں اُڑ رہا ہوں زمیں سے پہلے ہواؤں کو میں نے…
Read Moreآغا شاعر قزلباس
عارض پہ مر مٹا، کبھی گیسو میں جا پھنسا دل کی ہمارے شام کہیں ہے سحر کہیں
Read Moreاکبر معصوم ۔۔۔۔ خود سے نکلوں بھی تو رستہ نہیں آسان مرا
خود سے نکلوں بھی تو رستہ نہیں آسان مرا میری سوچیں ہیں گھنی، خوف ہے گنجان مرا ہے کسی اور سمے پر گزر اوقات مری دن خسارہ ہے مجھے، رات ہے نقصان مرا میرا تہذیب و تمدن ہے یہ وحشت میری میرا قصہ، مری تاریخ ہے نسیان مرا میں کسی اور ہی عالم کا مکیں ہوں پیارے! میرے جنگل کی طرح گھر بھی ہے سنسان مرا دن نکلتے ہی مرے خواب بکھر جاتے ہیں روز گرتا ہے اسی فرش پہ گلدان مرا مجھ کو جس ناؤ میں آنا تھا کہیں…
Read Moreحبیب جالب
اے دل! وہ تمہارے لیے بے تاب کہاں ہیں دھندلائے ہوئے خواب ہیں، احباب کہاں ہیں
Read More