پروین شاکر ۔۔۔ ٹوٹی ہے میری نیند مگر، تم کو اس سے کیا

ٹوٹی ہے میری نیند مگر، تم کو اس سے کیا بجتے رہے ہواؤں سے در، تم کو اس سے کیا تم موج موج مثلِ صبا گھومتے رہو کٹ جائیں میری سوچ کے پر، تم کو اس سے کیا اوروں کا ہاتھ تھامو، انھیں راستہ دکھاؤ میں بھول جاؤں اپنا ہی گھر، تم کو اس سے کیا ابرِ گریز پا کو برسنے سے کیا غرض سیپی میں بن نہ پائے گہر، تم کو اس سے کیا لے جائیں مجھ کو مالِ غنیمت کے ساتھ عدو تم نے تو ڈال دی ہے…

Read More

احمد ندیم قاسمی

سجدہ، اظہارِ ماندگی ہی تو ہے سانس پھولی تو لَو خدا سے لگی

Read More

احمد ندیم قاسمی ۔۔۔ پھر بھیانک تیرگی میں آگئے

پھر بھیانک تیرگی میں آگئے ہم گجر بجنے سے دھوکا کھا گئے ہائے خوابوں کی خیاباں سازیاں آنکھ کیا کھولی، چمن مرجھا گئے کون تھے آخر جو منزل کے قریب آئنے کی چادریں پھیلا گئے کس تجلی کا دیا ہم کو فریب کس دھندلکے میں ہمیں پہنچا گئے اُن کا آنا حشر سے کچھ کم نہ تھا اور جب پلٹے قیامت ڈھا گئے اک پہیلی کا ہمیں دے کر جواب ایک پہیلی بن کے ہر سو چھا گئے پھر وہی اختر شماری کا نظام ہم تو اس تکرار سے اکتا…

Read More

اصغر گونڈوی

خوب تھا صحرا ، پر اے ذوقِ جنوں! پھاڑنے کو نت نئے دامن کہاں

Read More

مبشر سعید ۔۔۔۔۔۔۔ راز کب راز رہا ہے کسی رعنائی کا

راز کب راز رہا ہے کسی رعنائی کا حال میں جان چُکا آنکھ کی تنہائی کا کیسے وہ درد کی شدت کو سمجھ سکتا ہے؟ جس کو اندازہ نہ ہو زخم کی گہرائی کا کارِ دنیا میں لگاؤں تو مسلسل ہی مرے دل کو دھڑکا سا لگا رہتا ہے رُسوائی کا غیب سے حضرتِ غالب کی صدا آتی ہے شاعری کام نہیں قافیہ پیمائی کا عاجزی ہم نے بنایا ہے وطیرہ اپنا بسی یہی کام کیا زیست میں دانائی کا رات ہو وصل کی بارش میں نہائی ہوئی رات ہم…

Read More

آرزو لکھنوی

دفعتاً ترکِ تعلق میں بھی رسوائی ہے اُلجھے دامن کو چھڑاتے نہیں جھٹکا دے کر

Read More

سید ظہیر کاظمی ۔۔۔۔۔۔ وہ لمحہ بھی خود میں کتنا پیارا تھا

وہ لمحہ بھی خود میں کتنا پیارا تھا کوزہ گر کے ہاتھ میں جس دم گاراتھا ہم پردیسی، ہم کیا جانیں باغ کے دکھ ہم نے اپنا جیون تھر میں ہارا تھا اب کے ایسا پھول کھلا تھاصحرا میں جس کے رخ سے روشن چاند ستارہ تھا اُن آنکھوں کی وحشت کا کچھ مت پوچھو جن ہاتھوں نے تنہا دشت سنوارا تھا ہم نے اس کی خاطر گھر بھی چھوڑ دیا جس نے ہم کو دشت میں لا کر مارا تھا آئو، دیکھو پھول کھلے ہیں صحرا میں یہ مت…

Read More

یزدانی جالندھری

ڈھل جاتی ہے الفاظ میں تاثیر ہوا کی فن کار  بنا  لیتا  ہے  تصویر ہوا کی

Read More

علی ارمان…… نہیں ہے مشکل کوئی بھی سچ کے بیان جیسی

نہیں ہے مشکل کوئی بھی سچ کے بیان جیسی یقیں کے لہجے میں لکنتیں ہیں گمان جیسی زمین سے پیش آﺅں کس طرح کجروی سے کہاں سے لاﺅں میں گردشیں آسمان جیسی بہت ہی ضدی انا ہے کب ہار مانتی ہے لُٹے ہوئے اک نواب کی آن بان جیسی لہو میں اب بھی کبھی مچلتی ہے کوئی خواہش عذابِ ہجرت میں کٹ چکے خاندان جیسی اُسے چھوا تو بدن میں اک کپکپی سی جاگی کسی پرندے کی پہلی پہلی اڑان جیسی ابھی بھی یادوں کے طاق سے تیر مارتی ہے…

Read More

شکیب جلالی

اک نقرئی کھنک کے سوا کیا ملا شکیب ٹکڑے یہ مجھ سے کہتے ہیں ٹوٹی پلیٹ کے

Read More