Tag: غزلیں
عباس رضوی
دُعا کو ہاتھ اُٹھاتے تو لب نہ ہلتے تھے محبتوں پہ ہمیں اعتماد ایسا تھا
Read Moreعباس رضوی ۔۔۔ بہت ہیں جن کے مقدر میں گھر نہیں ہے کوئی
بہت ہیں جن کے مقدر میں گھر نہیں ہے کوئی مگر ہماری طرح در بدر نہیں ہے کوئی یہ ابر و باد، یہ موسم شریکِ غم ہیں مرے بس ایک سنگ ہے جس پر اثر نہیں ہے کوئی نظر اُٹھی ہے اُدھر کو جدھر ہیں گھر آباد ہوا چلی ہے اُدھر کی جدھر نہیں ہے کوئی یہ لوگ کون ہیں، کس سرزمیں سے آئے ہیں بدن ضرور ہیں کاندھوں پہ سر نہیں ہے کوئی وہ لوگ ہم ہیں جنھیں کھا گیا کمالِ ہنر یہ شہر وہ ہے جہاں معتبر نہیں…
Read Moreعلی اصغر عباس
رات خالی پڑا رہا بستر جانے ٹوٹا تھا آسمان کہ دل
Read Moreعلی اصغر عباس ۔۔۔ حصارِ مہر جو مسمار ہوتا جاتا ہے
حصارِ مہر جو مسمار ہوتا جاتا ہے دراز سایۂ دیوار ہوتا جاتا ہے یہ کس نے دُھوپ کنارے سے جھانک کر دیکھا افق بھی سرخیِ رخسار ہوتا جاتا ہے شکار گاہ میں ہانکا کرانے والا ہوں ہدف بھی میرا طلب گار ہوتا جاتا ہے شہابِ ثاقبِ دل ٹوٹ کر گرا جائے کمالِ دیدۂ مے خوار ہوتا جاتا ہے دیارِ ہجر میں پازیبِ غم چھنکتی سن شکیب درد کی جھنکار ہوتا جاتا ہے اشارہ پاتے ہی وہم و گماں، یقین ہوئے کشادہ جامۂ اسرار ہوتا جاتا ہے اے چوبِ خیمۂ جاں…
Read Moreفانی بدایونی
وہ ہے مختار، سزا دے کہ جزا دے فانی دو گھڑی ہوش میں آنے کے گنہگار ہیں ہم
Read Moreفرحان کبیر ۔۔۔۔۔ مِٹ نہ جائیں سراب دوری کے
مِٹ نہ جائیں سراب دوری کے نقش دیکھا کریں گے پانی کے ہم سروں پر اُٹھائے پھرتے ہیں سب دروبام اُس حویلی کے آخری موڑ تھا شکیبائی ترجماں سو گئے کہانی کے جنبشِ لب کہیں نہیں، لیکن بولتے ہیں مزار مٹی کے ابھی مٹی جبیں سے دھوئی نہ تھی گُل مہکنے لگے کیاری کے بیٹھ کر سوچنے لگا میں بھی میز پر تھے نشان کہنی کے کیا ہَوا کو خبر نہیں، فرحان بجھ رہے ہیں چراغ بستی کے
Read Moreخالد علیم
موسمِ یخ میں کوئی خاک بسر سیلانی ڈھونڈتا پھرتا تھا گم گشتہ سفر پانی میں
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ آنکھ کا پردۂ نم ناک ہے خاک
آنکھ کا پردۂ نم ناک ہے خاک از زمیں تا سرِ افلاک ہے خاک یوں تو ہر آن لہو سا چھلکے دل کہ درپردۂ صد چاک ہے خاک آدمی کا ہوئی پیراہنِ جاں کس قدر سرکش و چالاک ہے خاک ہر قدم رہتی ہے زنجیر بپا کیوں تری زلف کا پیچاک ہے خاک ایک تو ہے کہ ہَوا ہے کوئی ایک میں ہوں، مری پوشاک ہے خاک پائوں سے نکلے تو سر تک پہنچے کیا سمجھتے ہو میاں، خاک ہے خاک
Read Moreپروین شاکر
گُل لے گئے عطّار، ثمر کھا گئے طائر سورج کی کرن باغ میں تاخیر سے آئی
Read More