مَیں گنہگار اور ان گنت پارسا چار جانب سے یلغار کرتے ہوئے جیسے شب خون میں بوکھلا کر اٹھیں لوگ تلوار تلوار کرتے ہوئے
Read MoreTag: غزلیں
یہ معرکہ ہے بڑا صبر آزما بھائی ۔۔۔ مظفر حنفی
یہ معرکہ ہے بڑا صبر آزما بھائی کسی کو ٹھیس نہ لگ جائے، دیکھنا بھائی اک اور وار کہ شہ رگ نہیں ہوئی سیراب مرے عزیز ، مرے دیر آشنا بھائی تجھے پتہ ہے کنارے نہیں رہے محفوظ بہائو تیز ہے، مجھ سے نہ دور جا بھائی ہمیں کہ دولتِ آفاق بھی زیادہ نہیں جو ہو سکے تو بس اک سانس بھر ہَوا بھائی یہ اور بات کہ ترکش میں تیر ہی کم ہیں ترے سوا مرا دنیا میں کون تھا بھائی ہر اک طرف سے سمندر مجھے بلاتا ہے…
Read Moreغافر شہزاد
یہ دل، یہ عضوِ معطل، یہ زندگی کا جواز لہو کے ساتھ روابط بحال کرتا نہیں
Read Moreغافر شہزاد ۔۔۔ اک مسلسل طنز ہو جیسے مرے کردار پر
اک مسلسل طنز ہے جیسے مرے کردار پر یوں لگا رکھا ہے میں نے آئنہ دیوار پر اب تو آوازوں کو بھی تصویر کر سکتی ہے آنکھ اتنی کامل ہو گئی ہے دسترس اظہار پر قیدِ تنہائی نے اتنا بے تعلق کر دیا بوجھ سا لگنے لگے ہیں اب تو یہ بے کار پَر میں بھی کچھ اس کی حدوں کے پار آ سکتا نہیں اور وہ بھی گر نہیں سکتا مرے معیار پر چار دیواروں کے اندر حبس کیا کم تھا کہ اب خوف کی دیوار چڑھنے لگ گئی…
Read Moreحامد یزدانی
دل سے امّید کو بجھنے ہی نہ دیوے حامد ٹوٹا پھوٹا ہے دِیا پھر بھی جلا رکھے ہے
Read Moreحامد یزدانی ۔۔۔ ہیں کہیں دُور جُھمبر کی لے کاریاں، کچے صحنوں سے اُٹھتا دھواں ہے کہیں
ہیں کہیں دُور جُھمبر کی لے کاریاں، کچے صحنوں سے اُٹھتا دھواں ہے کہیں گاؤں کی شام ایسی مصورنےبھی پھر کسی کینوس پراتاری نہیں دل کے لاہورکی بُرجیاں، دیکھتے دیکھتے، زیرِ آبِ خیال آگئیں اب کے آنکھوں کا راوی چڑھا تو پس انداز یادوں کی کتنی ہی نظمیں بہیں کیسے کیسے نہ موسم مِرے گھر کی چھت سے گزر کر گماں ہو چکے، دوستو! دوپہر اک دسمبر کی، ٹھہری ہوئی آج بھی گیلی دیوار پر ہے وہیں صبح کی پھیکی پھیکی سی مرطوب حدّت، بدن سے چپکنے لگی ہم نشیں…
Read Moreپروین شاکر
کسی کے دھیان میں ڈوبا ہوا دل بہانے سے مجھے بھی ٹالتا ہے
Read Moreفہمیدہ ریاض ۔۔۔۔۔ جو مجھ میں چھپا میرا گلا گھونٹ رہا ہے
جو مجھ میں چھپا میرا گلا گھونٹ رہا ہے یا وہ کوئی ابلیس ہے یا میرا خدا ہے جب سر میں نہیں عشق تو چہرے پہ چمک ہے یہ نخلِ خزاں آئی تو شاداب ہوا ہے کیا میرا زیاں ہے جو مقابل ترے آ جاؤں یہ امر تو معلوم کہ تو مجھ سے بڑا ہے میں بندہ و ناچار کہ سیراب نہ ہو پاؤں اے ظاہر و مو جود! مرا جسم دُعا ہے ہاں اس کے تعاقب سے مرے دل میں ہے انکار وہ شخص کسی کو نہ ملے گا…
Read Moreخلیل الرحمٰن اعظمی
نشہء مے کے سوا کتنے نشے اور بھی ہیں کچھ بہانے مرے جینے کے لیے اور بھی ہیں
Read Moreخلیل الرحمن اعظمی ۔۔۔ وہ دن کب کے بیت گئے جب دل سپنوں سے بہلتا تھا
وہ دن کب کے بیت گئے جب دل سپنوں سے بہلتا تھا گھر میں کوئی آئے کہ نہ آئے ایک دیا سا جلتا تھا یاد آتی ہیں وہ شامیں جب رسم و راہ کسی سے تھی ہم بے چین سے ہونے لگتے جوں جوں یہ دن ڈھلتا تھا اُن گلیوں میں اب سنتے ہیں راتیں بھی سو جاتی ہیں جن گلیوں میں ہم پھرتے تھے جہاں وہ چاند نکلتا تھا وہ مانوس سلونے چہرے جانے اب کس حال میں ہیں جن کو دیکھ کے خاک کا ذرہ ذرہ آنکھیں مَلتا…
Read More