دیار ِشوق میں آئے تھے ایک خواب کے ساتھ گزر رہی ہے مسلسل کسی عذاب کے ساتھ ہم اہل درد پکارے گئے صحیفوں میں ہم اہل عشق اتارے گئے کتاب کے ساتھ پھر ایک شام پذیرائی چشم تر کی ہوئی پھر ایک شام گزاری گئی جناب کے ساتھ ہمیں یہ خوف اندھیرے نگل نہ جائیں کہیں سو ہم نے جسم کو ڈھانپا ہے آفتاب کے ساتھ ہوا نے سادھ لی چپ،رات نے دعا مانگی ستارہ سہما رہا بجھتے آفتاب کے ساتھ مکالمہ رہا جاری ہماری آنکھوں کا بدن کی شاخ…
Read MoreTag: غزلیں
قلندر بخش جرات
تیرے بیمار سا بیمار نہ ہو گا کوئی جس کو ظاہر میں جو دیکھو تو کچھ آزار نہیں
Read Moreاختر حسین جعفری
کیا مکاں خوردہ خلائق میں چلے اس کا خیال تنگ نائے شہر! کچھ رستہ نکال اس کے لیے
Read Moreاختر حسین جعفری ۔۔۔ ہجر اک حسن ہے، اس حسن میں رہنا اچھا
ہجر اک حسن ہے، اس حسن میں رہنا اچھا چشمِ بے خواب کو خونناب کا گہنا اچھا کوئی تشبیہ کا خورشید نہ تلمیح کا چاند سرِ قرطاس لگا حرفِ پرہنہ اچھا پار اُترنے میں بھی اک صورتِ غرقابی ہے کشتئ خواب رہِ موج پہ بہنا اچھا یوں نشیمن نہیں ہر روز اٹھائے جاتے اسی گلشن میں اسی ڈال پہ رہنا اچھا بے دلی شرطِ وفا ٹھہری ہے معیار تو دیکھ میں بُرا اور مرا رنج نہ سہنا اچھا دھوپ اُس حسن کی یک لحظہ میسر تو ہوئی پھر نہ تا…
Read Moreراغب مراد آبادی (چند جہتیں): اکرم کنجاہی ۔۔۔ نوید صادق
میرا پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔ راغب مراد آبادی (چند جہتیں) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اکرم کنجاہی سے خوش گوار تعارف ان کی شاعری اور ماہ نامہ غنیمت کے حوالہ سے توایک عرصہ سے ہے ، ان کے کچھ مضامین بھی زیرِمطالعہ رہے لیکن راغب صاحب پر ان کی یہ تصنیف میرے علم میں نہ تھی۔ اس کا پہلا ایڈیشن فروری ۲۰۰۱ء میں شائع ہوا اور اب دوسرا ایڈیشن جنوری ۲۰۲۰ء میں رنگِ ادب پبلی کیشنز ، کراچی سے اشاعت پذیر ہواہے۔ اکرم کنجاہی نے ’عرضِ مصنف‘ میں اس کتاب کو راغب شناسی کے حوالہ سے…
Read Moreارشد عباس ذکی ۔۔۔ خزاں کی رت میں شجر سبز ہونے والا نہیں
خزاں کی رُت میں شجر سبز ہونے والا نہیں جو راکھ ہو گیا گھر، سبز ہونے والا نہیں بھلے تو خونِ جگر دے وفا کے پودے کو یہ بات طے ہے کہ سرسبز ہونے والا نہیں یقین ٹوٹ گیا ہے، بھروسہ ختم ہوا یہ برگ بارِ دگر سبز ہونے والا نہیں یہ کوے یوں بھی درختوں سے بغض رکھتے ہیں کہ ان کا ایک بھی پر سبز ہونے والا نہیں گھرا ہوا ہوں درختوں میں اور جانتا ہوں میں ان کے زیرِ اثر سبز ہونے والا نہیں میں اپنے اشک…
Read Moreفہمیدہ ریاض
پھر ہم ہیں، نیم شب ہے، اندیشہء عبث ہے وہ واہمہ کہ جس سے تیرا یقین آیا
Read Moreنعمان فاروق ۔۔۔۔۔ جانے کیا بات بتانے مجھ کو
جانے کیا بات بتانے مجھ کو دھوپ آئی ہے جگانے مجھ کو اب ذرا ہانٹ نہیں کرتے ہیں تیری چاہت کے فسانے مجھ کو جانے کیا یاد دلانے آئے تیری چاہت کے زمانے مجھ کو آئو پانی سے گلے ملتے ہیں پیاس آئی ہے بلانے مجھ کو ہجر کی رُت چلی آئی نعمان تیری چوکھٹ سے اٹھانے مجھ کو
Read Moreشناور اسحاق
دن نکل آیا ہے پھر تہمتِ رونق لے کر آپ کو شہر سے جانا بھی نہیں آتا ہے
Read Moreدیارِ آزر و بہزاد و مانی سے چلے جائیں ۔۔۔ شناور اسحاق
دیارِ آزر و بہزاد و مانی سے چلے جائیں ہم اکثر سوچتے ہیں اِس کہانی سے چلے جائیں ہمیں مٹی سے چھپنے کا ہنر آتا نہیں، شاہا! وگرنہ ہم بھی تیری راجدھانی سے چلے جائیں تو دریا ہے، تجھے اب کیا کہیں ہم اِذن کے قیدی اکیلے ہوں تو ہم تیری روانی سے چلے جائیں لہو کب سے کسی بابِ خفی کی جستجو میں تھا چلو اب اس فشارِ بد گمانی سے چلے جائیں بدن میں گر رہی ہے اوّلیں اِقرار کی شبنم شناور! اس جحیمِ لازمانی سے چلے جائیں
Read More