میں ایک بے برگ و بار منظر کمر برہنہ میں سنسناہٹ تمام یخ پوش اپنی آواز کا کفن ہوں محاذ سے لوٹتا ہوا نیم تن سپاہی میں اپنا ٹوٹا ہوا عقیدہ اب آپ اپنے لیے وطن ہوں میں جانتا تھا گھنے گھنے جنگلوں کے سینے میں دفن ہے جومتاعِ نم وہ کسی طرح بھی نہ لا سکوں گا میں پورے دن کی چتا جلا کر چلا ہوں گھر کو کہ جیسے سورج کے پیٹ میں ٹوٹتی ہوئی آخری کرن ہوں مرا کوئی خواب تھا جسےمیں سجا چکا ہوں بڑی نفاست…
Read MoreTag: غزلیں
قلندر بخش جرات
ہم گلشنِ جہاں میں جوں آتشیں انار اک دم کی زندگی کا تماشا دکھا گئے
Read Moreشناور اسحاق ۔۔۔۔۔۔ زمیں سنولا گئی تھی، آسماں گہنا گیا تھا
زمیں سنولا گئی تھی، آسماں گہنا گیا تھا قلم گم ہو گیا تھا اور دہن پتھرا گیا تھا ہم اپنے منتشر سامان پر بیٹھے ہوئے تھے نئی ترتیب کا پیغام غالب آ گیا تھا بس اتنا یاد ہے ہم بالکونی میں کھڑے تھے اور ان دیکھی زمینوں سے بلاوا آ گیا تھا ہم اک بارہ دری کی سیڑھیوں پر سو گئے تھے اور اک دریا ہمارے خواب سے ٹکرا گیا تھا الجھ پڑتا تھا، اکثر بے سبب، بے وقت ہم سے نظرانداز رہنے سے بدن سٹھیا گیا تھا
Read Moreانشاء اللہ خان
بندہ اُسے جب نظر پڑا ہے بولا ہے ’’ چل اُٹھ، کدھر پڑا ہے‘‘
Read Moreنظیر اکبر آبادی ۔۔۔۔۔ ہم اشکِ غم ہیں اگر تھم رہے رہے نہ رہے
ہم اشکِ غم ہیں اگر تھم رہے رہے نہ رہے مژہ پہ آن کے ٹک جم رہے رہے نہ رہے رہیں وہ شخص جو بزمِ جہاں کی رونق ہیں ہماری کیا ہے اگر ہم رہے رہے نہ رہے مجھے ہے نزع وہ آتا ہے دیکھنے اب آہ کہ اُس کے آنے تلک دم رہے رہے نہ رہے بقا ہماری جو پوچھو تو جوں چراغِ مزار ہوا کے بیچ کوئی دم رہے رہے نہ رہے ملو جو ہم سے تو مل لو کہ ہم بہ نوکِ گیاہ مثالِ قطرۂ شبنم رہے…
Read Moreظفر اقبال
چمک اٹھی ہے شبِ تار تیرے ہونے سے یہ روشنی ہے لگاتار تیرے ہونے سے
Read Moreاظہر فراغ ۔۔۔۔۔ کچھ تو آواز سے شک پڑتا ہے
کچھ تو آواز سے شک پڑتا ہے پھر وہ کنگن بھی کھنک پڑتا ہے پہلے کرتا ہے طلب پہلی نشست پھر اسی بس سے لٹک پڑتا ہے کیسے ساحل سے سمندر دیکھوں میرے زخموں پہ نمک پڑتا ہے راز دار ایک کنواں تھا اپنا آج کل وہ بھی چھلک پڑتا ہے چھوٹے چھوٹے سے ہیں رشتے لیکن واسطہ قبر تلک پڑتا ہے اشک جیسے مرا ہمسایہ ہو وقت بے وقت ٹپک پڑتا ہے اس کے سائے پہ نہ رہنا، مرے دوست! یہ شجر بیچ سڑک پڑتا ہے
Read Moreظفر اقبال
فضا میں اور ہی تصویر بن رہی تھی کوئی مجھے اک اور تماشا دکھائی دینے لگا
Read Moreرحمان حفیظ ۔۔۔۔۔۔ کسی گماں کسی امکان پر تو لکھوں گا
کسی گماں کسی امکان پر تو لکھوں گا میں رحلِ شب پہ بھی ناِم سحر تو لکھوں گا فگار انگلیاں ہو یا پھٹی ہوئی آنکھیں میں لکھنے والا ہوں تازہ خبر تو لکھوں گا کہانیوں سے میں آنکھیں چراؤں گا کب تک؟ چلو زیادہ نہیں ، مختصر تو لکھوں گا سلگ رہاہے تہ ِ فکر جو خیال اسے میں آگ کر نہیں پایا شرر تو لکھوں گا جو میرے قلب سے ابھرا ، نظر میں ٹھہرا ہے یہ ماہتاب کسی چرخ پر تو لکھوں گا ابھی تو دشتِ نظر میں…
Read Moreنجیب احمد
وہ چاندنی، وہ سمندر، وہ رخ بدلتی ہوا وہ شور تھا کہ تلاطم سے ڈر گئے ہم بھی
Read More