تمھارے ہجر کی نیلی کتھا سناتے ہوئے گزر رہا تھا درختوں کو بھی رُلاتے ہوئے خود آپ اپنے گریبان میں بھی جھانک ذرا کسی کی ذات پہ تہمت کوئی لگاتے ہوئے کچھ اس طرح کہ خبر اس کو ہو نہیں پائی شفق نے چوم لیا تھا اسے نہاتے ہوئے پرانی یاد کوئی خوں رُلا گئی اس کو ہماری قبر پہ کتبہ کوئی لگاتے ہوئے مجھے یقیں ہے، کسی کو نہ خلق دیکھے گی ہمارے بعد محبت کا غم اٹھاتے ہوئے
Read MoreTag: غزلیں
الفت رسول
کس زمرے میں آتی ہیں یہ لمبی کالی راتیں چاند اور سورج، مان لیا، ہیں جلوہ نمائے اللہ
Read Moreرحمان حفیظ ۔۔۔۔۔ حسن ایسا کہ جو سب کو نظرآنے کا نہیں
حسن ایسا کہ جو سب کو نظرآنے کا نہیں عشق اِتنا کہ مِرے دل میں سمانے کا نہیں بات ہے اور زباں پر نہیں لانے والی راز ہے اور کسی سے بھی چھپانے کا نہیں جی میں آتی ہے کہ لَے اور اٹھا تا جاؤں اور یہ گیت کسی کو بھی سنانے کا نہیں آپ سودائی ہیں تو شہر میں وحشت کیجے یہ اثاثہ کسی صحرا میں لٹانے کا نہیں آپ ہی اپنے لیے گوشہءعا فیّت ہُوں خود سے نکلوں تو کسی اور ٹھکانے کا نہیں
Read Moreانور شعور
یہیں کٹتا ہے وقت اکثر ہمارا یہی گھر ہے، یہی دفتر ہمارا
Read Moreشناور اسحاق ۔۔۔۔۔۔ اُس بدن میں کوئی روشنی سے جدا روشنی تھی
اُس بدن میں کوئی روشنی سے جدا روشنی تھی تھی تو وہ خاک زادی مگر با خدا روشنی تھی یاد آتے ہی لو دینے لگتی ہیں پوریں بدن کی زیرِ بندِ قبا، سر تا پا، یار! کیا روشنی تھی یہ تو میں کہ رہا ہوں، ہمارے لیے تھی، وگرنہ اُس پہاڑی کے چاروں طرف بے ریا روشنی تھی میں جہاں تھا وہاں بستیوں میں اندھیرے بہت تھے اور جہاں روشنی تھی، وہاں بے بہا روشنی تھی روشنی کے پرستار اک مخمصے میں پڑے تھے اِک طرف تیرگی، اِک بے خدا…
Read Moreمحمد مختار علی ۔۔۔۔۔۔ عشاق بھی کیا نِت نئے آزار خریدیں
عشاق بھی کیا نِت نئے آزار خریدیں اِک غم کی ضرورت ہو تو بازار خریدیں آباد ہے شہروں سے تو ویرانہ ہمارا ! دو دِن کے لیے کیا در و دیوار خریدیں دَستار کو جو ڈھال سمجھتے ہیں وہ سمجھیں ! سَر جن کو بچانا ہے وہ تلوار خریدیں گویائی کی قیمت پہ خریدیں تری آواز ! آنکھوں کے عوض ہم ترا دیدار خریدیں دِن بھر تو بَدن دھوپ میں چُپ چاپ جلائیں پھر شام ڈھلے سایۂ دیوار خریدیں اِک بِھیڑ غلاموں کی وہاں دیکھتی رہ جائے محشر میں مجھے…
Read Moreقلندر بخش جرات
دل کو، اے عشق! سوئے زلفِ سیہ فام نہ بھیج رہ زنوں میں تو مسافر کو سرِ شام نہ بھیج
Read Moreخرم آفاق ۔۔۔۔۔۔ ہمیں بھی کام بہت ہے خزانے سے اُس کے
ہمیں بھی کام بہت ہے خزانے سے اُس کے ذرا یہ لوگ تو اٹھیں سرہانے سے اُس کے یہی نہ ہو کہ توجہ ہٹا لے وہ اپنی زیادہ دیر نہ بچنا نشانے سے اُس کے وہ مجھ سے تازہ محبت پہ راضی ہے، لیکن اصول اب بھی وہی ہیں پرانے سے اُس کے وہ تیر اتنی رعایت کبھی نہیں دیتا یہ زخم لگتا نہیں ہے گھرانے سے اُس کے وہ چڑھ رہا تھا جدائی کی سیڑھیاں آفاق سرک رہا تھا مرا ہاتھ شانے سے اُس کے
Read Moreمرزا عبدالقادر بیدل
مت پوچھ دل کی باتیں، وہ دل کہاں ہے، ہم ہیں اس تخمِ بے نشاں کا حاصل کہاں ہے، ہم ہیں
Read Moreشاہ حاتم
مثالِ بحر موجیں مارتا ہے لیا ہے میں نے اس جگ سے کنارا
Read More