ڈاکٹر اسحاق وردگ ۔۔۔۔۔۔ مرے لیے تو یہ بےکار ہونے والا ہے

مرے لیے تو یہ بےکار ہونے والا ہے یہ دل کہ عشق سے بے زار ہونے والا ہے میں اُس سے خواب کے رستے پہ ملنے آیا ہوں مگر وہ نیند سے بیدار ہونے والا ہے سناہے یوسف ِ ثانی کبھی نہیں آیا سنا ہے ختم وہ بازار ہونے والا ہے میں جس کے نام کے اک دائرے کا قیدی ہوں خبر نہ تھی کہ وہ پَرکار ہونے والا ہے وہ جس کے ہاتھ سے قصے نے موت پائی ہے سناہے صاحب ِ کردار ہونے والا ہے جو فیصلہ سر…

Read More

عابد سیال

رہا نہ اک ذرا تسکین کا یہ پہلو بھی زمانہ درپئے آزار تھا اور اب تو بھی!

Read More

خرم آفاق ۔۔۔۔۔ کوشش کے باوجود بھی ساکن نہیں رہا

کوشش کے باوجود بھی ساکن نہیں رہا کچھ دن میں سامنے رہا، کچھ دن نہیں رہا پہلے یہ ربط میری ضرورت بناؤ گے اور پھر کہو گے رابطہ ممکن نہیں رہا ہم ایک واردات سے تھوڑے ہی دور ہیں وہ ہاتھ لگ گیا ہے مگر چھن نہیں رہا اسکول کے دنوں سے مجھے جانتے ہو تم میں آج تک سوال کیے بن نہیں رہا اک رات اس نے چند ستارے بجھا دیے اُس کو لگا تھا کوئی انھیں گن نہیں رہا

Read More

بانی ۔۔۔۔۔ تھی اپنی اک نگاہ کہ جس سے ہلاک تھے

تھی اپنی اک نگاہ کہ جس سے ہلاک تھے سب واقعے ہمارے لیے دردناک تھے اندازِ گفتگو تو بڑے پر تپاک تھے اندر سے قربِ سرد سے دونوں ہلاک تھے ٹوٹا عجب طرح سے طلسمِ سفر کہ جب منظر ہمارے چار طرف ہولناک تھے اب ہو کوئی چبھن تو محبّت سمجھ اسے وہ ربط خود ہی مٹ گئے جو غم سے پاک تھے ہم جسم سے ہٹا نہ سکے کاہلی کی برف جس کی تہوں میں خواب بڑے تابناک تھے

Read More

یونس خیال

ہمارے دور کے حالات جانچنے والے قدم قدم پہ لکھا اضطراب دیکھیں گے

Read More

افضل خان ۔۔۔۔۔۔ جو یہ کہتے ہیں کوئی پیشِ نظر ہے ہی نہیں

جو یہ کہتے ہیں کوئی پیشِ نظر ہے ہی نہیں کون سی ذات کے منکر ہیں اگر ہے ہی نہیں پھر جو اس شہر میں آنا ہو تو ملنا مجھ سے گھر کا آسان پتہ یہ ہے کہ گھر ہے ہی نہیں بے ارادہ ہی ترے پاس چلا آیا ہوں کام کچھ ہو تو کہوں تجھ سے،مگر ہے ہی نہیں اس لیے ہم کو نہیں خواہشِ حوران ِبہشت ایک چہرہ جو اِدھر ہے وہ اُدھر ہے ہی نہیں لفظ سے لفظ مجھے جوڑنا پڑتا ہے میاں میری قسمت میں کوئی…

Read More

نجیب احمد

بچپن کے واقعات سناتا ہے ان دنوں مجھ کو نجیب خوش نظر آتا ہے ان دنوں

Read More

شناور اسحاق ۔۔۔۔۔۔۔ وجود کی خبر نہیں، عدم سے آشنا نہیں

وجود کی خبر نہیں، عدم سے آشنا نہیں ہمارے پاس کچھ نہیں، ہمارے پاس کیا نہیں اہانتوں کے گھاؤ تھے، گذشتگاں کے داغ تھے کبھی کے مر چکے ہیں ہم، مگر یہ واقعہ نہیں وجود کی جڑوں میں گھر بنا لیا تھا خوف نے ہم اُس کی نذر ہو گئے جو حادثہ ہوا نہیں یہ علتی بہ ذاتِ خود ہے فتنہ ساز، دیکھ لو جہاں جہاں بشر نہیں، وہاں وہاں خدا نہیں نظر، شعور، حسن، وقت۔۔۔ کیا بہم نہیں یہاں مسافروں کی چھوڑیے، یہ راستا برا نہیں

Read More

ظہور نظر

وہ درد کہ آرام سا تھا، اور مجھے دے ہر وقت تڑپنے کی دعا، اور مجھے دے

Read More

مژدم خان ۔۔۔۔۔۔ چہار سمتی تغیر سے کوئی کیسے بچے

چہار سمتی تغیر سے کوئی کیسے بچے جو بچتے ہیں وہ بتاتے نہیں کہ ایسے بچے گزشتہ رات کچھ آنکھیں زمین پر اُتریں اترتے ہی کہا لاؤ انھیں جو مے سے بچے وہ اپنی چال میں آتا نہیں اگر آئے تو ایسے جیسے گلوکار اپنی لے سے بچے ہمارا مسئلہ توحید کی علامت ہے ہم ایک وار کریں گے تُو اس سے جیسے بچے ہماری خودکشی قاتل کا رزق لے ڈوبی ہماری موت سے دشمن کے چار پیسے بچے اسے کہو کہ عدم کچھ نہیں خدا کے سوا نہیں میں…

Read More